ٹرمپ، پاکستانی میڈیا اور عوام

ٹرمپ، پاکستانی میڈیا اور عوام
 ٹرمپ، پاکستانی میڈیا اور عوام

  

امریکی الیکشن کے حوالے سے پوری دنیا جس قدر پریشان ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ واقعی دنیا کا چوہدری اور سپر پاور ہے امریکی الیکشن کے حوالے سے فرانس ‘ روس ‘ برطانیہ اور بھارت وغیرہ کی پریشانی تو سمجھ آتی ہے کہ انکا امریکی انتخابات سے براہ راست کنسرن تھا یا پھر چین اور امریکی عوام کے ہیلری کے ہارنے یا ٹرمپ کے جیتنے سے تعلق ہو سکتا ہے ۔ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستانی حکومت اس سارے معاملے کو کس طرح مانیٹر کر رہی ہے ‘ حکومتی سطح پر وزارت خارجہ کس طرح دنیا کی سپر پاور امریکہ میں ہونے والی ایک بڑی تبدیلی کے حوالے سے تیاری کر رہی ہے ‘ ہماری تو حالت یہ ہے کہ ابھی تک باقاعدہ وزیر خارجہ بھی میسر نہیں آیا، حکمران جماعت اور اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں کی توجہ پانامہ لیکس اور نیوز لیکس پر ہے ۔ یہ بھی ایک فطری بات ہے کہ جب گھر میں بے چینی ‘ غیر یقینی اور بے سکونی ہو تو باہر کے معاملات پر کیسے نظر رکھی جا سکتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ موجودہ حکومت نے کچھ دنوں سے سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ میڈیا کا فوکس پانامہ اور نیوز لیکس سے ہٹ کر تقریباً ایک ہفتے سے امریکی الیکشن پر تھا اب دوبارہ پاکستانی میڈیا اپنا رخ ایک بار پھر پاکستانی ایشوز کی طرف کر رہا ہے آپ جس دفتر یا گلی محلے میں چلے جائیں وہاں پر ہر شخص ہیلری کی شکست اور ٹرمپ کے جیتنے پر پریشان ہے اس پریشانی کی سب سے بڑی وجہ پرنٹ ‘ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ہے جو ایک ایشو کو اس حد تک اوپر لے جاتا ہے کہ وہ عوام کے ذہنوں پر اس تک اثر انداز ہوتا ہے کہ عام آدمی اس ایشو کا اپنی روزمرہ کی زندگی کیساتھ موازنہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ امریکی الیکشن کے حوالے سے بھی اس مرتبہ ایسے ہی ہوا کہ میڈیا نے امریکی الیکشن پر جس طرح بال ٹو بال کمنٹری کی پاکستانی عوام کے ذہنوں پر اس کمنٹری کے اثرات محسوس کرنے کیلئے یہ واقعہ کافی ہو گا جو میرے ایک دوست کے دفتر میں میرے ساتھ پیش آیا۔ میں دوپہر کے وقت ایک دوست کے دفتر گیا تو وہاں پر ایک خان صاحب تشریف فرما تھے جن سے تین چار فٹ دور تک نسوار اور چرس وغیرہ کی بو آ رہی تھی موصوف انتہائی پریشانی کے عالم میں میرے دوست سے پوچھ رہے تھے کہ ٹرمپ جیت گیا ہے ہمارا لکڑی کا بزنس ہے اس کا کیا بنے گا ‘ میرے دوست نے میری مدد سے ایک گھنٹہ لگا کر موصوف کو قائل کیا کہ آپ کے کاروبار سمیت ہمارے کسی کے کاروبار کو کچھ نہیں ہو گا آپ سکون کے ساتھ نسوار کھائیں اور چوری کی لکڑی بے فکری کیساتھ فروخت کرتے رہیں۔ آپ کو پاکستانی یا امریکی ٹرمپ سمیت کوئی نہیں پوچھے گا ایک گھنٹے کی دلائل سے بھرپور گفتگو کے بعد جب ہم کو یقین ہونے لگا کہ خان صاحب پوری طرح قائل ہو گئے ہیں اسی دوران سامنے دیوار پر لگی ایل سی ڈی کو آن کیا تو ایک ٹی وی چینل پر رپورٹ چل رہی تھی جس میں ایک رپورٹر اچھرہ بازار میں کھڑا دکانداروں اور عوام سے پوچھ رہا تھا کہ ٹرمپ کے آنے سے آپ کے بزنس اور پاکستان کے حالات پر کیا اثر پڑے گا رپورٹر کے یہ الفاظ جونہی خان صاحب کے کانوں میں پڑے انہوں نے ایک بار پھر چلانا شروع کر دیا کہ دیکھو ٹی وی والا کہہ رہا ہے کہ فرق پڑے گا ‘ میرے دوست اور خان کے درمیان ابھی بحث جاری تھی کہ میں نے وہاں سے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور گھر جاتے ہوئے پورے راستے میں سوچتا رہا کہ میڈیا کی آزادی اور انقلاب تو ہمارا بھی خواب تھا کیا یہی وہ خواب تھا جس میڈیا کی آزادی اور انقلاب کیلئے ہمارے سینئرز نے قربانیاں دی تھیں ‘ سوال تو یہ بھی ہے کہ جتنی آزادی آج ہمیں حاصل ہے ہماری ریاست اتنی آزادی کو ہضم کرنے کی استعداد رکھتی ہے ؟ ذرا سوچئے کہ جس حرکت کا نام ہم نے میڈیا کی آزادی رکھ لیا ہے حقیقت میں وہ میڈیا کی آزادی کے روپ میں تباہی و بربادی کا کھیل تو نہیں ہے ۔ میرے ایک دوست کی رائے ہے کہ میڈیا کی آزادی کے نام پر جو کھیل جاری ہے یہ اسی طرح جاری رہا تو ملک نہیں چل سکتا اور خاص طور پر جس ملک میں ٹی وی چینلز کے چند ٹیکرز اور دو چار ٹاک شوز فیصلہ کریں کہ آئندہ 36 یا 72 گھنٹوں کیلئے ریاست کیا کرے گی ‘ عوام کیا سوچیں گے، عوامی فرسٹریشن کا لیول کیا ہو گا ‘ کاروبار حکومت کیسے چلے گا ‘ اپوزیشن کیا سودا بیچے گی ‘ پی ٹی آئی کا رد عمل کیا ہو گا ؟ تو پھر ایسی ریاست کیلئے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ میں بھی اسی آزاد میڈیا کا ایک حصہ ہوں لیکن میں ذاتی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں بہت سارے مسائل ضرورت سے زیادہ آزادی کی وجہ سے ہیں ‘ میڈیا سے لیکر وکلاء تک اور وکلاء سے لیکر دیگر ریاستی اداروں تک جس ادارے کے پاس جتنی طاقت ہے وہ اتنی ہی سپیس لیتا جا رہا ہے ‘ ریاست جس نے تمام اداروں کو اپنی اپنی حدود و قیود میں رکھنا تھا وہ ریاست مختلف نان اسٹیٹ ایکٹرز ‘ پریشر گروپس کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر بلیک میل ہو رہی ہے حالانکہ ریاست ایک واحد ادارہ ہے جس کو لکھ پڑھ کر جبر کا اختیار دیا گیا ہے ہمارے ہاں وکلاء تحریک میں اعتزاز احسن کہا کرتے تھے کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی لیکن وہ شاید یہ بھول گئے کہ ریاست کو کبھی کبھار سوتیلا باپ بھی بننا پڑتا ہے مگر ریاست پاکستان نہ ماں ہے اور نہ ہی اس میں سوتیلے باپ جیسا سلوک کرنے کی سکت ہے یہاں تو تمام معاملات مصلحت ‘ مفاہمت اور یا پھر این آر او کی نذر ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام اور میڈیا کو جتنی فکر ہیلری کے ہارنے اور ٹرمپ کے جیتنے کی ہے اگر اس سے چوتھا حصہ میڈیا اور عوام کو پاکستان اور اس کے اصل ایشوز کی فکر ہو جائے تو یقین جانیے کہ ملک و قوم کا نقشہ ہی بدل جائے۔ میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ میڈیا پر پابندی لگا دی جائے یا پھر میڈیا نے امریکی الیکشن کی کوریج کیوں کی میرا مقصد تو صرف توجہ دلانا ہے کہ ہر معاملے میں توازن ہونا چاہئے اور میڈیا کو پاکستان اور 20 کروڑ عوام کے جینوئن ایشوز پر فوکس کرنا چاہئے جو بدقسمتی سے نہیں ہے۔ آپ کو کسی چینل پر ایسا ٹاک شو نہیں ملے گا جس میں یہ بحث ہو رہی ہو کہ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ ہے یہ جب 25 یا 30 کروڑ سے تجاوز کرے گی تو ہماری صورتحال کیا ہوگی ؟ حکومت کو اس حوالے سے کیا کرنا چاہئے آپ کو کبھی یہ گفتگو بھی سننے کو نہیں ملے گی کہ پاکستان کی ایجوکیشن پالیسی کیا ہے اور کیا ہونی چاہئے۔ موسمی تبدیلیاں پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں ہمارا یہ بھی مسئلہ نہیں ‘ غربت ‘ بے روز گاری یقیناًایک بہت بڑا ایشو ہے مگر ہمارا میڈیا اور حکومت اس پر بھی بات کرنے اور اس کا حل تلاش کرنے کیلئے تیار نہیں ‘ غذائی قلت اور پانی کا مسئلہ موت اور زندگی کا مسئلہ ہے ‘ حکومت اور میڈیا نے کبھی اس کو بھی موضوع بنانے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ یہ درست ہے کہ میڈیا ایک ایسا جن ہے جس کو کھانے کیلئے روزانہ بہت ساری خبریں چاہئیں مگر یہ کہاں لکھا ہے کہ تمام کی تمام خبریں نیگیٹو ہونگی ‘ کیا پاکستان میں کوئی اچھا کام نہیں ہوا یا نہیں ہو رہا یا نہیں ہو سکتا ‘ کیا ہم اپنی ٹی وی سکرین کے ذریعے کونسا پاکستان پوری دنیا میں بیچ رہے ہیں۔ بھارت سمیت پوری دنیا کا میڈیا نیشنل ایشوز سمیت اپنے ملک اور عوام کے رئیل ایشو پر فوکس کئے ہوئے ہے مگر ہم آج بھی نان ایشوز کو ایشو بنا کر اور ڈس انفارمیشن کا نام دیکر زبردستی لوگوں کے دماغوں میں ٹھونس رہے ہیں ‘ اپنی خواہش کو خبر اور تجزیہ کا نام دیکر ہم روزانہ حکومتیں بناتے اور گراتے رہتے ہیں اور جب اگلے روز حکومت اسی جگہ موجود ہوتی ہے تو ہم اپنی ڈس انفارمیشن یا جھوٹ پر افسوس اور معذرت بھی نہیں کرتے اور اگلے روز ایک نئی پٹاری کھول دیتے ہیں۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -