دہشت گردی کی روک تھام میں عوام کا کردار(2)

دہشت گردی کی روک تھام میں عوام کا کردار(2)

  

بھارت پاکستان کا براہِ راست مقابلہ نہیں کر سکتا وہ چھپ کر وار کرے گا۔اس ازلی دشمن کا حملہ کئی روپ اختیار کر سکتا ہے اس میں دہشت گردی بھی شامل ہے، اس لئے قوم کو چپے چپے میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ بدقسمتی سے ہم نے بحیثیت قوم اور ہماری سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کا کام صرف افواج پاکستان، نیم فوجی تنظیموں اور پولیس کی ذمہ داری ہے۔

نہیں میرے دوستو، ہر گز نہیں، یہ ہم میں سے ہر ایک کا فرداً فرداً فرض بنتا ہے کہ ہرپاکستانی دامے درمے سخنے اس مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقاء کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ ہم سب کو سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کرہر محلے اور گلی میں وہی ترتیب بنانی چاہئے جیسی آپ بلدیاتی صوبائی یا قومی اسمبلی کے الیکشن کے موقع پر الیکشن کمیشن سے ووٹر لسٹیں حاصل کر کے گھر گھر تفصیل جمع کرتے ہیں۔ اصل مقصد تو اس ساری محنت کا یہی معلوم کرنا ہوتاہے کہ کوئی اجنبی تو ہماری گلی محلہ میں نہیں ہے۔ میں نے شروع میں 65ء کی جنگ کا ذکر کیا تھا۔اس وقت تو ذرائع بے حد محدود تھے، آج تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، اطلاعات دینے کے بے پناہ ذرائع ہیں۔ پولیس سٹیشن میں بھی ٹرانسپورٹ مہیا ہے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ ایس ایچ او کا تقرر سیاسی نہ ہو اور اسے اتنا عرصہ تو ایک پولیس سٹیشن میں رہنے دیا جائے، کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ علاقے کے ہر آدمی سے باخبر ہو۔ مساجد بھی معلومات کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ پھر ماشاء اللہ جو نوجوان تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں اور ہفتہ میں ایک ایک بار مکان کا گشت کرتے ہیں وہ بھی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ رینجرز، آرمی، نیوی، ایئر فورس،پولیس اور ٹریفک کے لوگ رہنمائی بھی کر سکتے ہیں اور انتہائی کم وقت میں نوجوانوں کی ٹیمیں بنا کر انتہائی منظم طریقہ سے عمل درآمد بھی کرا سکتے ہیں، جس دین میں پڑوسی کے بے پناہ حقوق ہوں وہاںیہ کیسے ہو سکتا ہے کہ برابر والے مکان کے باسی کا پتہ ہی نہ ہو۔ اب تو ایمرجنسی فون نمبر بھی اتنی تعداد میں ہیں کہ اطلاع ملتے ہی چند منٹوں میں گاڑی پہنچ جائے گی۔

تمام سیاسی جماعتوں کے پاس نوجوانوں کی ایک فوج ظفر موج ہے۔ ضرورت ان کی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال کرنے کی ہے اور انہیں یہ احساس دِلانا ہے کہ تم تو بہترین اُمت کے فرد ہو۔اللہ رب العزت سے توبہ کر کے رحمن کی بندگی میں تو آؤ پھر کھلی آنکھوں سے تم وہ مدد دیکھو گے اور وہ راستے کھلیں گے، جن کا تمہیں وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ شیطان کو تو یہ کبھی گوارا نہیں ہو گا وہ تو یہی پٹی پڑھائے گا کہ مزے سے کھیل کود میں مگن رہو، یہ کس مشقت میں تم نے اپنے آپ کو ڈال لیا۔میری عاجزانہ گزارش ہر گھر کے بزرگ ذمہ دار و افراد سے بھی ہے کہ کچھ وقت نکالیں اور جنگی بنیادوں پر اس کام میں لگ جائیں۔ آج جہاں اور عذاب ہیں وہاں ایک ’’مصروفیت‘‘ کا عذاب بھی ہے، جس سے بات کرو وہ یہ مضحکہ خیز جملہ کہتا نظر آئے گا کہ ہمیں تو مرنے کی بھی فرصت نہیں ہے،حالانکہ ہزاروں کے مجمع سے جب ملک الموت اُٹھائے گا تو صرف انہی کو نظر آئے گا جس کا وقت پورا ہونے کا وہ اعلان کرے گا کہ پوری دُنیا میں ایک گندم کا دانہ بھی اس کی قسمت میں نہیں تھا۔ اِس لئے کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے لیڈر ہوں یا سیکیورٹی اداروں کے سربراہ ہوں، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ آیئے آگے بڑھئے اور اللہ کی اِس نعمت کی قدر کیجئے تاکہ حشر کے میدان میں رب ذوالجلال کے سامنے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔باتیں بہت ہو چکی ہیں، دھرنے بھی ہو چکے۔ جلسے بھی خوب خوب ہوئے۔ الزامات بھی لگ گئے،سڑکیں بند کرنے،ہڑتالوں اور دھرنوں کی وجہ سے مزدوروں اور دیہاڑی والوں کے گھر چولہا نہ جل سکا اور بچے بھوکے سو گئے۔ مریض ہسپتال نہ جا سکے اور راستے میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے نوجوانان مسلم سے خطاب کرتے ہوئے یہی تو کہا تھا

