تاجکستان پاکستان کیساتھ تجارتی روابط کو اہمیت دیتا ہے، شیرعلی جانوو

تاجکستان پاکستان کیساتھ تجارتی روابط کو اہمیت دیتا ہے، شیرعلی جانوو

  

راولپنڈی(جنرل رپورٹر)تاجکستان پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط کو اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے مابین تجارت کا فروغ چاہتا ہے ، پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعلقات کی بنیاد ثقافت، مذہب اور تاریخ پر مبنی ہے اور ان کی جڑیں بہت گہری ہیں تاجکستان کوپاکستان کی توانائی کی ضروریات کا احساس ہے کاسا 1000معاہدے کے تحت بجلی کی فراہمی کویقینی بنایا جائے گا ، دونوں ممالک کے مابین ٹرانسپورٹیشن ، کسٹم، اور بنکنگ کے مسائل کو جلد حل کر لیا جائے گا تا کہ باہمی رسائی اور تجارت میں آسانی ہو، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اور اضافہ ہو گیا ہے سنٹرل ایشیا ئی مما لک خاص طور پر تاجکستان کو گوادر کی بندر گاہ سب سے قریب پڑتی ہے پاکستانی کاروباری برادری کو فعال ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بے شمار تجارتی اور کاروبا ری مواقعوں سے فائدہ اٹھا سکیں ،سفارتخانہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے ، ان خیالات کا اظہار تاجکستان کے سفیر شیر علی جانونوف(Sherali Jononov) نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑی کے دورے کے دوران تاجروں کے ایک اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صدر چیمبرراجہ عامر اقبال، سینئر نائب صدر راشد وائیں، نائب صدر عاصم ملک، سابق صدور سید علی رضا شاہ ، میاں ہمایوں پرویز ، ارکان مجلس عاملہ اور تاجروں کی ایک کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ سفیر نے کہا تاجکستان سمیت دوسرے ممالک میں راولپنڈی چیمبر کی میڈ ان پاکستان نمائشوں کو سراہاتے ہیں جلد ہی پاکستان میں بھی اسی طرح کی نمائش کا انعقاد کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیمنٹ، توانائی، قیمتی پتھر، مائنگ اور ایلومینیم کے شعبوں میں تجارت کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ اس موقع پر صدر چیمبرراجہ عامر اقبال نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں کہا کہ کاسا 1000منصوبے سے پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی ،دونوں ممالک کو توانائی سمیت دیگر شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دینا چایئے ،دونوں ممالک کا موجودہ تجارتی حجم انتہائی کم ہے ، دونوں ممالک کی حکومتوں اور کاروباری برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چایئے تا کہ تجارتی روابط کو بڑھایا جا سکے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہو گا ان میں ٹرانسپورٹیشن سر فہرست ہے اس کے ساتھ ساتھ چیمبر کی سطح پر وفود کے تبالوں کی ضرورت ہے ۔ صدر آر سی سی آئی نے پاکستان افغانستان سنٹرل ایشین ٹریڈ سمٹ کے حوالے سے کہا کہ ریسرچ رپورٹ تکمیل کے مرحلے میں ہے جس کا جلد ہی افتتاح کیا جائے گا اور دو روزہ کانفرنس اگلے سال مارچ اپریل میں دوشنبے میں منعقد کی جائیگی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -