آسیب سے نہ ڈرنا

آسیب سے نہ ڈرنا
آسیب سے نہ ڈرنا

  

تحریر: خلیل جبار(حیدر آباد)

جب سے رومی کی شادی ہوئی تھی،وہ ایک عجیب خوف کا شکار تھی۔ جب تک اس کاشوہر عمران اس کے ساتھ تھا اسے اپنے کمرے سے اتنا خوف نہیں آتا تھا۔ جتنا اب آنے لگا تھا۔ عمران جس کمپنی میں کام کرتا تھا۔ اس کمپنی نے اسے دو سال کے لئے بیرون ملک بھیج دیا۔وہ بھی بہت خوش تھا۔ اس طرح عمران کو زیادہ رقم کمانے کا موقع ہاتھ آگیا تھا۔ دو سال کا معاہدہ پورا ہو جانے پر اسے واپس اپنے ملک آجانا تھا اور دو سال میں وہ اتنی دولت کمانے میں کامیاب ہو جاتا کہ اپنا ذاتی گھر خریدلے۔

عمران کے والد شرف الدین کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنا ذاتی مکان خرید کر اس میں اپنی زندگی گزاریں مگر ساری زندگی ان کی کرائے کے مکانات میں ہی گزری تھی۔زندگی میں انہوں نے یہ اچھا کام کیا تھا کہ اپنے بیٹے عمران کو پڑھا لکھا دیا تھا۔جس مکان میں رومی رہتی تھی وہ دو کمروں پر مشتمل تھا۔ ایک کمرے میں اس کی ساس رحمت بی بی سوتی تھیں جبکہ دوسرے کمرے میں رومی خود سوتی تھی۔وہ رات کو جب کمرے میں سوتی اسے محسوس ہوتا کہ جیسے کمرے میں کوئی ہے۔

آج بھی وہ تھکی ہاری بستر پر لیٹی تو فوراً ہی نیند آگئی۔اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک انتہائی بدصورت آدمی گھوڑے پر سوار ہے اور رومی اسے دیکھ کر بھاگ رہی ہے۔وہ اپنی تیز دھار تلوار سے اسے ہلاک کر دینا چاہتا تھا۔ گھوڑا بہت تیز دوڑ رہا تھا لیکن پھر بھی رومی کے قریب نہیں آپارہا تھا۔

اچانک رومی کو ٹھوکر لگی اور وہ زمین پر گرپڑی۔گھوڑے پر بیٹھے ہوئے شخص نے ایک زور دار قہقہہ بلند کیا اور تلوار سمیت گھوڑ سے کود پڑا۔رومی اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر چیخ پڑی۔اسے رومی کی چیخ کی کیا پرواہ تھی۔اس آدمی نے ایک بھرپور وار سے اس کی گردن جسم سے جدا کر دی اور اس نے بالوں سے رومی کے تن سے جدا سر کو فضا میں بلند کیا اور غور سے اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ اس وقت اس کا چہرہ انتہائی مکرہ نظر آرہا تھا۔

ایک جھٹکے سے رومی کی آنکھ کھل گئی۔اس کا پورا بدن پسینے سے نہا رہا تھا۔ ابھی وہ چار پائی سے اٹھنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس کے بدن پر کوئی بھاری شے رینگ رہی ہو۔ اس کے وزن سے رومی کا سانس گھٹنے لگا تھا۔ بڑی مشکل سے اس کے منہ سے چیخ نکلی۔ رومی کے منہ سے چیخ کا نکلنا تھا کہ وہ شے اس کے بدن پر اسے اپنا وزن کم کرتی چلی گئی۔رومی نے جیسے ہی محسوس کیا اس کے بدن سے وزن کم ہو گیا ہے وہ فوراً بستر سے اٹھی اور اپنی ساس رحمت بی بی کے کمرے کی طرف لپکی۔اس کی بے ترتیب سانسوں اورگھبراہٹ کو دیکھ کر ساس بھی گھبرا گئی۔

’’کیا بات ہے بہو خیریت ہے ناتم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟‘‘

’’وہ۔۔۔وہ۔۔۔وہ۔۔۔آ۔۔۔امی۔۔۔وا۔۔۔وہاں۔۔۔‘‘

’’ہاں ،ہاں بولو کیا بات ہے۔وہ کیا ہے لیکن پہلے ٹھہرو تم یہ پانی پی لو تاکہ تمہاری گھبراہٹ دور ہو۔‘‘رحمت بی بی نے ایک گلاس رومی کی طرف بڑھایا۔

رومی نے جیسے تیسے کرکے پانی کا گلاس پی لیا۔چند لمحوں میں وہ اس قابل ہو گئی کہ ٹھہر ٹھہر کر اپنی بات بیان کر سکے جب اس نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعہ کا ذکر کیا۔ رحمت بی بی مسکرا دیں۔

’’بس اتنی سی بات۔۔۔خواب دیکھ کر اتنا خوف زدہ ہو گئی ارے بھئی ایسے خواب کبھی کبھار آجاتے ہیں اس میں اتنا گھبرانے کی کون سی بات ہے۔‘‘

’’میں جب نیند سے بیدار ہوئی تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی بھاری شے میرے جسم پر چل رہی ہے۔میرے چیخنے پر وہ شے میرا جسم چھوڑ کر چلی گئی۔‘‘رومی نے بتایا۔

’’یہ تمہارا وہم ہے ایسا کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی بھاری شے تمہارے جسم پر چلے اور تمہیں کچھ نہ ہو۔‘‘رحمت بی بی نے کہا ’’اور ہاں کل میں تمہارا خوف دور کرنے کے لئے اکیلی اس کمرے میں سوؤں گی۔‘‘

دوسری رات آنے پر رومی کے بار بار منع کرنے پر بھی رحمت بی بی اس کمرے میں سو گئیں۔وہ رومی کو مطمئن کرنے کو کمرے میں بظاہر سو رہی تھیں لیکن وہ جاگ رہی تھیں۔اندر سے وہ بھی خوف زدہ تھیں کہ کہیں واقعی اس کمرے میں آسیب نہ ہو کیونکہ آسیب ہی مختلف شکل میں آکر تنگ کرتے ہیں۔

آدھی رات بیت چکی تھی ان کی آنکھوں سے نیند دور تھی۔بار بار کروٹیں بدل بدل کر نیند کو لانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو رہی تھیں۔پھر نجانے کب انہیں نیند آگئی۔ایک خوفناک شکل کا کالا بلا تیزی سے اس کی جانب آیا۔اسے دیکھ کر رحمت بی بی کی کھکھی بندھ گئی۔بے اختیار ان کا دل چاہا کہ وہ بستر سے اٹھ کر بھاگ جائیں مگر ہمت ساتھ نہیں دے ریہ تھی۔ وہ کالا بلا چھلانگ لگا کر ان کے پیٹ پر سوار ہو گیا۔ وہ بہت وزنی تھا۔ انہیں اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ آنکھیں باہر کو ابلنے لگیں۔کالا بلا اپنے پچھلے دونوں پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔ آگے کے دونوں پاؤں کے پنجے اس نے رحمت بی بی کے سامنے لہرائے ،ان پنجوں میں تیز دھار ناخن چمک رہے تھے۔وہ حیرت سے ان ناخنوں کو دیکھنے لگیں۔کالا بلا تیزی سے رحمت میں آیا اور اس نے وہ ناخن رحمت بی بی کے پیٹ میں داخل کرکے پیٹ پھاڑ ڈالا۔پیٹ پھٹنے کی دیر تھی کہ اس میں سے سرخ خون تیزی سے بہنے لگا۔ بڑی بی میں نجانے کہاں سے اتنی ہمت آگئی تھی کہ انہوں نے زور سے کالے بلے کو دھکا دیا اور خود اپنے پیٹ کو پکڑ کر چیختی ہوئی تیزی سے کمرے سے باہر دوڑ پڑیں ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔

’’کیا ہوا امی؟‘‘رومی نے کمرے سے باہر آتے ہوئے پوچھا۔

’’ارے کمبخت بلے نے میرا پیٹ پھاڑ دیا ہے۔‘‘

’’لیکن پیٹ تو ٹھیک لگ رہا ہے۔‘‘

’’ارے ہاں واقعی میرا پیٹ بالکل ٹھیک ہے مگر کمرے میں مجھے ایسا لگا تھا کہ اس منحوس کالے بلے نے پیٹ پھاڑ دیا ہے اور سرخ خون بھی تیزی سے بہہ رہا ہے۔‘‘

