مظاہرے، دھرنے، ٹریفک جام، پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا

مظاہرے، دھرنے، ٹریفک جام، پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا
 مظاہرے، دھرنے، ٹریفک جام، پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا

  

محنت کشوں، پیشہ وروں اور شہریوں کے مفادات اور بہبود کی خاطر جو بھی تنظیم، انجمن یا یونین قائم ہوتی اور بنتی ہے، بنیادی طور پر اس کا کام اپنے اراکین کے لئے حاصل مراعات کا تحفظ اور مزید کے لئے جدوجہد کرنا ہوتا ہے جبکہ محنت کشوں( مزدوروں+سفید پوش)کی یونین سازی روزگار کے تحفظ کے لئے بھی ہوتی ہے، اور یہی وہ بڑا مسئلہ ہے جو ہر ٹریڈ یونین کو درپیش رہتا ہے کہ کارکن بے روزگار کئے جاتے ہیں تو ان کی بحالی کے لئے جدوجہد بھی کرنا پڑتی، اس کے لئے اجتماعات ، مظاہرے اور جلوس بھی نکالنا پڑتے ہیں،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی،ایف،یو، جے) ہم سفید پوش قلم مزدوروں کی وفاقی تنظیم ہے(آج کل حالات ذرا مختلف بھی ہیں) ہم نے صحافت میں قدم رکھنے کے بعد سے ہی اس تنظیم کی جدوجہد میں شمولیت کرلی تھی اور تادم تحریر وابستگی ہے اگرچہ تنظیم کی تقسیم اور مفادات کی لڑائی کے باعث ہم محترم نہیں ہیں، بہر حال وہ دور تھا جب یہ تنظیم بڑی فعال اور متحرک تھی، اسے منہاج برنا،نثار عثمانی اور آئی، ایچ، راشد جیسے مستقل مزاج صدور بھی ملے، پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈی ننس سے لے کر آزادی صحافت ، تحفظ روز گار، ویج ایوارڈ اور کارکنوں کی بحالی کے لئے اس وفاقی انجمن اور ضلعی تنظیموں کی ایک اپنی تاریخ ہے، بڑی بڑی تحریکیں چلیں، ڈنڈے، آنسو گیس، تھانوں، حوالاتوں اور جیلوں کی یاترا بھی ہوئی، تحریکیں کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئیں اور بعض کے نتائج حسب منشاء نہ ملے، اس کی ایک مثال نیشنل پریس ٹرسٹ ہے، دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پی،ایف،یو، جے بھی ’’نیشنل پریس ٹرسٹ توڑ دو‘‘ اور مالکان کی تنظیمیں بھی ٹرسٹ کو توڑ دو والا مطالبہ کرتی تھیں، اس میں فیڈریشن کو ناکامی کا سامنا ہوا کہ نیشنل پریس ٹرسٹ تو ٹوٹ گیا لیکن اخبارات زندہ نہ رہے اور بند ہو گئے کارکنوں کو بے روز گار اور دربدر ہونا پڑا، اس سلسلے میں آج جب تجزیہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری اپنی فیڈریشن نے کو تاہی کا مظاہرہ کیا کہ مطالبہ تو کیا لیکن متبادل حل پیش نہ کیا۔

