چلی میں تنخواہوں میں اضافے کیلئے پبلک سیکٹر ملازمین سڑکوں پر نکل آئے

چلی میں تنخواہوں میں اضافے کیلئے پبلک سیکٹر ملازمین سڑکوں پر نکل آئے
چلی میں تنخواہوں میں اضافے کیلئے پبلک سیکٹر ملازمین سڑکوں پر نکل آئے

  

سان تیاگو (مانیٹرنگ ڈیسک )چلی کے دارالحکومت سان تیاگو میں تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر پبلک سیکٹر ملازمین سڑکوں پر نکل آئے اور کچرا اٹھانے سے انکار کر دیا ،ملازمین کے احتجاج کے باعث دارالحکومت میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں اور گندگی کا راج ہے ۔ 

تفصیلات کے مطابق سان تیاگو میں پبلک سیکٹر ملازمین نے ہڑتال کر دی ، ملازمین کا کہنا ہے کہ جب تک انکی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوتا کام پر واپس نہیں جائیں گے ۔ ہڑتال کے باعث دارالحکومت کی گلیوں اور شاہراہوں پر کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں ۔

ٹرمپ کے خلا ف امریکا کے بیشتر شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ، ہائی وے بلا ک ، 60سے زائدشہری گرفتار

دارالحکومت میں احتجاج کرنےوالے مظاہرین کومنتشرکرنے کےلئے پولیس نے مظاہرین پرواٹرکینن سے پانی برسایااورلاٹھی چارج کے دوران کئی مظاہرین کوگرفتارکرلیا۔

پبلک سیکٹرملازمین نے کریک ڈاو¿ن اورگرفتاریوں کے باوجود مطالبات کی منظوری تک ہڑتال اوراحتجاج جاری رکھنے کے عزم کااظہارکیاہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے چلی کے دارالحکومت سان تیاگو میں 1980ءکی دہائی سے رائج فرسودہ پنشن سسٹم کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے اور شہریوں نے پنشن سسٹم میں اصلاحات کامطالبہ کیاتھا۔

سندھ حکومت نے شاہ عبدالطیف بھٹائی کے عرس پر کل تعطیل کا اعلان کر دیا

واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال مئی میں چلی کے دارالحکومت سان تیاگو میں حکومت کی جانب سے تعلیمی اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہونے پر طلبا تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج کیاگیاتھا۔

مزید :

بین الاقوامی -