ٹرمپ کے خلا ف امریکا کے بیشتر شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ، ہائی وے بلا ک ، 60سے زائدشہری گرفتار

ٹرمپ کے خلا ف امریکا کے بیشتر شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ، ہائی وے بلا ک ، ...
ٹرمپ کے خلا ف امریکا کے بیشتر شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ، ہائی وے بلا ک ، 60سے زائدشہری گرفتار

  

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک ) نومنتخب امریکی صدر کی جیت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری ہے ہے جو روز بروز پھیلتا جا رہا ہے ۔ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سے متعدد شہروں میں شہری سڑکوں پر ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا صدر نا ماننے کی دہائی دے رہے ہیں ۔ مظاہرین نے ہائی وے اور دیگر شاہراہوں کو بند کر رکھا ہے جس سے ٹریفک کی روانی جیسے مسائل پیدا ہو گئے ہیں ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف شہروں میں60 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔

ٹرمپ کی کامیابی سے یورپ اور امریکا کے تعلقات متاثر ہونے کا خطرہ ہے : صدر یورپی کمیشن

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میڈیا پیشہ ور مظاہرین کو بھڑکا رہا ہے جو ان کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں اور یہ انتہائی غیر منصفانہ ہے۔

امریکی شہری واشنگٹن، اوکلینڈ، شکاگو ، لاس اینجلس ،فلاڈیلفیا ، ایکواڈور، سان فرانسسکو ، ڈینور، بوسٹن ، برکلے سمیت دیگر شہروں میں مظاہرین ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاوس کے سامنے مظاہر ہ کرنے والوں کا کہنا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر نہیں مانتے۔

اس کے علاوہ میامی اور دیگر شہروں میں لوگوں نے ٹرمپ ہوٹل کے سامنے احتجاج کیا جہاں پولیس نے مظاہرین پر لال مرچ والی سپرے بھی کی اور واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا ۔مشتعل شہریوں نے ٹرمپ کے خلاف نعرے بازی کی اور ہائی وے کو بلاک کر دیا تاہم اس دوران پولیس نے 60سے زائد شہریوں کو دنگا فساد کرنے کے الزامات پر گرفتار کر لیا ہے .

رینجرز کا پرانی سبزی منڈی میں آپریشن ، 3ملزمان گرفتار

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر اوباما سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاﺅس کے دورے کے موقع پر لی گئی وائٹ ہاﺅس کے عملے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائر ل ہوگئی ہیں جن میں وائٹ ہاﺅس کے عملے کے چہروں پر مایوسی اور غم وغصے کی لہر کو واضح طورپر دیکھا جاسکتا ہے۔

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میڈیا پیشہ ور مظاہرین کو بھڑکا رہا ہے جو ان کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں اور یہ انتہائی غیر منصفانہ ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -اہم خبریں -