گڈانی حادثہ کی تحقیقات مکمل ،رپورٹ پیر کو وزیر اعظم کو پیش کر دی جائے گی:رانا ترتنویر

گڈانی حادثہ کی تحقیقات مکمل ،رپورٹ پیر کو وزیر اعظم کو پیش کر دی جائے گی:رانا ...

  

اسلام آباد(اے این این) وفاقی وزیر دفاعی پیدا وار رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ گڈانی حادثے پر تحقیقاتی کمیٹی نے 90 فیصد سے زائد کام مکمل کر لیا،رپورٹ پیر کو وزیر عظم کو پیش کر دی جائے گی ، جہاز توڑنے والی کمپنی کے پاس این او سی نہیں تھا، مالک کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں کے حکام کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا ، مستقبل کے لیے شپ بریکنگ کے مراحل کی نگرانی کے لیے بورڈ بنایا جائے گا ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ گڈانی حادثے پر تحقیقاتی کمیٹی نے 90 فیصد سے زائد کام مکمل کر لیا ہے، مالک کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں کے حکام کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا ، مستقبل کے لیے شپ بریکنگ کے مراحل کی نگرانی کے لیے بورڈ بنایا جائے گا ۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ گڈانی میں موقع پر جا کر ساری صورتحال کا خود جائزہ لیا، جہاز توڑنے والی کمپنی کے پاس این او سی نہیں تھا ، این او سی کا عمل پراسیس میں تھا ، انتظار کئے بغیر توڑنے کا کام شروع کر دیا گیا ۔رانا تنویرحسین نے کہا کہ اس صنعت سے 12 ارب کی آمدن ہوتی ہے لیکن سہولیات کوئی نہیں ، قوانین موجود ہیں لیکن عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا ۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ گڈانی واقعہ میں جو افسران غفلت کے مرتکب ہیں ان کو معطل کر کے کارروائی کر رہے ہیں ۔ وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گڈانی واقعے سے متعلق ایم ڈی شپنگ کارپوریشن نے ابتدائی رپورٹ 24 گھنٹے میں ہی تیار کرلی تھی جبکہ تفصیلی رپورٹ کیلئے ان کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی تھی، تحقیقاتی کمیٹی نے ایم ڈی شپنگ کی رپورٹ کی روشنی میں گڈانی میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا، کمیٹی نے تمام متعلقہ افسران و حکام ، مزدوروں اور جہاز کے مالک کو جیل سے بلوا کر کے بیانات قلمبند کئے اور اب تک 90 فیصد تحقیقات مکمل کی جاچکی ہیں جس میں بلوچستان حکومت کی تحقیقات اور تجاویز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ پیر کے روز وزیر اعظم کو پیش کردی جائے گی۔رانا تنویر کا کہنا تھا کہ جس جہاز کو لنگر انداز ہونے کیلئے دوسرے ممالک انکار کردیتے ہیں وہ پاکستان آجاتا ہے، متعلقہ اداروں نے اس سانحے میں لاپرواہی برتی، حکومت کیجانب سے گڈانی واقعے میں ملوث افسران اور ذمہ داروں کو معطل کیا جارہا ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -