حکومت نے آئین اور عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں کرنا تو اداروں کو بند کر دیتے ہیں: ہائیکورٹ

حکومت نے آئین اور عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں کرنا تو اداروں کو بند کر دیتے ہیں: ...

  

لاہور(نامہ نگار)لاہور ہائی کورٹ نے عدالتی احکامات نظر انداز کرنے پرمحکمہ صحت کے افسران،ایم ایس گنگا رام اور ایم ایس سروسز ہسپتال پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکومتی گڈ گورننس کا یہ عالم ہے کہ اپنے ہی شہریوں سے امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے اگر حکومت نے آئین اور عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں کرنا تو اداروں کو بند کردیتے ہیں۔گزشتہ روزز مسٹر جسٹس شجاعت علی خان کی عدالت میں درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود گنگا رام اور سروسز ہسپتال میں 2003کے بعد مستقل ہونے والے جونئیر کلرکوں اور اسسٹنٹس کو پینشن اور دیگر مراعات سے محروم رکھ کر امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔محکمہ صحت پنجاب کے افسران،ایم ایس گنگا رام اور ایم ایس سروسز ہسپتال کی جانب سے غیرتسلی بخش جواب دینے پر عدالت نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرنا تو بھرتیوں کے معاملے کی انکوائری کا معاملہ نیب کو بھجوا دیتے ہیں،فاضل جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی ادارے میں ملازمین کے ساتھ دوہرا معیار اختیار کر کے امتیازی سلوک برتا جا رہاہے،آئین کو پس پشت ڈال کر کس قانون کے تحت ملازمین کا استحصال کر کے امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔ سیکرٹری صحت اس حوالے سے حکومتی پالیسی کی ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر وضاحت کریں،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ حکومتی گڈ گورننس کا یہ عالم ہے کہ اپنے ہی شہریوں سے امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے،اگر حکومت نے آئین اور عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں کرنا تو اداروں کو بند کردیتے ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری صحت کو پالیسی بیان دینے کے لئے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیاہے۔

مزید :

صفحہ آخر -