’’تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی

کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارہ‘‘

دوستو! ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔دہشت گردی انشاء اللہ جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ اللہ کے احکامات تو وجہِ خلق کائناتؐ کے طریقہ پر مان کر زندگی گزاریں تو اللہ کی قدرت تائید و نصرت تمہارے ساتھ ہو گی۔

نبی آخر الزماں حضرت محمدؐ نے صحابہ کی تربیت اس انداز میں کی تھی کہ سب چلتا پھرتا قرآن تھے۔سادگی اور جفا کشی کے پیکر تھے۔ ان میں وہ فراست ایمانی عطا کی گئی تھی، جس کا کچھ نہ کچھ حصہ ہر مومن کو مل سکتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ مومن کی فراست سے ہوشیار رہنا اس لئے کہ اس کو اللہ کے نور کی مدد حاصل ہوتی ہے۔

حضرت عمرو بن العاصؓ نے جب مصر فتح کیا اور اسے حضرت عمرؓ کی خلافت راشدہ کی قلمرو میں شامل کیا، اس وقت سارے قرائن موجود تھے کہ مصر مسلمانوں کے قبضہ میں رہے گا۔ قبطی سلطنت دم توڑ چکی تھی اور مُلک میں مقابلہ کی کوئی طاقت باقی نہیں رہ گئی تھی۔خلافت راشدہ کے مرکز مدینہ طیبہ سے اور جزیرۃ العرب سے اس کا جو جغرافیائی قُرب تھا، وہ بھی اِس بات کی ضمانت تھا کہ مصر کی پوری طور پر نگرانی کی جا سکے گی۔ وہاں اسلام اور مسلمانوں کا مستقبل محفوظ ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن ممالک کو صحابہ کرامؓ نے فتح کیا وہ کلی طور پر اسلام کی دولت سے محروم نہیں ہوئے،اِس لئے اس بات کو باور کرنے اور اس بارے میں اطمینان حاصل کرنے کے ساتھ آثار و قرائن موجود تھے کہ مصر میں کسی بڑے انقلاب کا خطرہ نہیں ہے، مصر فتح ہو چکا تھا۔ صحابہ کرامؓ اور مسلمانوں کے قدم جم چکے تھے۔ مساجد تعمیر ہو رہی تھیں اور مصر کی وہ بازنطینی سلطنت جس کا آخری فرمانروا، ہرقل تھا،دُنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔یہ واقعہ حضرت عمرؓ کے زمانے کا ہے اور اس سلطنتِ بازنطینہ کے مقبوضات جن میں شام اور فلسطین کا علاقہ بھی تھا۔ اسلام کے زیر سایہ آ چکے تھے،لیکن اللہ تعالیٰ نے صحبت نبوی کی برکت سے حضرت عمرو بن العاصؓ کو جو فراستِ ایمانی عطا کی تھی اور خداداد بصیرت سے نوازا تھا۔ حضرت عمر بن العاصؓ نے اسی فراست ایمانی کی وجہ سے ایک جملہ کہا، جس کو تاریخ نے انہی کے لفظوں میں محفوظ کر لیا ہے اوریہ جملہ قیامت تک آنے والے ہر مومن فاتح اور جملہ مومنین کے لئے مشعلِ راہ ہے۔

ترجمہ(تم ہمیشہ ا س بات کو یاد رکھنا کہ تم محاذ جنگ پر ہو۔ اور اسلامی سرحد کے محافظ ہو، اس لئے کہ دشمن کی نگاہیں تم پر لگی ہوئی ہیں۔ اور ان کے دل ابھی تمہارے خیال سے خالی نہیں ہوئے۔)

بہت سے قرآنی الفاظ ایسے ہیں جن کا ترجمہ کرنا بہت مشکل ہے۔ رباط کا ترجمہ بھی کسی مفرد لفظ سے کر دینا مشکل ہے۔ ناکہ بندی، سرحدوں کی حفاظت، کسی کام میں مسلسل منہمک رہنا۔ یہ سب رباط کے مفہوم میں آتا ہے۔ مسجد میں ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے کے لئے بھی رباط کے الفاظ آتے ہیں۔ رباط کے لفظ میں عسکری و جسمانی طور پر اور اس کے ساتھ معنوی، ذہنی اور فکری طور پر بھی ہمیشہ چوکنا رہنے کا مفہوم آ جاتا ہے۔ آپؐ نے مسلمانوں کو احساس دلایا کہ قدیم آبادی کسی وقت بھی جب اہرام مصر کو دیکھے گی جو فراعنہ نے بنائے تھے اور جب وہ اس ملک کی سرسبزی و شادابی دیکھے گی تو اس کو یاد آئے گا کہ کبھی یہاں ہماری سلطنت تھی تو تم اس سے غافل نہ رہنا۔ سارے براعظم افریقہ میں ابھی مصر ہی ایسا ملک ہے جو اسلام کے قبضہ میں آیا ہے۔ اس لئے اگر تم ہمیشہ چوکنا نہیں رہو گے تو اس ملک میں اسلام کا محفوظ رہنا مشکوک ہے۔ مسلمانوں کو آزاد مسلم ممالک میں بھی ہمیشہ اس وصیت پر عمل کرنا چاہئے اور اپنے اندر ایسیکیفیت پیدا کرنی اور قائم رکھنی چاہئے کہ وہ ان سب چیزوں سے بچیں جو غفلت پیدا کرنے والی ہیں جو دشمن کو موقع دینے والی ہیں۔

فتنے صرف خارجی نہیں ہوتے داخلی بھی ہوتے ہیں اور داخلی فتنے بعض اوقات خارجی فتنوں سے زیادہ خطرناک اور دور رس نتائج رکھتے ہیں۔ اسپین مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا وہ کسی خارجی حملہ سے نہیں نکلا، مسلمان اندر سے خود سمٹنے اور بکھرنے لگے تھے۔ اندرونی کمزوریاں جب کسی ملک میں پیدا ہو جاتی ہیں تو اس کو گھن کی طرح کھاتی ہیں۔ حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ وصیت سارے چھوٹے بڑے مسلم ممالک کو حرز جان بنانی چاہئے کہ ’’انتم فی رباط دائم‘‘ تمہاری پہرہ داری اور بیداری کی کوئی حد و نیابت نہیں ہے تم کبھی اس سے فارغ البال نہ ہونا۔ امت اسلامیہ کے سپرد جو کام کیا گیا ہے اور اس کی جو مشکلات ہیں اس میں چھٹی کا کوئی جواز ہی نہیں ہے۔ چھٹی کا تو ایک وقت ہوتا ہے اور ایک ذہن ہوتا ہے۔ چھٹی والی ذہنیت فراغت سے زیادہ خطرناک ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جہاں جہاں اسلام کا زوال ہوا، وہاں یہ ذہنیت پیدا ہوئی، یعنی محنت ہو چکی اب محنت سے فائدہ اٹھانے کا وقت آیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ اجمعین میں آخیر آخیر تک یہ بات پیدا نہیں ہوئی تھی۔ وہ ہر وقت تیار رہتے تھے کہ جب ان کو محاذ پر بلایا جائے گا چلے جائیں گے۔ یہ سوچ کہ پوری عمر محنت کرنے کے لئے نہیں ہوتی، اب آرام کا وقت آیا ہے، یہ سوچ امت اسلامیہ اور کسی ایسے اسلامی ملک کے حق میں نہیں ہوتی، جو بیرونی اندرونی خطرات سے ہر وقت دو چار ہو۔ایسی سوچ تواس ملک کے لئے خود کشی کے مترادف ہے۔

