سی پیک منصوبہ خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا :احسن اقبال

سی پیک منصوبہ خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا :احسن اقبال

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا ۔کراچی میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی بہتر کرنا صوبائی معاملہ ہے ۔وفاقی حکومت نے کراچی کو پینے کے صاف پانی فراہمی کے لیے 6ارب روپے مختص کیے ہیں ۔ملک کی پہلی گرین لائن بس منصوبہ بھی کسی اور شہر کے بجا ئے حکومت نے کراچی کے شہرکو تحفے کے طور پر دیاہے۔دس سالہ نئے تعلیمی پلان کے تحت جلد صوبائی حکومتوں سے مشاورت کریں گے ۔پاکستان وژن 2015 کے تحت آنے والے دس سالوں میں ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوجائے گا۔وہ جمعہ کو جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمائی و حیاتیاتی علوم میں جدید اسکپڑو میٹر مشین نصب کرنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔اس مشین سے بیماریوں کو مالیکولر سطح پر سمجھنے اور تشخیص میں مدد ملے گی۔یہ مشین 800 میگا ہرٹز صلاحیت رکھتی ہے اور اس پر 17کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔جدید مشین دماغ رسولی،انسانی خلیات اور دیگر بیماریوں کو سمجھنے اور ان کے علاج میں معاون ثابت ہو گی۔یہ خطے میں نصب کی جانے والی اپنی نوعیت کی پہلی مشین ہے۔چوہدری احسن اقبال نے کہا کہ ہمارے دور میں یونیورسٹیوں کے لیے نئے گرانٹ کی منظوری دی گئی ہے ۔ ہم نے ایسے پراجیکٹس شروع کیے ہیں جس نے ملکی تعلیم پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں میں نے ڈاکٹر عطا الرحمان کے لیے کہا کہ ان سے خدمات لی جائیں اور ان کی کاوشوں سے آج ہمارے پاس7 ہزار سے زائد پی ایچ ڈیز موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور اب ماڈرن اور ایجادات کا دور ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد اب ہمارے پاس صوبائی طاقت زیادہ ہے ، تاکہ صوبوں کی تعلیم پر توجہ دی جائے انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے آخر میں ہائر ایجوکیشن کی نئی سمت کے تعین کے لیے ایک کانفرنس منعقدکی جا رہی ہے، جس میں جامعات کا آصل مقصد اور راہ کا تعین کیا جائیگا۔ ہم نے تحقیق کرنا چھوڑ دی ہے ہی وجہ ہے کہ ہماری تعلیمی صلاحتیں دن بدن گھٹتی جارہی ہیں ۔ ہم ترقی پذیر ممالک میں شامل ہیں ۔ ہمیں ریسرچ وہ کرنی ہے جو ہمارے لوگوں کے لیے بہتر ہو۔ یونیورسٹی اور ایجوکیشن سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں محنت کرنا ہوگی۔ یونیورسٹیز کا کام ہے کہ بہترین ریسرچرز پیدا کرے۔چوہدری احسن اقبال نے کہا کہ ہائیرایجوکیشن کا بجٹ سوبلین سے بڑیاکر دوسو ارب کررہے ہیں.۔ملک میں پرائمری سے لیکریونیورسٹیزتک تعلیم معیارکا بہترنہیں ہے۔تعلیمی میدان میں بڑے چلینجز کا سامناہے۔ہائیرایجوکیشن وفاق اور یونیورسٹیز صوبے کے ماتحت ہیں۔نئے تعلیمی پلان کے تحت حکومت دیہی اسکولز میں کمپیوٹر، لیب قائم کرنا کا ارادہ رکھتی ہے۔تعلیم کو فروغ دینے کیلئے قومی نصاب کونسل تشکیل دیدی ہے۔بدقسمتی کے ساتھ ہمارانوجوان ڈگریاں لیکر مارا مارا پھررہاہے لیکن اس کی ڈگری کو اہمیت نہیں مل رہی ہے۔موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ یونیورسٹیز کے رول کو مزید موثربنایاجائے تاکہ تعلیم کی کوالٹی کو بہتر بنایا جاسکے۔آرٹی فیشل ٹیچرز سے صرف روبوٹ ہی پیداکئے جاسکتے ہیں باصلاحیت نسل نہیں۔ ہمیں ربوٹ پیداکرنے کے بجا ئے تخلیقی دماغ پیدا کرنے ہوں گے۔ہمیں امریکا سے بارود اور اسلحہ کی بجائے تعلیم کے میدان میں مقابلہ کرنا پڑے گا۔امریکا کی ترقی کا راز بھی اسلحہ اور بارود نہیں بلکہ تعلیم اور یونیورسٹیزہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان وژن 2015 کے تحت آنے والے دس سالوں میں ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوجائے گا۔وفاق حکومت شہروں کی بہتری کیلئے اربن سینٹرقائم کررہی ہے۔سینٹرکے قیام سے شہروں کی بہتری کا روڈ میپ بنایاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک ملک میں تبدیلی کا وژن ہے ۔سی پیک منصوبے پر عمل سے ملک دنیاکے ترقی یافتہ ملکوں میں شامل ہوجائیں گے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں اعلی تعلیمی یافتہ نوجوانوں کی ضرورت پڑے گی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -