جعلی فیس بُک اکاؤنٹس، سائبر کرائمز کا خاتمہ ضروری!

جعلی فیس بُک اکاؤنٹس، سائبر کرائمز کا خاتمہ ضروری!

  

سوشل میڈیا کا چرچا ہے۔ پوری دُنیا میں سے میڈیا سے کام لیا جا رہا ہے اور مداخلت بھی ہوتی ہے،لیکن جو کام اس میڈیا کے ذریعے پاکستان میں ہوا اس کی تائید کی ہی نہیں جا سکتی۔ یہاں اس میڈیا کے ذریعے خواتین کو بلیک میلنگ کرنے کا سلسلہ بڑا دراز ہوا، حال ہی میں ایک ملزم کی درخواست ضمانت مسترد ہوئی، جس نے فیس بُک کے ذریعے ایک خاتون کو اس کی جعلی تصاویر بنا کر بلیک میل کیا، ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جعلی اکاؤنٹ بنانے کا سلسلہ اس حد تک دراز ہوا کہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کا بھی جعلی فیس بُک اکاؤنٹ بنا لیا گیا۔ فاضل چیف جسٹس نے نہ صرف اس کی تردید کی،بلکہ ہدایت کی ہے کہ اس اکاؤنٹ کو بند کر کے جعلی اکاؤنٹ بنانے والے کا سراغ لگا کر اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ جعلی اکاؤنٹ بنانے کا سلسلہ انہی تک محدود نہیں، بڑی بڑی سیاسی شخصیات کا بھی بنایا گیا، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا سے دشنام طرازی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سیاسی پسند ناپسند کی بنا پر گالیاں دی جاتی ہیں اور ہدف کے سکینڈل بنائے جاتے ہیں، حالانکہ یہ میڈیا بہت مفید بھی ہے اگر اسے تعلقات، معلومات اور تعلیم کے لئے استعمال کیا جائے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں اب سائبر کرائمز ریگولیشن ایکٹ بھی نافذ اور اور ایف آئی اے میں سائبر کرائمز ونگ بھی کام کر رہا ہے، اس شعبہ نے شکایات ملنے پر ایسے لوگوں کو پکڑ کر عدالت کے سپرد بھی کیا ہے جو ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس کے باوجود بھی یہ سلسلہ جاری ہے،ضروری ہے کہ ایف آئی اے کا سائبر کرائمز ونگ شکایت کی موصولی کے بعد ہی کارروائی نہ کرے، بلکہ از خود ایسے جرائم کا سراغ لگائے سوشل میڈیا کا تو جائزہ لینا ضروری ہو گیا ہے اور دشنام طرازی کرنے والوں کے خلاف بھی قانون کے تحت کارروائی ہونا چاہئے تاکہ یہ میڈیا مفید بن سکے۔

مزید :

اداریہ -