کھیل کے میدان یا میدان جنگ؟

کھیل کے میدان یا میدان جنگ؟
کھیل کے میدان یا میدان جنگ؟

  

اظہر فاروق

انسان کی شخصیت سازی میں کھیل ایک اہم مقام رکھتے ہیں ۔ جب جسم تندرست و توانا ہو تبھی ایک صحت مند دماغ نمو پاتا ہے۔اس لئے بچپن سے بچوں کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف مائل کیا جاتا ہے تاکہ وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں مات نہ کھائیں ۔ درسگاہیں انسان کی روح کو توانائی بخشتی ہیں جبکہ کھیل کے میدان جسم کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

لیکن بعض اوقات کھیل کے میدان درندگی کی ایسی مثال پیش کرتے ہیںکہ روح کانپ اُٹھتی ہے۔کھیلوں کے میدانوں میں انسانیت کی ایسی توہین کی جاتی ہے کہ یہ گماں ہونے لگتا ہے جیسے آج بھی انسان پتھر کے دور میں رہ رہا ہو۔ما ر دھاڑ اور جذباتی انتہا کو کھیل کا نام دے کر درندگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

ایک طرف تو تہذیب و تمدن کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور دوسری طرف باکسنگ اورریسلنگ جیسے کھیلوں سے انسانوں کوبے مول کیا جاتا ہے۔ماضی میں بادشاہ اپنی تفریح کے لئے غلاموں کو لڑواتے تھے اور اُن لڑائیوں کا اختتام کسی ایک کی موت پر ہوتا تھا۔اپنی انا کی تسکین کے لئے غلاموں کو جانوروں سے لڑوایا جاتا تھااور زندگی کی بشارت صرف جیتنے والے کو ملتی تھی ۔ کھیلوں کے اکھاڑوں میں انسانوں کو اتار کر ان کے پیچھے بپھرے ہوئے سانڈوں کو چھوڑا جاتا تھا جن کے پاﺅں اور مقدر ساتھ دیتے تھے وہ بچ جاتے تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی آتی رہی اور ان کے انداز بدلتے رہے۔ لیکن یہ بے حسی آج بھی برقرار ہے۔ بُل فائٹنگ ، ریسلنگ اور باکسنگ ان درندہ صفت کھیلوں کی جدید شکل ہیں۔

ماضی کے کئی اُمڈتے ہوئے ستارے ان سفاک کھیلوں کی بھینٹ چڑھے ہیں۔کھیل کے میدان کئی بار خون کے میدانوں میں بدلے ہیں ۔ کئی بار انسانیت کی عظمت ان اکھاڑوں میں تارتار ہوئی ہے۔کئی جوانوں کے گرم خون نے ا ن میدانوں کی مٹی کی پیاس بجھائی ہے۔حکمرانوں اور سیاست دانوں نے بار ہا ان تربیت گاہوں کو سیاسی ہوس کے لئے استعمال کیا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق پچھلی ایک صدی میں تقریباً۶۶فٹ بالر کھیل ،۳۵باکسرز،۳ بل فائٹرز،۴۱ کرکٹرز،۵۳ سا ئکلسٹ،۷ تیراک،۷ ہاکی کے کھلاڑی،۷۲ کارریسرز،۲۱ موٹر بوٹ ریسرز،۱۲۱ موٹر بائیک ریسرز،۲۶۱ کوہ پیما،۶۱ اولمپکس کے کھلاڑی،۹ پولو کے کھلاڑی،۹۱ ریسلرز۹۳سکینگ کے کھلاڑی،۹ونگ سوٹ فلائٹ کے کھلاڑی اور ۱۲ پیرا شوٹرز کھیلوں کے دورا ن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان تمام کی موت کھیل کے دوران واقع ہونے والے نا موزں حالات اور کھیلوں کی خطرناک نوعیت سے ہوئی۔

۴۹۹۱میں تین بار دنیا کے چیمپین رہنے والے برازیلین سپر سٹار آئرٹن سیناایک کار ریس جیتنے کے جنون میںزندگی کی بازی ہار گئے ۔ ان کی موت ایک معمہ ہے جو ابھی تک حل نہیں کیا جا سکا۔ ایسا کھیل جو زندگی کا خاتمہ کردے کس طرح انسان کے لئے فائدہ مند ہوسکتا ہے؟۔

کھیل کے میدانوں کو دہشت گردی اور حریت کے نام پر خون میں ڈبودیا گیااور انسانی سروں سے فٹ بال کھیلے گئے۔۲۷۹۱میں میونخ میں اولمپکس کی تقریب منعقد کی گئی جس میں کچھ فلسطینی افراد نے ہجوم میں فائرنگ کرکے ۱۱ اسرائیلی کھلاڑیوں کو ابدی نیند سلادیا ۔یہ ایک ہولناک سانحہ تھاجس کے پیچھے سیاسی وجوہات تھیں۔لیکن کیا انسانی عقل اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اپنے مقاصد کے لئے لوگوں کا خون بہایا جائے اور کھیلوں کی زمیں کو خون میں رنگا جائے؟

