ینگ ڈاکٹرز کا مسئلہ سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ حقیقت جان لیں

ینگ ڈاکٹرز کا مسئلہ سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ حقیقت جان لیں
ینگ ڈاکٹرز کا مسئلہ سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ حقیقت جان لیں

  



ڈاکٹر طلحہ عباس (نیورواینڈ سپائن سرجن)

ایک دفعہ ایک مل میں مزدوروں کے گھروں کو آگ لگ گئی۔ مالک ایک ضروری کال کررہا تھا۔ بتانے والے نے بتایا جناب مل میں آگ لگ گئی ہے اور مزدوروں کے گھر جل رہے ہیں۔ مالک نے پوچھا کہ اس کا آفس محفوظ ہے۔ کہا گیا ہاں۔ مالک نے کہا”توپھر میرا وقت کیوں ضائع کررہے ہو جی ایم سے کہو“

جی ایم ایک پارٹی میں مصروف تھا۔ اس نے کہا ”یہ میرا کام نہیں تم لوکل منیجر سے کہو“ سوئے ہوئے لوکل منیجر کواٹھایا گیا تو اس نے بڑی بدتمیزی سے کہا ” سپروائزر سے کہو کچھ کرے میری نیند کیوں خراب کرتے ہو“ سپروائزر نے اپنے گھر کی چھت پر کھڑے ہوکر آگ کو دیکھا اور کہا ”صبح دیکھی جائے گی“

اس سارے واقعہ میں مالک کو ٹیلی فون سننے میں تکلیف ہوئی۔ جی ایم کی پارٹی کے چند منٹ برباد ہوئے، لوکل منیجر کی نیند خراب ہوئی۔ سپروائزر کو چھت پر چڑھنا پڑا اور مزدوروں کے 10 گھر جل گئے۔ 4 بچے جھلس کر مرگئے ۔باقی شدید زخمی ہوئے۔ صبح وہ لوگ احتجاج پر آئے تو مالک نے چند کوڑیاں ان کے ہاتھوں میں تھما کر اپنی راہ لی۔

طالب علمی کے زمانے سے ہم کتابوں میں ایسی ایسی جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں پڑھتے تھے کہ دنگ رہ جاتے تھے۔ سوچا کرتے تھے کہ ہم یہ سب اپنے ملک میں استعمال کریں گے، مریضوں کو فائدہ ہوگا۔ ہم وہ وہ آپریشن کریں گے کہ دنیا میں کسی نے نہ کیا ہوگا۔ بس ایک دفعہ ڈاکٹر بن جائیں۔ گوروں کی فلموں میں دیکھتے تھے کہ ڈاکٹر ایک قابل رشک زندگی گزارتا ہے۔ ایمرجنسی میں مریض بعد میں آتا ہے پہلے اس کے آنے کا بندوبست ہوتا ہے۔ آپ بس چیز کا نام لیں پلک جھپکنے سے پہلے مہیا کرتی ہے اور وہ مریض جو زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہے ہم اسے موت کی وادی سے واپس لائیں گے۔

ہاﺅس جاب کی تو پتہ چلا یہاں تو دنیا ہی کچھ اور ہے۔ آپ ایمرجنسی وارڈ میں اکیلے کام کررہے ہوتے ہیں۔ ساتھ 2 یا 3 نرسیں ہوتی ہیں جو کام کی تھکن سے چور ہیں مگر کھڑی ہیں۔ ایک ملازم ہے جو مریضوں کی ٹرالیاں کھینچ کھینچ کر لارہا ہے۔ ایک ہی وقت میں تین تین، چار چار مریض داخل ہورہے ہیں۔ ایک وقت میں ایک ہی مریض دیکھا جاسکتا ہے مگر اس کو دیکھتے دیکھتے اگر کوئی مریض مرجائے تو ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ کون سے واشروم کا دروازہ لوہے کا ہے اور نہیں ٹوٹے گا۔ یہ تھی ہماری ہاﺅس جاب اور ایمرجنسی ٹریننگ۔۔۔۔

ہاﺅس جانب جیسی بھی تھی اچھا وقت تھا۔ لوگ دل سے کام کرتے تھے۔ ڈاکٹروں کی عزت کی جاتی تھی۔ پورے سال میں ایک لڑائی ہوئی جوکہ جلد ہی ختم ہوگئی۔ میں نے اپنے علاقے کا رُخ کیا اور زندگی کا دوسرا رُخ دیکھا۔ انٹرویو ہوئے اور میں اپنے علاقے کے دیہی بنیادی مرکز صحت میں انچارج میڈیکل آفیسر کے طور پر تعینات ہوا۔

مجھ سے بنیادی مرکز صحت میں بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ میں نے اپنے ڈسپنسر سے دوائیوں کا حساب مانگ لیا جس کے بعد وہ حساب مجھے کبھی نظر نہیں آئے۔ LHV سے کہا کہ فیلڈ وزٹ کرے تو وہ غیر حاضر ہوگئی۔ دائی بلڈ پریشر کی مریضہ تھی ہر وقت سرپکڑ کر سوئی رہتی۔ خاکروب نشہ کرتا تھا اور اس کا جہاز رستے میں ہی لینڈ کرجاتا تھا۔ آخر کار میں اور میرا نائب قاصد بچتے تھے۔ نائب قاصد کو بھی اس لئے تبدیل کرلیا گیا کہ میرے آفیسر نے اپنی گاڑی کے ٹائروں کے لئے مجھ سے 2000 روپے مانگے جو میں نے نہیں دئیے۔

بنیادی مرکز صحت میں ہر بیماری کے لئے 3 ادویات تھیں انہیں اوپر نیچے کرکے بیماری کا علاج کرنے کی کوشش کرتا تھا آخر کار میں نے سوچا کہ میری جگہ اگر بندر کو بٹھادیا جائے تو وہ بھی کمال معالج ثابت ہوگا ۔ان حالات میں Resign کرکے لاہور شہر کا رخ کیا۔

ایف سی پی ایس کی ٹریننگ کے لئے میں نے جناح ہسپتال کا رخ کیا۔ یہاں حالات کافی اچھے تھے ادویات کی فراوانی اور اچھی سے اچھی دوائی ملتی تھیں۔ پھر حکومت تبدیل ہوئی اور آہستہ آہستہ دوائیاں ملنی بند ہوگئیں۔ اب ہمارے لئے مریضوں کو مطمئن کرنا مشکل ہوگیا۔ مریضوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ ڈاکٹر اتنے کے اتنے ہی رہے، دوائی بازار سے لکھیں تو حکومت پکڑتی ہے، نہ لکھیں تو مریض مرتے ہیں۔ لائبریریوں میں ان ڈاکٹروں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوگیا جو امریکہ یا انگلینڈ جانے کی تیاری کررہے تھے۔ تنخواہ اتنی کم کہ آپ کا گزارہ نہ ہوسکے۔ مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ مریض آتے، سہولتیں نہ ہوتیں اور مرجاتے۔ لڑائیاں ہوتیں ڈاکٹروں کو پیٹا جاتا، ڈاکٹر ہڑتال کرتے۔ سینئر ڈاکٹرز کو کوئی خاص پرواہ نہ ہوتی جو نیئرز ڈاکٹرز کو کئی محاذ وں پر لڑنا پڑتا۔ گھر کا چولہا کیسے جلائیں، مریضوں کا علاج کیسے کریں۔ نہ ادویات نہ جان بچانے کی مشینیں ۔اس سے بڑا عذاب پروٹوکول، جو ملک چھوڑ سکے چھوڑ گئے ،جو رہ گئے وہ پس گئے۔ چند ڈاکٹروں نے سوچا کہ مل کر احتجاج کیا جائے اور چند مطالبات پیش کئے جائیں جن میں تنخواہوں کا بڑھانا، مریضوں کو ادویات مہیا کرنا وغیرہ شامل تھے۔۔۔

ارباب اختیار کے پاس گئے۔ جاتے رہے مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی ،کالی پٹیاں باندھی گئیں کوئی بات نہ بنی۔ ینگ ڈاکٹرز میں غم و غصہ بڑھتا چلا گیا۔ ارباب اختیار کی بے حسی نے اور مضحکہ خیز رویے نے ان کے دلوں میں آگ لگانا شروع کردی۔ اس کے بعد ہسپتال میدان جنگ بننا شروع ہوگئے۔ ڈاکٹرز کا رویہ یہ تھا کہ دوائیاں نہیں ہیں تو ہم علاج کہاں سے کریں اور اسی طرح پہلا معرکہ جناح ہسپتال شروع ہوا۔ ایک مریضہ جو کینسر کی آخری سٹیج پر تھی جناح ہسپتال لائی گئی۔ سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے فوت ہوگئی۔ ڈاکٹر ذمہ دار ٹھہرے۔ رشتہ داروںنے لوہے کے راڈز سے ڈاکٹروں کے سر پھاڑے، ڈاکٹروں نے مل کر ان کی حالت خراب کردی۔ میڈیا نے جلی پر تیل چھڑکا اور یوں میری ہوش میں پہلی دفعہ کسی ہسپتال کی ایمرجنسی بند ہوئی ۔تب سے اب تک یہ سلسلہ چلا آرہا ہے اور اب ڈاکٹروں کے مطالبات میں تحفظ کا مطالبہ زور پکڑرہا ہے۔ ارباب اختیارات اگر ان ابتدائی مراحل میں یہ آگ لگنے نہ دیتے تو مزدوروں کے مکان نہ جلتے ....اور ڈاکٹروں کو بھی اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ یہی طریقہ ہے کچھ حاصل کرنے کا۔

مجھے یاد ہے کہ جب پہلی دفعہ ایمرجنسی بند کی گئی تو ہمارا خیال تھا کہ چند گھنٹوں میں یہ مطالبات سن لئے جائیں گے کیونکہ ایمرجنسی بند کرنا تو انتہائی قدم ہے مگر یہ بندش کئی دنوں تک رہی اور کسی کے کان پر۔۔۔جوں تک نہ رینگی۔ اب یہ حال ہے کہ ایمرجنسی بند کرنا ایک عام سا کام بن گیا ہے اور اس پر بھی مطالبات نہیں سنے جاتے۔ ادھر میڈیا مسیحا مسیحا چلاتا رہتا ہے ، پہلے ایمرجنسی بند ہونے پر مطالبات سنے جاتے تھے۔ پھر سڑکیں بند کرنے پر مطالبات پر کان دھرے جانے لگے اور اب جو مرضی کرلو کچھ نہیں ہوگا۔ اب ڈاکٹروں کی تربیت گاہوں میں ہسپتال کے علاوہ سڑکیں اور جیل بھی شامل ہوگئے ہیں۔

مگر مرتا تو غریب انسان ہے۔ مرتا تو وہ ہے جس کا سانس اکھڑتا ہے۔ اس کے ناک میں نالی لگی ہوتی ہے اس کا پیشاب بند ہوتا ہے اور اس کا بیٹا اسے چنگ چی پر لٹا کر گاﺅں سے شہر کے بڑے ہسپتال میں لارہا ہوتا ہے کیونکہ گاﺅں میں میرے جیسے ڈاکٹر کی تین ادویات اس کی جان بچانے کے لئے ناکافی ہوتی ہیں۔ مگر سرکاری ہسپتال کو جانے والی سڑکیں بھی بند ہوتی ہیں کیونکہ کسی بڑے آدمی کی تیمارداری کے لئے کوئی اور بڑا آدمی آیا ہوتا ہے یا ہسپتال میں ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے ۔ ڈاکٹر سڑکوں پر لیٹے ہوتے ہیں کیونکہ ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں ،جس سے مریض مرجاتے ہیں اور ان کا سرپھاڑتے ہیں۔حکومت کہتی ہے مراعات اور ادویات کے بغیر ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ آرام سے اپنی استعداد سے دس گنا کام کریں۔۔ان حالات کا تقاضا ہے کہ مریض بچ جائے تو ڈاکٹرشکر کریں کہ زندہ سلامت گھر آگئے ہیںاور اگر مریض مرجائے تو اپنا سرپیش کردیں۔ اب مسیحا بنے ہیں تو سولی پر بھی چڑھیں ناں۔

اس سارے معاملے میں کیا کیا نقصانات ہوتے ہیں

-1 حاکم کو ٹیلی فون سننے میں بدمزگی ہوتی ہے۔

-2 سیکرٹری صاحب کی پارٹی خراب ہوتی ہے۔

-3 ہسپتال کے انچارج کی نیند خراب ہوتی ہے۔

-4 ڈاکٹروں کو سڑک پر سونا پڑتا ہے۔

-5 اب تک کئی غریب مارے جاچکے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ اگر ایسے ہی حاکم رہیں گے تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بھی زندہ رہے گی۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