’’میں نے کہا تھا ناکہ اس کمرے میں کچھ ہے۔‘‘رومی نے کہا۔

’’ہاں بیٹی تم نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ تمہارا کمرہ آسیبی ہے عمران بھی ملک سے باہر چلا گیا۔سمجھ میں نہیں آرہا کیا کریں۔‘‘

’’کہیں ہمیں یہ ا�آسیب نقصان نہ پہنچا دے۔‘‘رومی نے کہا۔

’’ہاں تنگ کرنا تو شروع کر دیا ہے۔کسی دن نقصان بھی پہنچا سکتا ہے ہمیں آسیب سے بچنے کے لئے کچھ نہ کرنا پڑے گا۔‘‘رحمت بی بی کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی تھیں۔جیسے انہیں کچھ یاد آگیا اور پھر وہ بولیں۔’’آؤ بیٹی تمہارے کمرے میں چل کر کچھ سوچتے ہیں۔‘‘رحمت بی بی نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔

’’امی کیا بات ہے مجھے آپ زیادہ گھبرائی ہوئی لگ رہی ہیں۔‘‘

’’ہاں ایسی ہی بات ہے مجھے کچھ یاد آگیا ہے۔‘‘

’’کیا یاد آگیا ہے؟‘‘ رومی نے پوچھا۔

’’آج سے پندرہ سال پہلے میں جہاں رہتی تھی۔وہاں ہمارے پڑوس میں بھی ایسے ہی واقعات رونما ہونے لگے تھے۔‘‘

’’کیسے واقعات؟‘‘

’’اس طرح کے جیسے اب ہمارے ساتھ ہو رہے ہیں۔اس گھر کے لوگوں کو ڈرایا جانے لگا تھا۔جب انہوں نے اس کا نوٹس نہیں لیا تو پھر ایک دن اس گھر میں جو آسیب تھا وہ ان کی جوان لڑکی کے جسم میں داخل ہو گیا۔ اور اس نے گھر میں توڑ پھوڑ کرنا اپنا معمول بنا لیا تھا۔ کبھی وہ لڑکی گھر کے لڑکوں کو مارتی ،کبھی انہیں دبوچ کر ان کی پیٹھ پر سوار ہو جاتی تھی۔ ایسا کرتے ہوئے وہ اتنی طاقتور ہو جاتی تھی کہ کسی کے قابو میں نہیں آتی تھی،کئی کئی لوگ مل کر اس لڑکی کو قابو کرتے تھے۔ اسے رسیوں میں جکڑ دیتے تھے۔تب کہیں جاکر قابو میں آتی تھی۔‘‘

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

’’ان لوگوں نے کسی مولوی سے لڑکی کا علاج کرایا۔لڑکی کا علاج ہو جانے پر وہ گھر خالی کرکے چلے گئے۔‘‘

’’جب لڑکی کا علاج ہو گیا تھا پھر وہ گھر چھوڑ کر کیوں چلے گئے۔‘‘رومی نے حیرت سے پوچھا۔

’’اس لئے کہ مولوی صاحب نے بتایا تھا کہ انہوں نے لڑکی کا علاج ضرور کر دیا ہے مگر اس گھر میں جو مخلوق رہتی ہے وہ پھر کسی اور کے جسم میں داخل ہوکر اس لڑکی سے زیادہ تمہیں پریشان کرے گی اس لئے ان لوگوں کا گھر خالی کر دینا ہی ان کے حق میں بہتر ہے اور آج تک وہ گھر انسانوں سے آباد نہیں ہو سکا۔ابھی تک خالی ہے۔‘‘

’’تو کیا ہمیں بھی یہ گھر خالی کرنا پڑے گا۔‘‘رومی سوچ میں پڑ گئی۔

’’تم پریشان مت ہو،مجھ کچھ سوچنے دو۔‘‘یہ کہتے ہوئے وہ خاموش ہو گئی تھیں۔

صبح ناشتے سے فارغ ہو کر ور رومی کے پاس آئیں۔

’’رومی بیٹی میں عمران کے ماموں کے پاس جارہی ہوں۔‘‘

’’امی مجھے اکیلے میں ڈر لگے گا۔‘‘رومی نے کہا۔

’’تم ڈرو نہیں،اگر ڈر محسوس ہو تو برابر والے گھر سے لطیفن آپلا کو بلالینا۔‘‘وہ بولیں۔

