کیسے کیسے لوگ رخصت ہو گئے اب کے برس

کیسے کیسے لوگ رخصت ہو گئے اب کے برس
 کیسے کیسے لوگ رخصت ہو گئے اب کے برس

  

جانے والوں کی ایک قطار ہے کہ تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ تُو چل، مَیں آیا کی کیفیت ہے۔ اس موقع پر مجھے اعتبار ساجد کا مقطع برمحل یاد آ رہا ہے:

ایک ہم ساجدؔ کہ زندہ ہیں نجانے کس لئے؟

کیسے کیسے لوگ رخصت ہو گئے اب کے برس

کیسے کیسے لوگوں میں ایسے ویسے، لوگ شامل نہیں ہیں کہ وہ تو بیس کروڑ ہیں مگر نابغۂ روزگار،جینئس اہلِ علم و فکر، معتبر اہلِ قلم اس قدر کثیر تعداد میں پھر کہاں؟ یہ تو وہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے کہ نہ پورا ہو سکتا ہے نہ ان کا کوئی متبادل یا نعم البدل میسر ہو گا۔!

3نومبر2016ء کو لاہور میں یاور حیات بھی چل بسے۔ یاور حیات پی ٹی وی کی ابتدا سے وابستگان میں سے تھے اہم ہی نہیں اہم ترین، ذہین، طباّع، منفرد پروڈیوسر تھے، پی ٹی وی کو ڈراموں میں نئی شناخت دینے والے۔ ایسے ایسے ڈرامے پیش کئے جو ناظرین کے ذہنوں میں نقش ہیں، ڈراما اور یاور حیات ، یاور حیات اور ڈراما لازم و ملزوم تھے۔ بہت اچھے پروڈیوسر، بہت اچھے انسان دوسروں کے کام آنے والے، گویا:

ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

میری نجانے کب سے اُن سے قابلِ احترام دوستی تھی ایک روز شدید گرمیوں کے دِنوں ملتان میں ’’شیزان‘‘ ریسٹورنٹ کے ٹھنڈے ٹھار ماحول میں مل گئے، مَیں کسی مشاعرے میں شرکت کرنے ملتان گیا ہُوا تھا اور ’’شیزان‘‘ کی بے پناہ خوشگوار ٹھنڈک میں گرم چائے کے مزے لے رہا تھا کہ وہ اچانک میری میز پر آئے اور گرم جوشی سے معانقہ کیا؟ مَیں نے کہا مَیں تو مشاعرے میں شرکت کرنے آیا ہوں، آپ یہاں کہاں؟ کہنے لگے ’’ٹیلنٹ ہنٹنگ‘‘ کے لئے۔ مَیں نے کہا چلیں میرے ساتھ مَیں ’’ٹیلنٹ‘‘ ’’ہنٹ‘‘ کرواتا ہوں، چائے پئے بغیر ہی وہ جھٹ چلنے کو تیار ہو گئے کہ جیسے بہت جلدی میں ہوں، مَیں اُنہیں ’’امروز‘‘ ملتان کے دفتر لے گیا جہاں مسعود اشعر ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھے، مَیں نے کہا کہ روزنامے کے ایڈیٹر ہونے کے ناتے یہ محض صحافی نہیں بہت اچھے افسانہ نگار بھی ہیں۔ مَیں اُن کے افسانے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں چھاپتا ہوں، مجھ سے پہلے ’’مدیران‘‘ انتظار حسین اور میرزا ادیب بھی انہیں چھاپتے تھے۔ ان سے ڈراما لکھواؤ یا ان کے کسی اپنے ہی افسانے کی ڈرامائی تشکیل کراؤ۔چنانچہ یوں یاور حیات نے میری ہمراہی میں ٹی وی کے لئے مسعود اشعر جیسے ’’ٹیلنٹ‘‘ کو ’’ہنٹ‘‘ کیا اور یُوں اُن کا ملتان کا دورہ بڑا فروٹ فُل رہا۔۔۔

