مہندی کے ٹھپے ،پانی کے بلبلے اور تصویری سینما گھر ماضی کا قصہ بن گئے ،خانہ بدوشوں کے ذرائع آمدن محدود

مہندی کے ٹھپے ،پانی کے بلبلے اور تصویری سینما گھر ماضی کا قصہ بن گئے ،خانہ ...

  

لاہور ( رپورٹ: دیبا مرزا ) صوبا ئی دارالحکومت میں بسنے وا لے خا نہ بدو ش روزمرہ کی ضرویات پوری کرنے لئے بچوں کے کھلو نے ،مہند ی کے ٹھپے اور پا نی کے بلبلے گلی محلو ں میں فروخت کرنے کے علاوہ تصویری سینما گھر دکھاتے نظر آتے تھے لیکن زمانے کی جدت نے ان کا ذریعہ معاش تقریباً محدود کر دیا ہے جس کے باعث ان کے لئے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے ،موسم کی تبدیلی بھی خانہ بدوشوں کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے خصوصاً سردیوں میں چھت اور گرم کپڑے و لحاف نہ ہونے سے ان کی زندگی بہت کٹھن ہو جاتی ہے ۔روز نا مہ پا کستا ن کے سروے کے مطا بق پو ر ے لاہور کے ارد گرد کھلی جگہوں پر تقر یباً لا کھوں کی تعداد میں خانہ بدوش خیمہ زن ہیں ان کے مرد گدھا ریڑھی اور کچرا اکٹھا کر کے بچوں کا پیٹ پا لتے ہیں۔ سروے کے دوران خا نہ بدوش اصغر نے پا کستا ن سے با ت کر تے ہو ئے بتا یا کہ پہلے تو پھر بھی گزر اوقا ت ہو جا تی تھی لیکن اب تو وہ بھی نا ممکن ہے پورا دن محنت کر نے کے بعد بھی اتنے پیسے اکھٹے نہیں ہو تے کے دو وقت کا کھا نا کھا لیں ۔ خا نہ بدو شوں کی خوا تین صغریٰ بی بی ،سا جدہ بی بی نے بتا یا کہ ہم لو گ گلی محلو ں میں جا کر کچرا کھٹا کر کے اور مہندی کے ٹھپے لگا کر اپنے مردوں کی مدد کر تی تھیں لیکن وقت گزرنے کے سا تھ اور فیشن تبد یل ہو نے کے بعد اب کو ن ہما رے مہندی کے ٹھپے لگوا تا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ حکو مت کو اور خوا تین کے حقوق کے لئے کا م کر نے وا لی تنظیموں کو ہما رے مسا ئل نظر نہیں آتے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا بھی دل چا ہتا ہے کہ ہمارے بچے بھی دوسرے بچوں کی طرح پڑھیں اور امیروں کی طرح زند گی گزاریں لیکن مناسب ذریعہ معاش نہ ہو نے کی و جہ سے ہم اپنے بچوں کوتعلیم سمیت دیگر سہولتیں نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ خا نہ بد وشی ہما رے ابا ؤاجداد کے وقت سے چلتی آرہی ہے ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے لیکن حکو مت کو چا ہیے کہ ہماری طرف تو جہ دے

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -