حلف اٹھانے کے بعد گورنر سندھ کی وزیراعلیٰ سے ملاقات

حلف اٹھانے کے بعد گورنر سندھ کی وزیراعلیٰ سے ملاقات

  

تجزیہ: نصیر احمد سلیمی

سندھ کے 31 ویں گورنر کی حیثیت سے ممتاز قانون دان بزرگ شخصیت پاکستان کے سابق چیف جسٹس، جسٹس سعید الزمان صدیقی نے گورنر ہاؤس کراچی میں حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سجاد علی شاہ نے لیا۔ تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کچھ صوبائی وزراء، تینوں مسلح افواج کے نمائندے، اعلیٰ سرکاری افسران اور پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن کراچی مسلم لیگ (ن) کے صدر سینیٹر نہال ہاشمی اور سندھ مسلم لیگ (ن) کے سابق سیکرٹری جنرل سینیٹر سلیم ضیاء بھی موجود تھے۔ چیف سیکرٹری سندھ محمد صدیق میمن نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ حلف اٹھانے کے بعد گورنر ہاؤس میں گورنر سندھ جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی اور سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے درمیان ون ٹو ون ملاقات ہوئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں کے درمیان صوبہ کی مجموعی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ تقریب میں سرکاری میڈیا کے سوا میڈیا سے تعلق رکھنے والے کسی اور کو مدعو کیا گیا تھا اور نہ ہی گورنر یا وزیراعلیٰ نے حلف برداری کی تقریب کے بعد کوئی گفتگو کی۔ اہم بات یہ ہے کہ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے صالح فاروقی کو تعینات کیا جائے گا البتہ حلف برداری کی تقریب کے بعد گورنر ہاؤس کے باہر موجود میڈیا کو موجود پاکر کراچی مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر نہال ہاشمی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائے اور کہہ دیا کہ چودہ سال سے گورنر ہاؤس میں دہشت گرد تنظیم نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کی گورنر ہاؤس سے رخصتی سے دہشت گردی کی آخری نشانی بھی رخصت ہوگئی ہے۔ اب گورنر ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کا گورنر آگیا ہے، اب گورنر ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کا ڈیرہ ہوگا۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے غلط جگہ، غلط وقت پر غیر محتاط، غیر ضروری اور غیر سنجیدہ گفتگو کرکے صدر مملکت، وزیراعظم اور وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کے ذمہ داروں کو ایک نئی بحث اور نئی مشکل میں الجھا دیا ہے جس سے وفاقی حکومت نے فوری طور پر لاتعلقی کرنا ضروری سمجھا۔ وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات محترمہ مریم اورنگزیب کو میڈیا پر آکر کہنا پڑا کہ ’’ڈاکٹر عشرت العباد کے حوالہ سے سینیٹر نہال ہاشمی کی گفتگو وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی ترجمانی نہیں ہے بلکہ یہ ان کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے‘‘۔ واضح رہے ڈاکٹر عشرت العباد پر دہری شہریت رکھنے کا الزام سامنے آنے کے بعد آئینی ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ صدر، وزیراعظم اور ریاستی اداروں کے ذمہ دار بتائیں کہ جب ڈاکٹر عشرت العباد نے اپنے اوپر دہری شہریت کا الزام لگنے کے بعد اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی تو وفاق نے خود ان سے اس کی وضاحت طلب کی تھی یا نہیں؟ اور کیا ریاستی اداروں کے پاس ان کی دہری شہریت کے بارے میں درست معلومات تھیں یا نہیں؟ اگر نہیں تھیں اور نہیں ہیں تو کیوں نہیں ہیں؟ کیونکہ آئین پاکستان میں صدر مملکت اور گورنر کے مناصب پر فائز ہونے کیلئے اہلیت کی وہی شرائط رکھی گئی ہیں جو پارلیمنٹ کا رکن بننے کیلئے ضروری ہیں اور پارلیمنٹ کے رکن بننے کیلئے دیگر شرائط کے ساتھ ایک لازمی شرط دہری شہریت نہ رکھنے کی شرط 1973 کے دستور میں واضح طور پر درج ہے اور یہ شرط 1973 کے اس اصل دستور میں درج ہے ۔ دستور کی اس پابندی کے بارے میں کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ 62-63 کی شق کی طرح اصل دستور میں نہیں تھی۔ آئینی ماہرین کے نزدیک اگر ڈاکٹر عشرت العباد پر الزام درست ہے کہ انہیں دہری شہریت کے حامل ہونے کے باوجود گورنر کے منصب پر فائز کیا گیا تو قانون کی نظر میں اس کے اصل ذمہ دار ڈاکٹر عشرت العباد خود اور ان کو اس منصب پر فائز کرنے والی شخصیت ہے اور ریاست کے وہ ادارے ہیں جنہوں نے ان کی سکیورٹی کلیئرنس کی تھی۔ جس میں اس وقت کے صدر کے منصب پر فائز آرمی چیف جنرل پرویز مشرف ہیں جنہوں نے ان کی تقرری کی تھی تاہم اس وقت وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی، بعد میں آنے والے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور وزیراعظم شوکت عزیز، نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو، بعد میں صدر کے منصب پر فائز ہونے والے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، بعدازاں صدر مملکت کے منصب پر فائز ہونے والے موجودہ صدر مملکت جناب ممنون حسین، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز اشفاق کیانی اور موجودہ چیف جنرل راحیل شریف کو بھی آنے والے دنوں میں قانون کی عدالتوں کے سامنے آئینی سوالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہیں گورنر جیسے اہم منصب پر فائز شخص کے بارے میں یہ علم کیوں نہیں تھا کہ اس کے پاس دہری شہریت ہے یا نہیں؟

اب رہی بات یہ کہ سندھ میں گورنر ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کا ڈیرہ ہوگا، یہ نا ممکن ہوگا کیونکہ جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی سے توقع ہے کہ قائداعظمؒ کو رول ماڈل بناتے ہوئے گورنر ہاؤس کو جماعتی سیاست کا ڈیرہ بننے نہیں دیں گے۔ وہ 2008ء میں مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار بنتے وقت یہ بات واضح طور پر کہہ بھی چکے تھے کہ میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوں گا اور نہ ہی جماعتی سیاست کروں گا۔ ویسے بھی صدر مملکت ہو یا گورنر یا سپیکر، اگر وہ اس منصب پر فائز ہونے سے پہلے جماعتی سیاست سے وابستہ بھی ہو تب بھی وہ آئینی مناصب پر فائز ہونے کے بعد جماعتی سیاست اور جماعتی عہدے سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ سندھ میں مسلم لیگ (ن) گورنر ہاؤس میں ڈیرہ ڈالنے سے مضبوط نہیں ہوگی اس کیلئے سیاسی میدان میں مسلم لیگ (ن) کو فعال کرنا پڑے گا۔

مزید :

تجزیہ -