زرعی زہر کی خرید و فروخت انتہائی حساس معاملہ ہے :ڈائریکٹر جنرل زراعت

زرعی زہر کی خرید و فروخت انتہائی حساس معاملہ ہے :ڈائریکٹر جنرل زراعت

  

پشاور (سٹاف رپورٹر) زرعی زہر کی خرید و فروحت انتہائی حساس معاملہ ہے اس کے غیر ضروری استعمال سے نہ صرف ماحول پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی باعث بن جاتے ہیں اس لئے محکمہ زراعت زہریلی ادویات کے کھلے عام فروخت کے خلاف اپنے محدود وسائل کے باوجود بھرپور اقدامات اٹھا رہا ہے۔یہ باتیں ڈائریکٹر جنرل محکمہ زراعت خیبر پختونخوا اقبال حسین نے پورے صوبے کے ضلعی ڈائریکٹرز اور پلانٹ پروٹیکشن افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے بتائیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ زرعی زہر کی کھلے عام فروخت کے ذریعے سے کسی کو بھی انسانی جانوں سے کھیلنے کا موقع ہر گز نہیں دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی طریقے سے زرعی زہر کے کاروبار میں ملوث دکانداروں اور اہلکاروں کے خلاف ہر ضلع کی سطح پر پلانٹ پروٹیکشن کی ٹیمیں منظم کی گئی ہیں جو مقامی پولیس کے تعاون سے ان کے خلاف بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہیں۔محکمہ زراعت سے ٹریننگ اور سند حاصل کئے بغیر کسی بھی شخص کو کسی قسم کے زرعی زہروں کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہے۔محکمہ زراعت شعبہ توسیع نے حال ہی میں کئی اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کی زیر نگرانی ایسی دکانوں کوسیل کر دیا گیا ہے جن میں زرعی زہروں اور کیمیائی کھادوں کے غیر قانونی کاروبار کئے جا رہے تھے نیز ان کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا چکی ہے۔ہر ضلع میں محکمہ زراعت کے اہلکار پسٹی سائڈ کی دکانوں اور گوداموں سے زرعی زہروں کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری میں تجزیئے کے لئے بھیجتے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پسٹی سائڈ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اس کے علاوہ زرعی زہروں کے غیر ضروری اور بے جا استعمال کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے فیلڈ ڈیزکے موقع پر کسان اور عام آدمی کی رہنمائی کی جاتی ہے کہ زراعت میں زرعی زہروں کے استعمال اور انحصار کو کم سے کم کر کے قدرتی طریقوں سے کیرے مکوڑوں اور بیماریوں کا تدارک کیا جائے۔اسی طرح اخبارات ،رسائل اور خیبر پختونخوا کے واحد زرعی رسالہ’’زراعت نامہ‘‘ اور ریڈیو پروگرامات کے ذریعے کسانوں کو زرعی ادویات کے محفوظ طریقوں سے استعمال اور اس کو بچوں و خواتین کی پہنچ سے دور رکھنے کی آگاہی دی جاتی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -