امریکی سائنسدانوں نے کتاب کو کھولے بغیر پڑھنا ممکن بنا دیا

امریکی سائنسدانوں نے کتاب کو کھولے بغیر پڑھنا ممکن بنا دیا
امریکی سائنسدانوں نے کتاب کو کھولے بغیر پڑھنا ممکن بنا دیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ نے کبھی تصور کیا ہے کہ کسی کتاب کو بغیر چھوئے پڑھا جاسکے ؟ کتاب کو پڑھنے کے لیے اسے چھونا اور کھولنا ضروری ہے۔ چھوئے اور کھولے بغیر اسے پڑھنا صرف جادوئی فلموں میں ہی ممکن ہے لیکن اب یہ جادوئی تصور حقیقت بننے جارہا ہے۔امریکہ کی میسا چوسٹس یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایسی ٹیکنالوجی تخلیق کرلی ہے جس کی مدد سے کتاب کو کھولے بغیر اس کے اندر لکھے ہوئے لفظ آپ کے سامنے آجائیں گے۔اس ٹیکنالوجی میں ٹیراہرٹز شعاعوں کے ذریعے کتاب کے اندر لکھے الفاظ کی تصویر کشی کی جائے گی اور یہ الفاظ ایک علیحدہ کاغذ پر آپ کے سامنے لکھے ہوئے آجائیں گے۔ٹیراہرٹز شعاعیں ایکسریز سے مختلف ہوتی ہیں اور یہ لکھے ہوئے لفظ اور سادہ کاغذ میں فرق کر سکتی ہیں۔اس ٹیکنالوجی میں میوزیم کے مالکان نے بے حد دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے اگر یہ ٹیکنالوجی کامیابی سے استعمال کے قابل قرار دے دی جاتی ہے تو انہیں ان قدیم اور تاریخی کتابوں کو پڑھنے میں آسانی ہوگی جو نہایت خستہ ہیں اور خستگی کی وجہ سے ان پر لکھے ہوئے لفظ پڑھے نہیں جاسکتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کاغذ کے علاوہ مختلف اقسام کی اشیا پر لکھی گئی تحاریر کو بھی پڑھ سکے گی۔

مزید :

صفحہ آخر -