محکمہ خوراک خانیوال میں کروڑوں کی کرپشن ، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا حکم

محکمہ خوراک خانیوال میں کروڑوں کی کرپشن ، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا ...

  

جہانیاں(نامہ نگار)محکمہ خوراک خانیوال میں کروڑوں کی کرپشن تحقیقات کے لیے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا حکم جاری کردیا۔ محمد شبیر ولد محمد رفیق چک نمبر132/10R نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب لاہور کے نام تبدیلی تفتیش مقدمہ نمبر36/16 تھانہ ACEخانیوال کے لیے دی گئی درخواست میں لکھا ہے کہ دوران خریداری (بقیہ نمبر6صفحہ12پر )

گندم سال2016-17حکومتی پالیسی کے برعکس مجھ سمیت دیگر کسانوں سے محکمہ خوراک کے آفیسران و اہلکاروں نے مل کر فی بوری ایک سے دو کلو اور فی تھیلا ایک کلو گرام تک زبردستی اضافی گندم لے کر ضلع خانیوال کے 14گندم خریداری سینٹروں پر اضافی گندم کی مد میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی گئی اور محکمہ خوراک خانیوال کے ڈی ایف سی او فوڈ انسپکٹروں نے اپنی جیبیں گرم کیں سرعام کسانوں کو لوٹا گیا ناجائز کٹوتیاں کی گئیں کنڈے میں ہیرا پھیری کرکے ناپ تول میں بھی ڈنڈی ماری گئی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان کے حکم پر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن محمد ارشد گوپانگ کی رپورٹ پر ملک ممتاز ڈی ایف سی خانیوال اور دیگر فوڈ انسپکٹروں کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن خانیوال میں مقدمہ نمبر36/16بجرم5/2/47PCAاور161ت پ مورخہ06-08-2016 درج ہوا مقدمہ کی تفتیش سید سرفراز گیلانی اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن خانیوال کے سپرد ہوئی دوران تفتیش وتحقیقات نہ تو کسی سینٹر کا ریکارڈ قبضہ میں لے کر چھان بین کی گئی اور نہ ہی موقعہ پر بوریوں اور تھیلوں کا ون چیک کیاگیاکو موقعہ پر بوریوں اور تھیلوں کا وزن چیک کرنے کے لیے درخواست گزاری لیکن ٹال مٹول سے کام لیاگیا مقدمہ بالا کی تفتیش یکطرفہ کی گئی ہے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مقدمہ مندرجہ بالا کی تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جائے درخواست میں لکھا ہے کہ پاکستان کا معتبر ادارہ نیب ملتان معاملہ مندرجہ بالا محکمہ خوراک میں ہونے والی کروڑوں کی کرپشن کی تحقیقات کررہا ہے اور ابتدائی تفتیش میں ہی کروڑوں کی کرپشن ثابت ہوچکی ہے ایسی صورت میں سید سرفرازحسین گیلانی اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن خانیوال نے حقائق کے برعکس مقدمہ بالا یکسو کردیا ہے اور کروڑوں کی کرپشن کرنے والے محکمہ خوراک خانیوال کے کرپٹ عناصر کی سرپرستی کرتے ہوئے مقدمہ ڈراپ کیا ہے جو کہ سراسر بدیانتی اور اختیارات سے تجاو ز ہے حقائق کے برعکس تفتیش کرنے والے ایسے آفیسر کو اینٹی کرپشن جیسے احتسابی ادارے میں تعینات کرنا بھی سراسر عوام سے زیادتی ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان کو تحقیقات کے احکامات جاری کردےئے ہیں ادھر نیب ملتان نے بھی پانچ سالہ ریکارڈ قبضہ میں لے کر کاروائی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ٹھٹھہ صادق آباد کا تمام ریکارڈ قبضہ میں لیاجا چکا ہے۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن

مزید :

ملتان صفحہ آخر -