جام پور اراضی ریکارڈ سنٹر میں کرپشن کی تصدیق شدہ رپورٹ سرخ فیتے کی نذر، کارروائی نہ ہو سکی

جام پور اراضی ریکارڈ سنٹر میں کرپشن کی تصدیق شدہ رپورٹ سرخ فیتے کی نذر، ...

  

لاہور(عامر بٹ )ڈی سی او راجن پور کی جام پور میں اراضی ریکارڈ سروس سنٹر کی نوٹ پڑتال ،ریکارڈ کی درستگی میں سستی اور تاخیر ،انتقالات کی تصدیق میں رکاوٹ ،کیپٹل ویلیو ٹیکس کی وصولی کی مد میں حکومتی خزانے کو نقصان کی نشاندہی،زائد از حصہ کے انتقالات کا اندراج،فیسوں کی وصولی میں لاکھوں کے غبن ،رشوت وصولی ،حکم امتناہی کے باوجود فردات کا اجراء،اختیارات کے ناجائز استعمال ،ریونیو ریکارڈ سے ناواقفیت،کام میں نالائقی ،سنگین اور تصدیق شدہ الزامات کے تحت مرتب کی جانے والی رپورٹ سرخ فیتے کی نذر ہوگئی ،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب جواد رفیق ملک ،ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر پنجاب مقبول احمد دھاولہ اور کمشنر ڈ یرہ غازی خان ڈویژن 80روز گزرجانے کے بعد بھی اراضی ریکارڈ سنٹر کے ذمہ داران سٹاف کے خلاف کوئی محکمانہ کارروائی نہ کر سکے ،مقامی ایم پی اے ،ایم این اے کی سفارشات قبو ل ،میرٹ اور قانون سازی کو نظر انداز کر دیا گیا ،شکایات کا اندراج کرنے والے شہریوں کی کثیر تعداد اعلیٰ انتظامی افسران کی عدم توجہ ،عدم کارروائی اور کرپٹ سٹاف کو تحفظ فراہم کردہ پریکٹس کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے ،چیف سیکریٹری پنجاب سے نوٹس لینے کی اپیل کر دی تفصیلات کے مطابق بورڈ آف ریونیو کے شعبہ لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کی جانب سے اراضی ریکارڈ سروس سنٹرز پر تعینات کے جانے والے سٹاف کی کرپشن ،رشوت وصولی ،اختیارات کے ناجائزاستعمال ،بد نیتی ،نالائقی،ناتجربہ کاری ،بد نیتی اور کام میں عدم دستیابی کی تمام تر شکایات اور الزامات کی تصدیق تو خودی ایل آر ایم آئی ایس انتظامیہ کر چکی ہے اور انہی الزامات کے تحت 100سے زائد سے کرپٹ ملامین کو محکمے سے بھی نکالا جا چکا ہے اور اس حوالے سے محکمہ اینٹی کرپشن ،نیب ،صوبائی محتسب ،سی ایم انسپکشن ٹیم ،سپیشل برانچ کے اعلیٰ افسران کی جانب سے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس معاملے میں کی جانے والی بریفنگ اور تفصیلی مرتب کردہ رپورٹ بھجوائی جاچکی ہے جس میں اراضی ریکارڈ سنٹر کے سٹاف کو نا صرف رنگے ہاتھو ں رشوت وصولی کرتے ہوئے گرفتاریاں عمل میں لائی گئی بلکہ رشوت وصولی کے 100فیصد الزامات کے تحت اندراج کئے جانے والے مقدمات کا بھی ریفرنس دیا گیا ،پٹوار کلچر کے خاتمہ کا دعویٰ کرنے والی انتظامیہ اور سٹاف ان سے بھی بڑھ کر کرپٹ نکلے ۔20-08-2016کو ڈی سی او راجن پور کی جانب سے مرتب کی جانے والی رپورٹ نے بھی تمام حقائق واضح کئے مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب جواد رفیق ملک ،ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر پنجاب مقبول احمد دھاولہ ،پراجیکٹ ڈائریکٹر پنجاب جہانزیب احمد خان سمیت ،کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن نے بھی 100روز گزر جانے کے بعد بھی اس رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کرنے یا ذمہ داران کا تعین کرنے کے حوالے سے کوئی عملی ا قدام نہ کئے ہیں بلکہ کاغذی کارروائی پردہ پوشی اور تحفظ فراہم کروہ پالیسی کے تحت اس اہم نوعیت کی انسپکشن رپورٹ کو بھی نظر انداز کر دیاہے ،دوران انسپکشن ڈی سی او راجن پور نے اراضی ریکارڈ سنٹر جا م پور کے سٹاف کی کارکردگی کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ کھیوٹ ،موٹیشن ایشوز ،انتقالات کی تصدیق میں تاخیر ،مسنگ انتقالات اور سرکاری فیسوں کی وصولی میں بے پناہ غبن کا سلسلہ جاری ہے ۔اس کے علاوہ مقامی شہریوں جن میں فلک شیر ،محمد بخش،رحیم بخش،نذیراحمد ،خمیسی ،مرید حسین نے بھی الزام عائد کیا کہ عملہ اختیارات کر رہا ہے حکم امتناہی کی موجودگی کے باوجود فردات جاری کر رہا ہے ،جائز کام کے لئے بھی رشوت وصولی کی جارہی ہے،زائد از حصہ کھاتہ جات کے اندراج اور انتقالات درج کئے جارہے ہیں ،3مرلہ والے کو 6مرلہ اور 6مرلہ والے کو 12مرلہ کا کیا جارہا ہے ۔انسکپشن رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انتہائی سنگین غلطیوں کے مرتکب سٹاف کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاہم ڈی سی او راجن پور کی انسپکشن رپورٹ ردی کی ٹوکری میں پھینکی جا چکی ہیں اور بورڈ آف ریونیو،لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے اعلیٰ عہدوں پر فائز انتظا می افسران کی جانب سے اس پر تاحال کوئی نوٹس نہ لیا گیا اور نہ ہی ذمہ داران کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔شہریوں کی کثیر تعداد نے اس حوالے سے سراپا احتجاج بن چکی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب ،چیف سیکریٹری پنجاب سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -