اعلیٰ تعلیم کیلئے کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی صف اوّل کا ادارہ

اعلیٰ تعلیم کیلئے کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی صف اوّل کا ...

  

راولپنڈی (خصوصی رپورٹ) کامسیٹس انسٹیٹیوٹ آ ف انفارمیشن ٹیکنا لو جی پاکستان میں اعلیٰ تعلیم ڈگری جاری کرنے والا صٖف اول کا ادارا کامسیٹس کمیشن کا ’’سینٹر آف ایکسیلنس‘‘ ہے ۔ کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی جو 1998 میں قائم ہو ا آج بنیا دی سائنس سے لے کر دنیا میں ابھرنے والی جدید ترین ٹیکنا لو جیز پر مبنی تعلیمی پروگرامز کی وسیع رینج اور بین الشعبہ جاتی ریسر چ سینٹرز کے نیٹ ورک کی بنا پر پاکستا ن میں سب سے تیزی سے ترقی کرنیوالا تحقیقی ادا رہ ہے ۔یہ انفرادی وصف کی بنیا د پر ایم ایس اورپی ایچ ڈی تک کی اعلیٰ تعلیم کیلئے ایک مثالی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے ۔اپنے قیام سے لے کر اب تک کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی نے اپنے لائحہ کا ر کے تین بنیا دی نکا ت، تحقیق و دریافت ، تحقیق و رہنما ئی اورحد رسائی اور عوام کی خدمت پر عمل پیرا ہو تے ہوئے ،کیمپسز ،طلبہ کی تعداد ، فیکلٹی ممبرز ، تعلیمی پروگرامز ، تحقیق اور عوام تک حد رسا ئی کو وسعت دینے کے معاملے میں نما یاں ترقی کی ہے ۔ہائیر ایجو کیشن نے 2016میں کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی کو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم دینے والے دس بہترین اداروں کی فہر ست میں شامل کیا ہے ۔انتہا ئی قلیل عرصے میں ادارہ ہٰذ ا کے کیمپسز کی تعداد ایک سے سات ہو گئی ہے اور اب ورچو ئل کیمپس کے علاوہ ایبٹ آبا د، واہ ، لاہور ،اٹک ، ساہیو ال اور وہا ڑی میں بھی اس کے کیمپسز مو جو د ہیں ۔کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی کے ریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی(ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز) معیشت کی ترقی کے لیے تعلیم کی اہمیت سے بخو بی آگا ہ ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ادا رے میں معیار تعلیم کو بڑھا نے کے سا تھ سا تھ تحقیق کے عمل کو ترقی دینے کے لیے ہمہ وقت کو شاں ہیں ۔ کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی کا 96واں اور 97واں کانو و کیشن منعقد کیا گیا جس کے تحت دو مختلف تقریبات میں 9سو 48طلبہ کو گریجو ایشن اور پوسٹ گریجو ایشن کی ڈگریوں سے نو ازا گیا ۔ ادارہ ہٰذ ا کے ریکٹر ڈاکٹر ایس ۔ ایم ۔ جنید زیدی (ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز)نے اس مو قع پر حا ضر ین سے خطا ب کر تے ہو ئے کہا کہ حصول علم کی لگن اور اعلیٰ تعلیم سے مو جودہ دنیا کے ہر شعبے میں حقیقی تبدیلیاں رو نما ہو ئیں ہیں ۔اس ادارے نے تعلیم کی بنیا د پر ایک نئے سو شو اکنا مک کلچر تشکیل دینے کا بیڑہ اٹھا یا ہے تاکہ وطن عزیزعہد حا ضر میں گلو بلا ئزیشن کے جدید چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکے ۔دریں اثنا کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی کے امتحانا ت کے ڈپٹی کنٹرولر عنا یت الر حمٰن نے چانسلر کو سکرول پیش کیا ۔ کا نو و کیشن کی دو مختلف تقریبات میں اسلام آباد کیمپس سے تعلیم مکمل کرنے والے948طلبہ کو بی ایس ، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں سے نوا زا گیا ۔سائنس اور ٹیکنا لو جی کے وفاقی وزیر اور کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی کے چا نسلر رانا تنویر حسین کا نو و کیشن کی صبح کی تقریب کے مہما ن خصو صی تھے۔ انھوں نے کامیاب ہونے والے طلبہ میں ڈگریاں اور میڈلز تقسیم کیے ۔ اپنے خطاب کے دوران انھوں نے کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی کے اساتذہ کی کوششوں ، مینجمنٹ اور وژنری لیڈر شپ کو سراہا ۔انھوں کے کہا کہ کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی کو ذمہ داریوں کا بخو بی احسا س ہے اور یہ ادا رہ تعلیم کے لیے معا ون اور مؤثر ماحو ل مہیا کر تے ہو ئے ا نفرا دی ترقی اور سیکھنے کے بہترین موا قع فرا ہم کرنے کے لیے پر عزم ہے ۔ کا نو و کیشن کی تقریبات میں کیمپس کے انچا ر چ پر و فیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے ’’انسٹیٹیو ٹ رپو رٹ ‘‘ پیش کی ۔شام کے سیشن میں آزا د کشمیر کے صدر مسعود خان مہما ن خصو صی تھے انھو ں نے حا ضرین سے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ تر قی یا فتہ مما لک نے اپنی ریا ستوں میں صنعت ، جدت ، ٹیکنا لو جی اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ پر خصو صی توجہ دی ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کا تصور تبدیلی کے دور سے گز ر رہا ہے ۔ ہماری قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے تصور میں اس طرح ترمیم کرے کہ بیک وقت اس کا تعلق ماضی اور حال کے تصورات سے منسلک اور یہ مستقبل کے تقا ضو ں پر بھی پور ا اترے ۔ کامسیٹس انسٹیٹیو ٹ آف انفارمیشن ٹیکنا لو جی نہ صرف اعلیٰ تعلیم کی ترقی کے لیے کو شاں بلکہ وہ اسے عوام ، معاشرے ، حکو مت اور طلبہ کی ضروریات کے عین مطابق تشکیل دینے کیلئے کو شش کر رہا ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -