پاکستانی معیشت ترقی کی جانب گامزن

پاکستانی معیشت ترقی کی جانب گامزن

  

عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان ترقی کی بلند ترین سطح پر ہے گزشتہ آٹھ سال کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور اگلے دو سال میں شرح نمو4.7 فیصد سے بڑھ کر5.4فیصد ہو جائے گی پاکستان میں دہشت گردی اور توانائی بحران نے برسوں تک صنعتیں مفلوج رکھیں تاہم سیکیورٹی صورتِ حال میں بہتری، آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل، ٹیکس اصلاحات اور سی پیک سرمایہ کاری سے معاشی ترقی ہو رہی ہے۔ البتہ عالمی بینک نے متنبہ کیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر میں تاخیر، سرمایہ کاری اور برآمدات میں کمی، تیل کی قیمتوں اور سرکاری قرضوں میں ممکنہ اضافہ تشویشناک ہے،جس سے نمٹنے کے لئے دور رس اصلاحات کی جائیں، پاکستان میں عالمی بینک کے نمائندے ایلانگو پچا میتھو نے کہا کہ عالمی بینک اصلاحات میں معاونت کے لئے تیار ہے۔

عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت کی جو تصویر کشی کی ہے اس میں مثبت اور منفی دونوں پہلو سامنے لائے گئے ہیں۔ یہ بات درست اور لائق تحسین ہے کہ اِس وقت جی ڈی پی کی شرح نمو (4.7فیصد) اگرچہ بہت زیادہ نہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مہنگائی اور بے روزگاری کم کرنی ہے تو یہ شرح کم از کم 7فیصد ہونی چاہئے،لیکن یہ تو دیکھا جائے کہ اس وقت کی شرح نمو گزشتہ آٹھ سال میں سب سے زیادہ ہے۔اِس میں اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ یہ تدریجاً بڑھ رہی ہے اور اگلے دو برسوں میں اس میں مزید اعشاریہ7فیصد اضافے کا امکان ہے، جہاں تک7فیصد تک جانے کا تعلق ہے اس کے لئے غیر معمولی اقدامات اور اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔ شرح نمو میں اضافے کا انحصار افرادی قوت اور دیگر شعبوں میں اصلاحات اور سی پیک منصوبے پر عملدرآمد پر ہے ایسا فی الحال نہیں ہوا ہے۔اگرچہ حکومت اقتصادی اور دیگر شعبوں میں وسیع تر اصلاحات کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ انہی کی بدولت گزشتہ تین برسوں میں ٹیکس نیٹ وسیع ہوا ہے، ٹیکس کی آمدنی میں 68فیصد اضافہ ہوا ہے اور کئی برسوں کے بعد پہلی بار بجٹ میں ٹیکس کا مقررہ ہدف حاصل ہوا ہے۔ گزشتہ برسوں میں تو کم کیا گیا نظرثانی شدہ ہدف بھی حاصل نہیں ہو پایا۔ ٹیکس نیٹ میں اگرچہ ساڑھے تین لاکھ لوگوں کا اضافہ ہوا ہے تاہم20کروڑ سے زائد کی آبادی میں یہ شرح بہت ہی کم ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کم از کم دو گنا کرنے کی ضرورت ہے۔

