عطائیوں کے ہاتھوں ہر سال 2 سے اڑھائی ہزار شہری جان کی بازی ہارنے لگے، مراد راس

عطائیوں کے ہاتھوں ہر سال 2 سے اڑھائی ہزار شہری جان کی بازی ہارنے لگے، مراد راس

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر مراد راس نے ایک تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نجی اخبار خبر کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں عطائی ڈاکٹرز انسانی زندگیوں سے کھیلنے لگے ڈرگ انسپکٹر ٹاؤنز میں تعینات ڈی ڈی اوز نے سرپرستی شروع کر دی ہیلتھ کیئر کمیشن بے بس ہو گیا۔ حکومت پنجاب، محکمہ صحت، سٹی ڈسٹرکٹ اور پولیس کی نااہلی کے باعث لاہور میں 60 ہزار عطائی صحت کی سہولتوں کے نام پر شہریوں کی جانوں سے کھیلنے لگے۔ لاہور میں 60 ہزار ایسے عطائی موجود ہیں جو سرکاری ہسپتالوں میں وارڈ اٹینڈنٹ، بیرے، صفائی، آیا گیری، ڈریسر، آپریشن تھیٹر اسسٹنٹ، چوکیدار کا کام کرتے ہیں اور شاہدرہ، الطاف کالونی، راوی ٹاؤن، کوٹ خواجہ سعید، والٹن، چونگی امرسدھو، ٹھوکر نیاز بیگ، گڑھی شاہو، بادامی باغ، مینار پاکستان، سٹیشن، ملتان روڈ، مناواں، اقبال ٹاؤن سمیت دیگر علاقوں میں میڈیکل کلینک کا بورڈ لگا کر شہریوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتال ان عطائیوں کے متاثرہ مریضوں سے بھر گئے ہیں ۔

ان کے ناقص علاج کی وجہ سے ہیپاٹائٹس بی سی، گردوں کے لاحقے، ہڈیوں، جگر، پھیپھڑوں کا کینسر اور ایڈز تیزی سے پھیل رہی ہے قانون کے مطابق عطائی اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھ سکتا جبکہ ہیلتھ کیئر کمشن نے عطائیت کو غیر قانونی کاروبار قرار دیا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -