بلوچستان میں نظریہ پاکستان

بلوچستان میں نظریہ پاکستان
 بلوچستان میں نظریہ پاکستان

  

پاکستان انعام ہے اور اس انعام کو پانے کے لئے پاکستانیوں نے رنگ ، نسل اور برادری سے اوپر اٹھ کر جدوجہد کی اور قائد اعظمؒ کی قیادت میں ایک آواز اور ایک مطالبہ بن کر آزادی کی نعمت کو انگریز اور ہندو کے ہاتھ سے چھینا تھا۔ پاکستان سب کا ہے اور سب پاکستان سے ہیں۔ یہ الگ بات کہ مفاد پرست سیاسی طبقوں کی سنئے تو سوا ئے اس کے کچھ کان پڑا سنائی نہیں دیتا کہ پاکستان کا مطلب پنجاب ہے۔ سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی زبانیں ایسے شکووں سے بھری رہتی ہیں ۔ وہ اپنے چھوٹے ہونے کا بہت فائدہ اٹھاتے ہیں اور پنجاب اپنے بڑے پن میں مارا جاتا ہے ، لیکن کیا کریں کہ زمانے کی صدیوں سے یہی ریت ہے کہ بڑا قربانی دیتا ہے اور چھوٹے ثواب کماتے ہیں۔ چنانچہ پنجاب کی کوشش اور کاوش رہی ہے کہ پاکستان کے ہر کونے اور قریے کو ایک لڑی میں پروئے رکھے ، اس ضمن میں مذہب اسلام کے بعد اگر کوئی رشتہ چاروں صوبوں میں قدر مشترک کا موجب ہے تو وہ تحریک پاکستان ہے ۔ پاکستان کے کسی بھی حصے میں چلے جائیے ، آپ کو اس تحریک کی نشانیاں ضرور مل جائیں گی۔ قائد اعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت نے محض برصغیر کے عام مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے رؤسا اور نواب صاحبان کو بھی اپنی جانب متوجہ کرلیا تھا ، تبھی تو کہیں نواب آف بہاولپور کے تذکرے سے تحریک پاکستان تکمیل پاکستان میں ڈھلتی نظر آتی ہے تو کہیں خان آف قلات قائد اعظمؒ کو سونے میں مادر ملت کو چاندی میں تولتے نظر آتے ہیں۔

اجر خدا کا اختیار ہے ، انسان کے بس میں محض اچھا کرنے کا جذبہ ہوتا ہے ۔ اس جذبے کی آبیاری خون جگرسے کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر عوام الناس اس خوشبو سے متعارف ہوتے ہیں جو اس اچھے کام سے پھوٹتی ہے۔ برادرم شاہد رشید مرحوم مجید نظامی کے نظریہ پاکستان سے عشق کو ایک ٹرسٹ کی صورت سنبھالے بیٹھے ہیں۔وہ صحیح معنوں میں ایک چِلہ کاٹ رہے ہیں اور اکبر الہ آبادی کی طرح اس مادیت پرست وقت میں نظریہ پاکستان کی بات کرتے ہیں اور تحریک پاکستان کی نشانیوں کو پلکوں پہ سجائے بیٹھے ہیں۔

اس سے بھی انکار نہیں ہے کہ اچھوتے خیال کی پذیرائی ہو کر رہتی ہے اور اس سے اچھا اور اچھوتا خیال اور کیا ہوسکتا ہے کہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کو لاہور کی لالہ رنگ فضا سے نکال کر بلوچستان کے سنگلاخ اور چٹیل میدانوں کی زینت بنادیا جائے۔ اس اچھوتے خیال کو عملی جامہ پہنانے پر شاہد رشید مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ موجود حالات کے تناظر میں بلوچستان کی صورت حال کی صحیح تصویر کشی اور تحریک پاکستان و تکمیل پاکستان میں بلوچستان کے کردار کو قوم کے سامنے لانے کے لئے ایک ریسرچ پراجیکٹ کا نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے تحت آغاز کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں وہ چار رکنی وفد کے ہمراہ کوئٹہ کا دورہ بھی کر آئے ہیں اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری سے لے کر کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض سے ملاقاتوں میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے ذریعے پاکستان کے ایک انتہائی اہم صوبے کو ملک سے جوڑنے کے کام کا آغاز بھی کردیا ہے۔ بلاشبہ سی پیک کے تحت بننے والی سڑک اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے تحت ہونے والے رابطے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ، یہ سکہ ادھر سے بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا اُدھر سے ہے !یہ بات بہت دلچسپ اور عجیب لگتی ہے کہ شاہد رشید نظریہ پاکستان کی تلاش کو بلوچستان کی سونے سے بھری کانوں اور جذبوں سے بھرے انسانوں تک لے گئے ہیں۔ تبھی تو بلوچیوں نے ان کی قیادت میں آنے والے وفد کو بات بات پہ جتایا کہ کس طرح صوبہ بلوچستان اپنے آپ کو پاکستان سے جڑا ہوا اور پاکستان کے عوام انہیں خود سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اس ضمن میں میڈیا کے کردار کا خاص تذکرہ ہوا کہ ٹی وی سکرینوں پر بلوچستان میں ایک شاندار تحفظ پاکستان ریلی کے بجائے فیصل آباد کے ایک نواحی علاقے میں گدھا گدھی کی شادی کی تفصیلی کوریج کو فوقیت دی جاتی ہے۔ خفت کی بات یہ ہے کہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وفد کو یہ بات وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری نے خود بتائی ۔ شاہد رشید کے بقول صرف وزیر اعلیٰ بلوچستان ہی نہیں بلکہ بلوچستان کے اہل علم و دانش اور صحافی صاحبان کو بھی یہی گلہ ہے ۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ہمارے ٹی وی اینکروں میں ہر صوبے کی نمائندگی ہے ، سوائے بلوچستان کے ...کاش حامد میر، سلیم صافی اورکامران خان کی طرح صوبہ بلوچستان سے بھی کوئی گشکوری یا زہری ریاست پاکستان کے مسائل کو بلوچیوں کی نظر سے دیکھتااور پیش کرتا ہوا نظر آئے۔ ادھر پنجاب یونیورسٹی میں تو بہت سے ایسے نوجوان نظر آتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے آئے ہوتے ہیں لیکن ان کا معاملہ بھی اجبنیوں کا سا ہی ہوتا ہے ۔ ممکن ہے کہ دیگر یونیورسٹیوں میں بھی بلوچ طلباء موجود ہوں لیکن اس ضمن میں بھی یہ بات کسی صدمے سے کم نہیں ہو سکتی کہ پنجاب اور سندھ کی یونیورسٹیوں میں طالبات کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ، اس دوری کو پاٹنے کی ضرورت ہے ، ہمیں بلوچی نہیں ، پاکستانی مائیں چاہیں جس طرح ہم سندھی، پنجابی اور پختون ماؤں کی بجائے پاکستانی مائیں دیکھتے ہیں۔