عالمی بینک اگر قرضوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتا ہے تو یہ ہمارے مرض کی بالکل درست نشاندہی ہے،لیکن قرضے تو اُسی صورت میں کم ہو سکتے ہیں، جب آمدنی کے ذرائع میں اضافہ ہو اور یہ اضافہ صرف ٹیکس نیٹ بڑھانے سے ممکن ہے، جو اگرچہ تھوڑا بہت بڑھا ہے،لیکن اب بھی بہت زیادہ وسعت کی گنجائش ہے، حکومت جن شعبوں پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے وہ باقاعدہ مزاحمت پر اُتر آتے ہیں اور حکومتی اقدام کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔گزشتہ برس کے پورے مالی سال میں حکومت کو تاجروں کی مزاحمت کا سامنا رہا جنہوں نے بینک ٹرانزیکشن ٹیکس مسترد کر دیا اور کئی ماہ تک اس کے خلاف تحریک چلاتے رہے۔ سالِ رواں کے بجٹ میں زمینوں اور خالی پلاٹوں پر ٹیکس لگایا گیا تھا ،جو ان لوگوں کو پسند نہیں آیا،جنہوں نے اِس شعبے میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی، حکومت نے ٹیکس کے مقاصد کے لئے زمین کی جو قیمتیں مقرر کی ہیں زمینوں کا کاروبار کرنے والوں کے خیال میں یہ بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ وہ متبادل تجویزیں دے رہے ہیں اِن کی تفصیلات میں جائے بغیر ہم یہ عرض کریں گے کہ غیر ملکی قرضوں پر انحصار صرف ایک ہی طریقے سے کم ہو سکتا ہے کہ ملکی وسائل میں اضافہ کیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہو گا تو ترقیاتی منصوبوں کے لئے قرض تو لینا پڑے گا یا پھر ترقیاتی منصوبے روکنے پڑیں گے۔اگر یہ دونوں کام نہیں ہوتے توکیا کوئی معاشی جادوگر یہ بتا سکتا ہے کہ پھر ترقیاتی منصوبوں کے لئے رقوم کہاں سے آئیں گی؟ کیونکہ بجٹ سے جو ریونیو حاصل ہوتا ہے اس کا نصف کے لگ بھگ(بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ) تو پہلے لئے گئے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہو جاتا ہے۔

عالمی بینک نے برآمدات میں کمی کی جانب بھی توجہ دلائی ہے، جو کئی سال سے کم ہو رہی ہیں اِس لئے پاکستان کو اپنے ہاں ٹیکنالوجی کے شعبوں کو ترقی دینے کی ضرورت ہے اب خام مال اور زرعی اجناس برآمد کر کے یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا، دُنیا بھر میں چاول کی پیداوار اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اس کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں، گندم کی پیداوار کا بھی یہی معاملہ ہے۔پاکستان کے پاس جو فاضل گندم موجود ہے دُنیا میں اس کے بھی کوئی زیادہ خریدار نہیں،کیونکہ ہم جو قیمت طلب کر رہے ہیں وہ بہت زیادہ ہے اور یہ گندم گوداموں میں پڑی پڑی ضائع ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے تاہم یہ ساری اشیا پاکستان کی برآمدات میں اتنا اضافہ نہیں کر سکتیں جتنا پاکستان کو مطلوب ہے اس کے لئے تو ویلیو ایڈڈ گُڈز بنانا ہوں گی، جن کی اچھی قیمت مل سکے یا پھر ٹیکنالوجی کے میدان میں اتنی زیادہ سرمایہ کاری کرنا ہو گی کہ اس میں تیار ہونے والی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگے داموں فروخت ہو سکیں۔ جے ایف 17تھنڈر اور مشاّق طیاروں کے دُنیا میں خریدار موجود ہیں اِس لئے ضروری ہے کہ اس شعبے کو اتنی زیادہ ترقی دی جائے کہ نہ صرف ہماری ملکی ضروریات پوری ہوں، بلکہ اِن کی برآمدات بھی ممکن ہوں۔ سرمایہ کاری کا رُخ اِس جانب موڑ کر مطلوبہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

عالمی بینک نے سی پیک منصوبے کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے(حالانکہ یہ تاثر بھی پھیلایا جا رہا ہے کہ عالمی اداروں کو یہ منصوبہ پسند نہیں) کیونکہ اِس منصوبے کے ساتھ چینی سرمایہ کاری کے علاوہ دوسرے ممالک کی براہِ راست سرمایہ کاری آنے کا بھی امکان ہے،لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ اِس معاملے کو بعض عناصر نے بلاوجہ وفاق اور صوبوں کے درمیان متنازعہ بنانے کی کوششیں شروع کی ہوئی ہیں تاہم اطمینان کی بات ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف اِس بارے میں ہم رائے ہیں، فوجی یونٹوں پر مشتمل اس منصوبے کی سیکیورٹی کا بندوبست کیا گیا ہے اور بہت سے منصوبوں پر کام شروع ہے، بعض حصے مکمل بھی ہو چکے ہیں توقع کرنی چاہئے کہ عالمی بینک کے خبردار کرنے کے بعد اب اِس سلسلے میں زیادہ تیزی سے کام ہو گا،کیونکہ شرح نمو میں جس اضافے کی امید کی جا رہی ہے وہ اس کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

مزید :

اداریہ -