رومی اچھا کہہ کر خاموش ہو گئی۔رحمت بی بی کے جانے پر رومی دوپہر کے کھانے کی تیاری میں ایسی مصروف ہوئی کہ اسے ڈروخوف کا احساس ہی نہیں ہوا۔وہ اس وقت چونکی جب ساس گھر میں داخل ہوئیں۔وہ بہت خوش دکھائی دے رہی تھیں۔

’’ہاں بھئی میرے جانے پر کچھ ہوا تو نہیں۔‘‘

’’امی جان مجھے پتا ہی نہیں چلا۔دن میں ویسے بھی ڈر کہاں لگتا ہے،رات کی تاریکی میں خوف محسوس ہوتا ہے۔کیا ماموں سے ملاقات ہوئی؟‘‘

’’ہاں بھئی ملاقات ہو گئی اور ملاقات کیسے نہ ہوتی۔سارا دن وہ گھر میں بنائے ہوئے آستانے میں آنے والے لوگوں کے بچوں پر جھاڑ پھونک کرتے رہتے ہیں،یہی ان کی مصروفیت اور یہی ان کا روز گار ہے۔‘‘رحمت بی بی نے بتایا۔

’’ماموں نے کیا بتایا۔‘‘

’’انہوں نے یہی کہا ہے کہ ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے وہ خود کسی دن گھر پر آئیں گے اور دیکھیں کہ آسیب ہمیں کیوں تنگ کررہے ہیں۔یہ چار تعویذ جلانے کے لئے دیئے ہیں روزانہ ایک تعویذ جلانا ہو گا۔‘‘رحمت بی بی نے بتایا۔

’’ماموں سے کہیں جلدی آجائیں،خدانخواستہ کچھ ہو نہ جائے۔‘‘رومی نے کہا۔

’’تم فکر نہ کرو کچھ نہیں ہو گا۔ماموں بہت پہنچے ہوئے عامل ہیں ان کے آگے بڑے سے بڑا جن بھی ناک رگڑ نے پر مجبور ہو جاتا ہے۔‘‘رحمت بی بی نے بتایا۔

’’کیا واقعی؟‘‘رومی چونکی۔

’’ہاں،ہاں،بھئی مجھے تم سے جھوٹ بول کر کیا ملے گا۔‘‘

’’پھر ٹھیک ہے۔‘‘رومی مطمئن ہوتے ہوئے بولی۔

عصر کے فوراً بعد رحمت بی بی نے ماموں کا دیا ہوا ایک تعویذ صحن میں جلا دیا اور اس کی راکھ کو نالی میں بہا دیا۔وہ مطمئن تھیں کہ اب کچھ نہیں ہو گا۔وہ مخلوق انہیں پریشان نہیں کرے گی۔جب رات وہ سونے کو بستر پر لیٹیں۔گھر میں سناٹا تھا وہ پر سکون نیند سو گئیں اچانک رات کا وہ نجانے کون سا پہر تھا کہ انہیں ایسا محسوس ہوا کہ گھر میں جیسے بھونچال سا آگیا ہے۔رومی کے کمرے سے برتن پھینکنے کی آوازیں آنے لگی تھیں۔رات کی تاریکی میں وہ آوازیں بہت زور سے سنائی دے رہی تھیں۔برتنوں کے زمین پر گرنے اور ٹوٹنے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔

خوف کے مارے وہ دونوں لرز کررہ گئی تھیں۔خوف و دہشت سے ان کے منہ سے کچھ نہیں نکل رہا تھا۔وہ زور زور سے چیخ کر محلے والوں کو گھر میں بلانا چاہ رہی تھیں مگران کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکل پارہا تھا۔

پوری رات ایسے ہی ڈرتے ہوئے گزری۔رومی کے کمرے میں اتنے برتن نہیں تھے جتنے برتن رات بھر گرتے اور ٹوٹتے رہے۔فجر کی اذانیں ہونے پر یہ سلسلہ بند ہوا۔اور ان دونوں نے سکون کا سانس لیا۔رات بھر جاگتے رہنے سے ان کی آنکھیں بوجھل تھیں۔چند لمحے کو سکون میسر آنے پر وہ بستر پر ایسے سوئیں کہ دن چھڑے ہی آن کی آنکھیں کھلیں دوپہر کے دو بجے رہے تھے۔

رومی نے باتھ روم جاتے ہوئے اپنے کمرے میں ایک نظر ڈالی اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا رات بھر برتن گرتے اور ٹوٹتے رہنے کی آواز ان دونوں ساس بہو نے سنی تھی۔ مگر کمرے میں ایک برتن زمین پر ٹوٹا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بالکل اسی طرح صاف ستھرا دکھائی دے رہا تھا جیسے رات میں اس کمرے میں کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔رومی کے ساس کو بتانے پر انہوں نے بھی کمرے میں ایک نظر ڈالی اور اسے رومی کی بات سچ ثابت ہوئی۔

’’حیرت کی بات ہے رات کو ایسا لگ رہاتھا کہ پتا نہیں کتنے برتن ٹوٹ رہے ہیں۔مگر کمرے میں ایک برتن بھی نہیں ٹوٹا۔‘‘رحمت بی بی نے کہا۔

’’امی یہ بڑے ہی خطرناک قسم کے آسیب ہیں جوہمیں اس طرح تنگ کررہے ہیں۔‘‘رومی نے کہا۔

’’بیٹی تم فکر مت کرو، عمران کے ماموں بھی کوئی کم نہیں وہ بھی پہنچے ہوئے ہیں۔اگر اس آسیب کو بھگانا آسان نہ ہوتا تو وہ پہلے ہی بتا دیتے۔‘‘ساس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

عصر کے وقت دوسرا تعویذ بھی جلا دیا گیا۔رات ہونے پر وہ دونوں ساس بہو ایک ہی کمرے میں سو گئیں۔آدھی رات گزر جانے پر شور سے ان کی آنکھ کھل گئی۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے چھت پر کوئی شادی کی تقریب ہو اور لوگ خوشیاں مناتے ہوئے رقص و محفل کی تقریب سجائے ہوئے ہوں پھر کچھ دیرگزر جانے پر ایسا لگا کہ بیک وقت بہت سارے لوگوں ن چھت پر اچھل کود شروع کر دی۔وہ دونوں سہمی ہوئی بسترپر لیٹی رہیں۔اگلی شام میں تیسرا تعویذ بھی جلا دیا گیا۔ حسب معمول رات میں آسیب نے انہیں ڈرانے کے لئے زور زور سے کبھی کھڑکی،کبھی دروازہ بجانا شروع کر دیا۔روزانہ کی طرح آج انہیں آسیب سے ڈر کم محسوس ہوا تھا۔ صبح بیدار ہون پر وہ دونوں معمول کے کام میں مشغول ہو گئی تھیں۔شام ہوئی اور چوتھا تعویذ بھی جلا دیا گیا۔ رات ہوئی اور آسیب کی موجودگی ظاہر ہوگئی۔وہ انتہائی بدصورت شخص تھا جو بند دروازے کے اندر سے کمرے میں داخل ہو گیا تھا۔ وہ بہت غصے میں دکھائی دے رہا تھا۔

’’ایسے ہمیں کیا دیکھ رہا ہے،چل یہاں سے دفع ہو جا۔‘‘رحمت بی بی نے اس غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔

اس نے جواب میں کچھ کہا۔مگر وہ ایسی زبان میں تھا جو ان کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔وہ بولتا رہا اور رحمت بی بی وہاں سے اسے چلے جانے کو کہتی رہیں۔وہ بھی ڈھیٹ بنا کر کھڑا رہا۔ جب رحمت بی بی نے عمران کے ماموں کی دھمکی دی کہ وہ آکر ان سے خوب نپٹے گا تو وہ خاموشی سے چلا گیا۔ اسے جاتا دیکھ کر ساس اور بہو دونوں خوش ہو گئیں۔انہیں عمران کے ماموں کی طاقت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ آسیب پر ماموں کی دھمکی کام کر گئی تھی۔وہ انہیں مزید خوف زدہ کرنے کے بجائے خاموشی سے چلا گیا۔ وہ اس کے جانے پر سکون سے سو گئیں۔

شام ہونے پر دروازے پر دستک ہوئی۔ رومی نے لپک کر دروازہ کھولا،دروازے پر عمران کے ماموں کھڑے تھے۔اس نے انہیں اندر آنے کو راستہ دیا۔ماموں اندر چلے آئے۔دونوں نے چار دن کی تفصیل پوچھی ان پر جو گزری تھی وہ سب انہوں نے بیان کر دی۔

’’میرا شک درست تھا۔‘‘وہ بولے۔

’’کیسا شک؟‘‘وہ دونوں چونکی۔

’’یہی کہ وہ آسیب تمہیں محض خوف زدہ کرکے بھگانا چاہتا ہے،وہ تمہیں کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘‘ماموں نے کہا۔

’’کیا ایسا بھی ہوتا ہے۔‘‘رومی نے پوچھا۔

’’ہاں بیٹی یہ حقیقت ہے،جنات کے وجود کو ہم جھٹلا نہیں سکتے۔جنات کی دوقسم ہیں ایک قسم شریف ہے جو کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی جبکہ دوسری قسم جو شریر ہوتی ہے وہ ویران گھروں اور درختوں پر بسیرا کرتے ہیں،وہ انسانوں کی کمزوری سے واقف ہوتے ہیں اس لئے انہیں خوف زدہ کرنے کو ڈراتے ہیں۔انسانوں کو ڈرانے کے لئے یہ مختلف روپ اختیار کرلینے میں مہارت رکھتے ہیں۔ان سے بچنے کا آسان طریقہ یہی ہوتا ہے کہ ان سے ڈرانہ جائے۔تم نے دیکھا جب آسیب سے نہیں ڈریں تو وہ میری صرف دھمکی دینے پر فوراً ہی دفع ہو گیا۔یہ بات میں اس وقت بھی تمہیں بتا سکتا تھا لیکن تمہیں میری بات کا یقین نہ آتا اور تم کسی اور ٹھگ کے پاس چلی جاتی اور اپنی جمع پونجی لٹا بیٹھتیں،میں نے تمہیں چار تعویذ اس لئے دیئے تھے ،میرے دیئے تعویذ جلانے سے تم میں اعتماد پیدا ہواور تم نے آسیب سے ڈرانا چھوڑ دیا اوردھمکی بھی دے دی۔ بس میں یہی چاہتا تھا کہ تم آسیب سے ڈرنا چھوڑ دو اور وہ تمہیں ڈرانا چھوڑ دے گا۔‘‘ماموں نے کہا۔

’’ہاں ماموں واقعی ہم تعویذ جلانے سے پہلے آسیب سے بہت خوفزدہ تھے اور اس گھر کو چھوڑنے کا پروگرام بنا رہے تھے اب ہم میں اعتماد آگیا ہے اور جب اس کے ڈرانے پر ہم خوف زدہ نہیں ہوں گے تو وہ بھی ڈرانا چھوڑ دے گا۔‘‘رومی نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔

رومی کی بات سن کر ساس بھی مسکرا دیں۔

دو ہفتے ان کے امتحان کے تھے۔آسیب نے ہمت نہیں ہاری تھی۔کئی بار دونوں ساس بہو کو ڈرانے کی ناکام کوشش کی اور پھر خود ہی ہار گیا۔اور انہیں ڈراتا اور خوف زدہ کرنا چوڑ دیا۔ وہ بھی خوش تھیں کہ ان کے ذرا ہمت دکھانے سے آسیب کوشکست ہو گئی ہے۔

عمران کے وطن لوٹ آنے تک وہ خوب مزے سے اس گھر میں رہیں،محلے والے بھی ان پر حیرت کرتے تھے کہ وہ دونوں عورتیں ہو کر بھی اس آسیب زدہ گھر میں رہ رہی ہیں۔لیکن یہ راز وہ دونوں ہی جانتی تھیں کہ آسیب کو کس طرح انہوں نے شکست دی ہے۔

عمران بیرون ملک رہ کر اتنا کما کر لوٹا تھا کہ اس نے پہلی فرصت میں رہنے کے لئے ایک اچھا سا بنگلہ خرید لیا تھا اس گھر سے رخصت ہوتے وقت ساس نے پڑوسیوں کووہ راز بتا ہی دیا تھا کہ اس گھر میں جب بھی کوئی رہنے کے لئے آئے وہ آسیب کے ڈر سے بھاگنے کے بجائے اسے شکست دے کر شان سے گھر میں رہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحاریر لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

مافوق الفطرت -