ہم بھی پاکستان میں ’’انتم فی رباط دائم‘‘ کو دستور العمل بنا لیں ہم ایک ایسے محاذ پر کھڑے ہیں جہاں ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ پلک جھپکتے ہی میدان جنگ کا نقشہ بدل جائے گا اس لئے پلک جھپکنے اور سونے کی گنجائش نہیں ہے۔ ایک بھرپور مہم بغیر کوئی وقت ضائع کئے چلانے کی ضرورت ہے جس میں ریڈیو، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور تمام ذمہ دار محب الوطن پاکستانی شامل ہوں۔یہ ملک ہے تو ہم ہیں اور یہ ساری مستیاں ہیں۔ آزادی بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو۔ کشمیریوں سے پوچھو آزادی کیا ہوتی ہے۔ جلسوں میں لوگوں کو جمع کرنا۔ دھرنوں میں لوگوں کو جمع کرنا اور ان سب میں پولیس اور رینجرز کو اپنا اصلی کام چھوڑ کر ان کی سیکیورٹی میں مصروف ہونا نہ صرف وقت بلکہمالی وسائل کا بھی نقصان ہے پولیس، رینجرز، ایف سی وغیرہ کے ہزاروں جوان کئی کئی دن سیاسی جلسوں، ہڑتالوں،دھرنوں کے لئے ڈیوٹی دیں گے تو دشمن کو وار کرنے کا موقع ملے گا۔ روزانہ دیہاڑی کے مزدور کے گھر میں چولہا نہ جلے،بچے بھوکے سو جائیں۔ بیمار ہو تو ہسپتال نہ جا پائیں۔ اسکول میں امتحان ہو تو اسکول نہ پہنچ پائیں اور پورا سال ضائع ہو جائے، کوئی بیوہ بیچاری زیور بیچ کر قسطوں پر رکشہ خرید کر کرائے پر چلوا کر اپنا پیٹ بھرنا چاہے تو پیٹرول پمپ کی بندش کی وجہ سے وہ سڑک پر نہ آ سکے اور آگر آ جائے تو جلا دیا جائے۔ آدمی دفتر نہ جا پائے، خدا خدا کر کے مقدمہ کی تاریخ آئے اور اپنی عمر بھر کی جمع پونجی مقدمہ کے اخراجات پورے کرنے میں لگا دی جائے مگر عدالت تک جانے کا رستہ ہی بند ہو اور اگر کھلا بھی ہو تو جج صاحب یا وکیل صاحب تشریف نہ لائیں اور پھر تاریخ پڑ جائے اور اس تمام کارروائی کو ہمارے سیاست دان اپنا ’’جمہوری حق‘‘ قرار دیں۔ چاہے خود جس بات کی تنخواہ پا رہے ہیں اور بے پناہ فوائد اٹھا رہے ہیں، اس اسمبلی میں جب جی چاہا چلے جائیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ قانون سازی کے لئے آنے والوں کی اکثریت قانون سے ہی نا بلد۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ’’پاکستان میں ماہر کی تعریف یہ ہے کہ وہ اپنے فن کے علاوہ ہر چیز کا ماہر ہو۔‘‘

’’ترقی کی راہوں میں کوئی ایسا مقام نہیں آتا جس کو منزل کہا جا سکے اور نہ کوئی ایسا آج آتا ہے جس کے فکر فرد سے خود کو آزاد کیا جا سکے۔ افراد ہوں ادارے یا قومیں بہتری کی خواہش سب کو سعی پیہم پر آمادہ رکھتی ہے اور وہ خوش آئند مستقبل کے لئے ہمیشہ تگ و دو کرتے ہیں۔ یہ قانون فطرت ہے کہ جو امروز پر مطمئن ہو گیا، وہ ترقی کی صف سے نکل گیا۔ اسے جلد زمانے نے بھلا دیا۔ اگر روشن تر مستقبل درکار ہے تو قدرت کے اس اٹل قانون کی اطاعت کرنی ہوگی‘‘۔۔۔اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا بھی کریں اور بھروسہ کرتے ہوئے ہمت و حوصلہ کے ساتھ جنگی بنیادوں پر اپنے آپ کو منظم کر لیں، انشاء اللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی، اور اللہ تعالیٰ برکت بھی نازل فرمائے گا اور دعاؤں کو شرف قبولیت بھی بخشے گا۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن۔۔۔ اپنا تو بن

(ختم شد)

مزید :

کالم -