بہر حال یہ طویل کتھا ہے ، اللہ نے ہمت اور توفیق دی تو یاد داشتوں پر مشتمل کتاب میں ذکر کریں گے آج تو ہمیں نظم و ضبط کا ذکر کرنا ہے، کہ اس تنظیم کے تحت 1963ء ،1970ء ،1974ء اور1977ء میں بڑی بڑی تحریکیں چلیں، 1970ء ہی سے ہمارے قائدین نے مزدوروں کی دوسری تنظیموں سے روابط بڑھا کر مشترکہ جدوجہد کی راہ لگائی تھی اور جب بھی ہمارے جلوس نکلتے تو ہمارے ساتھ دوسری مزدور تنظیموں کے حضرات بھی شامل ہوتے، یوں ایک بڑا جلوس بن جاتا تھا، اب اس جلوس کی ہیئت اور تنظیم ملاحظہ فرمائیں تو آج کے دور میں ہونے والے احتجاج غنڈہ گردی نظر آتے ہیں، تب ہمارے جلوس روانہ ہوتے تو ابتدا ہی میں ہم جیسے کارکنوں کی ڈیوٹی لگ جاتی کہ جلوس ایک قطار میں اور منزل کی طرف جاتے ہوئے ٹریفک کو بند نہ ہونے دیا جائے، چنانچہ یہ جلوس ہمیشہ سڑک کے بائیں چلنے قطار کا تسلسل رکھنے کی کوشش کی جاتی اگر کوئی نوجوان قطار سے باہر آتا تو اسے واپس بھیجا جاتا تھا اور اہتمام کیا جاتا، کہ دائیں طرف سے ٹریفک گزرتی رہے، اکثر ایسا ہوا کہ کسی ایمبو لینس کے سائرن یا کلمہ شہادت کی آواز پر جلوس کو روک کر ایمبو لینس اور جنازے کو گزرنے کا موقع دیا جاتا، ایسے مظاہروں پر بھی پولیس نے حکام کی مرضی کے مطابق کئی بار آنسو گیس اور ڈنڈے بازی کا بھی مظاہرہ کیا جبکہ ایک دوبار رضا کارانہ گرفتاریاں دی گئیں تو ایسے ہی بعض اوقات پولیس نے گرفتار بھی کیا، یوں یہ بھی نہیں کہ ہمارے ساتھ کوئی رعائت کی جاتی تھی، اس کے باوجود پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈی ننس کے اختتام،بند اخبارات کی بحالی، اور برطرف کارکنوں کو ملازمتوں پر واپس کرانے سمیت ویج ایوارڈ بھی حاصل کیا اور اس کے لئے قانون کا تحفظ بھی مل گیا۔مطلب یہ کہ ٹریفک بند کئے اور شہریوں کو پریشان کئے بغیر بھی ہماری تحریکیں چلیں موثر رہیں اور ہم نے کامیابی بھی حاصل کی، آج صورت حال بہت مختلف ہے، اگر آج کا موازنہ کریں تو سڑکوں پر ٹائر جلا کر راستہ بند کرنے اور کسی اہم چوراہے پر دھرنا دے کر بیٹھ جانے کا نام ہی احتجاج ہے، یہ تاثر بنالیا گیا کہ جب تک ٹریفک کو روکا اور شہریوں کو پریشان نہیں کیا جائے گا بات نہیں سنی جائے گی، آج کے دور میں جب لاہور پہلے ہی ترقیاتی کاموں کی وجہ سے متاثر ہے احتجاج کا فیشن دھرنا ہوگیا اور اس کے لئے ٹریفک بند کرنا ضروری ہے، فیصل چوک اور پریس کلب (شملہ پہاڑی)دو ایسے مقام ہیں جو ٹریفک کی روانی کے حوالے سے حساس ہیں، فیصل چوک میں دھرنا یا مظاہرہ کر کے راستہ بند کیا جائے تو ٹریفک کا دباؤ مال روڈ پر ہی نہیں، ملحضہ سڑکوں میکلوڈ روڈ، شاہراہ فاطمہ جناح، لارنس روڈ اور جیل روڈ کے علاوہ فیروز پور روڈ پر بھی بڑھتا ہے، شملہ، پہاڑی پر مظاہرہ سر آغا خان روڈ، ایمپریس روڈ، ایجرئن روڈ اور ملحقہ سڑکوں پر دباؤ آتا ہے، اگر ایک ہی وقت میں دونوں مقامات پر مظاہرہ ہو تو پھر دباؤ پورے شہر پر ہوتا ہے ، پہلے ہی گاڑیاں زیادہ ہو چکی ہیں اس پر ٹریفک بند ہو جائے تو پھر یہ جام کئی گھنٹوں تک چلتا ہے، اس میں کئی مریض اللہ کو پیارے ہوئے، اکثر حضرات ائیر پورٹ نہ پہنچے اور پرواز مِس کر گئے جبکہ باقی تمام شہری بھی کسی نہ کسی نقصان سے دو چار ہوئے۔

آج کل مسیحا شہریوں کی جان کا آزار بنے ہوئے ہیں ان کی ہڑتال کے باعث مریضوں کودشواریاں پیش آئیں اور بعض اموات بھی ہوئیں جن کے ذمہ دار یہ ڈاکٹر ٹھہر ائے جاتے ہیں، اب صورت حال یہ ہے کہ یہ ڈاکٹر اور نرسیں جو ہڑتالی ہیں اپنے دھرنے کے باعث ٹریفک بند کر کے شہریوں کی حمائت سے محروم ہو گئے ہیں اگر ان پر کوئی آفت آئی تو یہ عوام سے کسی ہمدردی کی توقع نہ رکھیں۔ڈاکٹر حضرات کا دھرنا کلب چوک(مال روڈ) پر ہے اور چوک میں ٹریفک بند کرنے سے خوفناک ’’جام‘‘ کا منظر ہوتا ہے، یہ لوگ اپنے ان اقدامات کے باعث عوامی حمائت سے محروم ہو چکے ہیں، لوگوں کو پریشان کر کے یہ عوامی حمائت تو حاصل نہیں کرسکتے جس کی ان کو ضرورت ہوتی ہے، اس لئے بہتر عمل یہ ہے کہ یہ مظاہرین کوئی اور راستہ اپنا ئیں جس میں شہریوں کو پریشانی نہ ہو اور ان کا احتجاج بھی ہوجائے موجودہ حالات برقرار رہے تو عوام کی ہمدردیاں حاصل ہونے سے پہلے ہی ’’کچھ‘‘ ہو جائے گا اور پھر ان کی حمائت بھی نہیں ہوگی اس لئے سرکاری فیصلہ مان لینا چاہیے۔

مزید :

کالم -