بلوچستان کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں اکثریت مقامیوں کی ہے اور ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہوگی جو 1947میں ہجرت کرکے وہاں آباد ہوئے ہوں۔ ممکن ہے ہمارا یہ تاثر درست نہ ہو لیکن حالات کا عمومی جائزہ یہی بتاتا ہے کہ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کی بڑی تعداد پنجاب اور سندھ میں آباد ہوئی تھی ۔ اس تاثراتی فضا میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی جانب سے تحریک پاکستان و تکمیل پاکستان میں بلوچ قوم کے کردار کو متعین کرنے کا کام انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس کاوش کو جس قدر سراہا جائے کم ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان کی موجودہ سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں اگلے مورچوں پر کھڑی ہے ، وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری نے اس جنگ میں اپنے بیٹے کو کھویا ہے ، یہ جنگ پاکستان تنہا نہیں لڑرہا ہے ، اس کے ساتھ ثناء اللہ زہری اور بلوچ قوم کھڑی ہے ، یہ الگ بات کہ بلوچستان میں جس قسم کی دہشت گردی کا پاکستان کو سامنا ہے وہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا سے ہٹ کر ہے ، وہاں یہ جنگ بلوچ ہی لڑ سکتے ہیں ، اس محاذ پر باقی کے پاکستان کو بلوچ قیادت کے پیچھے کھڑا ہونا پڑے گا!

گوادر بندرگاہ کی تعمیر میں چین کے تعاون کے سبب خطے میں پاکستان سمٹ کر بلوچستان میں ڈھل گیا ہے ، نہ صرف بیرونی بلکہ بہت سے اندرونی عناصربھی پاک چین اقتصادی راہداری کو متنازعہ بنا دینا چاہتے ہیں، اس تناظر میں بلوچستان سے اٹھنے والی ہر آواز اہم ہو گئی ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے انٹرنیشنل میڈیا سمیت ہمارا میڈیا اس آواز کو تو فوراً کیچ کرتا ہے جو پاکستان کی مخالفت میں اٹھتی ہے لیکن اس آواز پر کان نہیں دھرتا جو پاکستان کے حق میں ابھر رہی ہے۔ ہمیں ازبر ہے کہ مودی نے بلوچستان کے بارے میں کیا کہا لیکن ہم میں سے کتنے ہوں گے جنہیں پتہ ہو کہ بلوچستان کے بارے میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کیا کہا ہے، میڈیا کو اس محاذ پر سامنے سے قیادت کا فریضہ سرانجام دینا ہوگا، آج بلوچستان میں صنعتی سرگرمیاں نہیں ہیں تو کیا ہوا، آنے والے کل کا بلوچستان انٹرنیشنل پورٹ کا شہر ہوگا،ہمارے میڈیا ہاؤسز کے وہ مالکان جو آج اس لئے بلوچستان کو لفٹ نہیں کرواتے کہ وہاں سے بزنس نہیں ملتا ،کل اپنے ہیڈ آفسز وہاں سے چلاتے نظر آئیں گے ، لیکن اس کل کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ وہ آج اپنا فرض اداکریں اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی تقلید کرتے ہوئے اپنے ٹی وی کیمروں کا رخ بلوچستان کی طرف موڑ دیں اور تحریک پاکستان و تکمیل پاکستان میں بلوچستان کے کردار کو قوم کے سامنے لانے کے لئے ٹرسٹ کے ریسرچ پراجیکٹ میں سے تکمیل پاکستان والے حصے کی ذمہ داری اپنے سر لے لیں اور پہلے پاکستانیوں اور پھر دنیا بھر کو بتائیں کہ بلوچستان میں کتنی عظیم قوم آباد ہے جو پاکستان کی قیادت کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے!

مزید :

کالم -