ایک بار آج کے مشہور اداکار، صداکار راشد محمود مجھے فیصل آباد میں مل گئے وہ اُن دنوں ’’میڈیکل رَیپ‘‘ تھے اور دوائیوں کے سیمپل ڈاکٹروں کو دینے اور اپنی دواؤں کی کمپنی کے لئے آرڈر لینے فیصل آباد میں چوک گھنٹہ گھر کے گِرد گھوم رہے تھے، وہ مشہورِ زمانہ شاعر یعنی اپنے والد نازش کاشمیری سے برگشتہ خاطر تھے اور ان کے نام کا سہارا لئے بغیر خود اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر خود کو پی ٹی وی میں بطور فنکار منوانے کی خواہش رکھتے تھے، مجھ سے سرِ راہ بڑے تپاک سے ملے اور چھوٹتے ہی کہنے لگے ’’یاور حیات صاحب آپ کے دوست ہیں ان کے نام سفارشی رقعہ لکھ دیں کہ وہ مجھے اپنی پروڈکشن میں ڈراموں میں چانس دیں‘‘۔مَیں نے کہا کوئی کاغذ کوئی لیٹر پیڈ ہے؟ کہنے لگے ’’نہیں‘‘مَیں نے فی الحقیقت سڑک پر پڑی ہوئی سگریٹ کی خالی ڈبی اُٹھائی اسے پھاڑ کے خوبصورتی سے رقعہ بنایا دو سطریں خوش خط لکھیں کہ ’’راشد محمود کے ٹیلنٹ کو ڈرامے میں اداکاری صدا کاری کا موقع دے کر طشت ازبام کریں، آپ کا مخلص، ناصرزیدی‘‘۔ چنانچہ آج کے راشد محمود ’’پرائیڈ آف پرفارمنس ‘‘ پانے والے ٹی وی ریڈیو کے فنکار ہیں۔ ’’میڈیکل ریپ‘‘ قصۂ پارینہ ہُوا۔ آج وہ بے شک انٹرویو میں اپنے نازشِ فن والد نازش کاشمیری کا حوالہ دیں، مگر وہ میرے احسان کو نہیں بھولے کہ وہ احسان فراموش نہیں ہیں۔!

ذکر تھا یاور حیات کا وہ واقعی ہر ایک کے لئے ’’یاور‘‘ تھے اور حیات یافتگان کے دِلوں میں مرتے دم تک گھر کئے رہیں گے۔ فی الحال اپنی یاد نگاری کے سلسلے میں یہ چند تعزیتی سطور لکھ رہا ہوں وگرنہ یاور حیات پورے بھرپور کالم۔ پورے مضمون، بلکہ پورے مقالے کے متقاضی ہیں۔۔۔ انشا اللہ الگ سے لکھوں گا۔۔۔’’ادبِ لطیف ‘‘میں بھی۔۔۔!

اسی ماہ میں، اس سال میں یعنی اکتوبر2016ء کے اوائل میں ممتاز صحافی اور سینئر کالم نگار امجد قریشی بہاولپور میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، وہ ایک مدّت سے فالج کے سبب صاحبِ فراش تھے۔انہوں نے بہت سے اخبارات میں کام کیا جن میں سب سے زیادہ ’’مشرق‘‘ میں 14برس کا عرصہ ہے ’’کوہستان‘‘، ’’پاکستان‘‘ اور ’’دن‘‘ میں بھی ’’گوشۂ صحر‘‘ا اور ’’روہی رنگ‘‘ کے عنوان سے کالم نویسی کرتے رہے۔ وہ پیدائشی صحافی تھے کہ بہاولپور میں اُن کے والدِ گرامی نے اپنا ہفت روزہ ’’بیباک‘‘ جاری کیا تو اس پرچے پر بطور مُدیرِ معاون اُن کا نام چھپتا رہا۔اُن کے والد گرامی کا اسم گرامی عبدالحمید صحرائی تھا۔ امجد قریشی کے کالموں کا ایک مجموعہ ’’گوشۂ صحرا‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے جِسے تابش الوری جیسے صحافی، شاعر، ادیب اور پارلیمنٹیرین کی طرف سے تحریری پذیرائی حاصل ہے۔

ایک دلچسپ واقعہ امجد قریشی مرحوم کے حوالے سے مجھے یاد آیا کہ مَیں ماہنامہ ’’ادبِ لطیف‘‘ کا ایڈیٹر تھا اور امجد قریشی پریس ٹرسٹ کے اخبار ’’مشرق‘‘ لاہور میں بہاولپور سے کالم لکھتے تھے۔ مَیں اُنہیں غائبانہ طور پر جانتا تھا اور ’’مشرق‘‘ میں کالم کے ساتھ چھپنے والی تصویر کے حوالے سے پہچانتا بھی تھا۔ ایک روز وہ تین چار افراد کے ساتھ انار کلی کے مشہورِ زمانہ ’’دِلّی مسلم ہوٹل‘‘ میں فروکش ہوئے، مَیں پہلے سے ایک میز پر اکیلا بیٹھا چائے کی چُسکیاں لے رہا تھا۔ان چار یاروں میں بے تکلفانہ گفتگو جاری تھی،بلکہ ماحول یُوں تھا کہ ’’تانا ہُوا ہے ہم نے غیبت کا شامیانہ، امجد قریشی نے اپنے ایک بہاولپوری دوست لاہور میں مقیم پروفیسر احمد عقیل روبی کے حوالے سے ایک انکشاف والی گفتگو آپس میں شیئر کی، مَیں نے سُن لی اور احمد عقیل روبی مرحوم کو بوقتِ ملاقات سُنا دی، وہ سمجھ گئے کہ یہ شخص امجد قریشی ہو گا۔ بہرحال اُن کی آپس میں جو بھی بات ہوئی ہو، مگر یہ حقیقت ہے وہ بات سچ تھی گویا بقولِ پروین شاکر:

بات تو سچ ’’تھی‘‘ مگر بات ’’تھی‘‘ رُسوائی کی

ملتان میں پروفیسر اصغر علی شاہ اکتوبر2016ء کے آخری ہفتے میں ر خصت ہوئے یہ اطلاع کراچی سے چل کر ملتان پہنچنے والے معراج جامی ایڈیٹر ’’پرواز‘‘ نے بہم پہنچائی کہ وہ لاہور میں غریب خانے پر بہرِ عیادت تشریف لائے ہمراہ میرپور (آزاد کشمیر) کے پروفیسر غازی علم الدین بھی تھے کہ جنہیں مَیں غازی علم الدین شہید کے نام سے یاد کرتا ہوں۔۔۔! پروفیسر اصغر علی شاہ فارسی کے جیدّ اُستاد اور اُردو، فارسی کے گراں قدر، صاحب ِ فن شاعر تھے، بغیر کسی تخلص کے یا شہر کے لاحقے کے سید اصغر علی شاہ کے پورے نام سے نظم و نثر دونوں میں رَواں رہے۔ کبھی پاکستان رائٹرز گلڈ ملتان ریجن کے سیکرٹری بھی رہے۔ پروفیسر حسین سحر اور اصغر علی شاہ کے یُوں آگے پیچھے رخصت ہو جانے سے ملتان تو اُداس ہے ہی پورے پاکستان میں ان دونوں شریف النفس قلم کاروں کی کمی بہرحال محسوس کی جا رہی ہے اور محسوس کی جاتی رہے گی۔

ابھی لاہور میں یاور حیات کا غم تازہ تھا کہ شاعر اسلم کولسری بھی اتوار9نومبر2016ء کو اچانک رخصت ہو گئے۔اُن کی تدفین اُن کے آبائی گاؤں میں ہوئی۔ اوکاڑہ کے پاس ایک مشہورِ زمانہ جگہ ’’گیمبر‘‘ کے نام سے اس لئے مشہور ہے کہ ٹرین کا گیمبر کا حادثہ بہت مشہور ہے۔ اس’’گیمبر‘‘ کو کبھی ’’کول سر‘‘ کہا جاتا تھا جیسے ’’اَمرت سر‘‘ اصل میں جہاں ’’تالاب‘‘ ہو اُس کی نسبت سے سکھ ’’سر‘‘ کا لاحقہ لگا لیتے ہیں تالاب والی جگہ ’’کولسر‘‘ کو اسلم نامی شخص نے شاعر ہو کر شہرتِ دوام بخش دی، خود بھی ’’اسلم کولسری‘‘ کے نام کے ساتھ شہرتِ عام کے حامل رہے کہ اُن کا ایک شعر لازوال ہے:

شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے

کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واقعی:

اسلمؔ چھوڑ کے جانے والے

آنکھیں خالی کر جاتے ہیں

مزید :

کالم -