۹۲ مئی ۵۸۹۱میں بیلجیم میں دو فٹ بال کی ٹیموں کے مابین تصادم میں۹۳ افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔

۲۳۵میںقسطنطنیہ میں رتھ دوڑ کے دوران دو گروہوں میں تصادم میں ۰۰۰۰۰۳ کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔یہ تاریخ کا ایک بہت بڑا سانحہ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اپنی انا کی تسکین کے لئے کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔

امریکہ اور بہت سے ممالک میں سٹریٹ فائٹنگ عام ہوگئی ہے جس میں عام لوگ حصہ لیتے ہیں اور جواری ان پر جوا لگاتے ہیں ۔ جیتنے کی صورت میں ان کو جوے میں جیتی گئی رقم کا کچھ حصہ دیا جاتا ہے ۔ اکثر ان لڑائیوں میں لوگ مارے جاتے ہیں اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان کی موت کو ریکارڈ ہی نہیں کیا جاتا۔

برازیل میں ہر سال بُل ریس منائی جاتی ہے جس میں غصیلے بیلوں کو لوگوں کے پیچھے چھوڑا جاتا ہے اور لوگ ان کے آگے آگے بھاگتے ہیں۔ اس بیوقوفانہ حرکت کو ایڈونچر کا نا م دیا جاتا ہے اور توجیہہ پیش کی جاتی ہے کے اس طرح موت کا ڈر ختم ہو جاتا ہے۔

کھیلوں پر بہت سی فلمیں بنا ئی جاتی ہیں ۔ اگر چہ ان فلموں کا مقصد لوگوں کو کھیل کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ فلمیں نوجوان نسل کو اشتعال انگیز بناتی ہیں۔یپ مین یک مشہور مارشل آرٹسٹ تھا۔ان کی زندگی پر بننے والی فلم ©یپ مین فائٹرنہ صرف ان کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے بلکہ مارشل آرٹس کا پرچار بھی کرتی ہے۔ اس فلم کے ذریعے جس طرح مارشل آرٹس کی تبلیغ کی گئی ہے اس سے نوجوان نسل پر بہت غلط اثر پڑا ہے۔ بالخصوص بچے اس سے بری طرح متا ثر ہوئے ہیں۔ بچوں کو لگتا ہے کہ اگر انکو مارشل آرٹس پر عبور ہو تو وہ کسی کو بھی چت کر سکتے ہیں۔

بھارتی فلم میری کوم بھی ایک باکسر کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی گئی جس میں ایک باکسر کی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد بہت سے بچوں نے باکسر بننے کے خواب دیکھے ہیں ۔مار دھاڑ پر مبنی اس فلم سے ان دیکھے سماجی مسائل پیدا ہووے ہیں ۔ریگنگ بُل بھی میری کوم کی طرز کی فلم ہے جس میں اسی طرح کے خیالات کی عکاسی کی گئی ہے۔

لوگ کھیل میں ہار اور جیت کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیںاور جیت حاصل کرنے کے جنون میں اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔کرکٹ کے میدان سے لے کربا کسنگ کے باکس تک ہر جگہ ایک دوسرے کی زندگی کی پرواہ کئے بغیر اپنا الّو سیدھا کیا جاتا ہے۔آئے دن خبروںمیں لوگوں کے سیاہ کارنامے چھپتے ہیں جو یہ عیاں کرتے ہیں کہ کیسے مختلف قسم کی ادویات کا استعمال کر کے کھلاڑی مصنوعی کاردگردگی پر انحصار کرتے ہیں۔ہر سال لاکھوں روپے سپلیمنٹ کے نذر کیے جاتے ہیں۔ ریسلنگ جیسے کھیلوں سے بچوں میں مار دھاڑ کے جذبات پیدا ہورہے ہیں۔

ہم اکیسویں صدی میں رہنے والے ہیں ۔ امن،اخوت ، تہذیب و تمدن ہمارے پسندیدہ نعرے ہیں ۔ ہم انسانیت کا پرچار کرتے ہیں ، بھائی چارے کا درس دیتے ہیں اور برائی سے نفرت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ریسلنگ کو سراہتے ہیں، بُل فائٹنگ کو ایڈونچر کہہ کر لطف اندوز ہوتے ہیں، کھیلوں کو جنگ کا میدان سمجھتے ہیں، اپنے حریف کی ہار سے انا کی تسکین کرتے ہیں، انسانیت کا خون کرتے ہیں اور پھر بھی ہم خود کو مہذب کہتے ہیں۔ کیا یہی انسا نیت ہے؟ کیا کھیل ہمیںیہ سکھاتے ہیں؟ کھیلوں کے میدانوں میں ہونے والی اموات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا انسان مہذب ہوچکاہے یا پھر حیوانیت ابھی تک اس کے خون میں شامل ہے؟

( اظہر فاروق پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں فائنل ائیر کے طالب علم ہیں)

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -