پاکستان میں ایک ایسا فیس بک پیج جس نے پورے ملک کی لڑکیوں کو شدیدغصہ چڑھا دیا، ایسا کیا ہے اس میں؟ جان کر آپ کا بھی دل کرے گا کہ ابھی یہ پیج چلانے والے کو ڈھونڈ نکالیں

پاکستان میں ایک ایسا فیس بک پیج جس نے پورے ملک کی لڑکیوں کو شدیدغصہ چڑھا دیا، ...
پاکستان میں ایک ایسا فیس بک پیج جس نے پورے ملک کی لڑکیوں کو شدیدغصہ چڑھا دیا، ایسا کیا ہے اس میں؟ جان کر آپ کا بھی دل کرے گا کہ ابھی یہ پیج چلانے والے کو ڈھونڈ نکالیں

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ کا استعمال جہاں انسان کو علم کی دولت سے نوازتا ہے وہیں اس کے بے پناہ منفی پہلو بھی ہیں اور جب اس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات دور تلک جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی آمد کے بعد کاروباری افراد اور ادارے اپنے کاروبار کو مزید پھیلانے کیلئے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹ کا سہارا لیتے ہیں اور پاکستان میں بھی اس کا خوب استعمال ہوتا ہے۔

دنیا کا شرمناک ترین میلہ چین میں سج گیا، ایسی چیزیں سیل پر لگادی گئیں کہ دیکھ کر شیطان بھی شرماجائے

لیکن اب ایک ایسا فیس بک پیج سامنے آیا ہے جو ایک ناجائز اور غیر قانونی کاروبار کی تشہیر کر رہا ہے اور اس کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے اس کے باعث پورے ملک کی لڑکیاں شدید غصے میں مبتلا ہیں۔ ”وکٹوریہ مساج سیلون اینڈ سپاء“ نامی فیس بک پیج پر کراچی کے شہریوں کو لڑکیوں کے ہاتھوں سے ’فل باڈی‘ مساج کی سہولت فراہم کرنے کی تشہیر کی جا رہی ہے جو سراسر غیر قانونی ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین اور قانون ایسے کسی کام بھی اجازت نہیں دے سکتا۔

اس کی انتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس کاروبار کی تشہیر کیلئے مختلف خواتین کی تصاویر کو استعمال کرنے کا گھٹیا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جو دراصل کوئی مساج کرنے والی نہیں بلکہ سوشل میڈیا صارفین ہیں اور اپنی تصاویر دیکھ کر شدید غصے اور صدمے سے دوچار ہیں۔

بہت سی لڑکیوں نے شکایت کی ہے کہ یہ پیج سوشل میڈیا استعمال کرنے والی مختلف لڑکیوں کی تصاویر چوری کرتا ہے اور انہیں اپنے پیج پر اپ لوڈ کر کے یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ مساج کرنے والی ہیں۔ اس پیج پر فحش ڈانس کی کچھ ویڈیوز بھی اپ لوڈ کی گئی ہیں۔

معاشرے میں موجود اس طرح کے دیگر ”گھٹیا“ لوگ اس پیج پر دوڑے چلے آ رہے ہیں اور ان کے کاروبار کی مذمت کرنے کے بجائے مزید تفصیلات طلب کر رہے ہیں اور جیسا کہ آپ کو پہلے بتایا گیا ہے کہ یہ مختلف لڑکیوں کی تصاویر استعمال کر رہا ہے جنہیں دیکھ کر صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئی مساج کرنے والی نہیں ہیں، اس لئے اس پیج کو وزٹ کرنے والے افراد ان لڑکیوں کی تصاویر اپ لوڈ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو درحقیقت ’مساج‘ کریں گی۔

ایشیا کا پہلا ملک جس نے شرمناک شادیوں کو قانونی قرار دینے کا فیصلہ کر لیا

مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے اس پیج کی اور اسے چلانے والے افراد کی شدید مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کارروائی کرنے اور اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسے کسی بھی منفی اور ناجائز کاروبار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -