اشرف غنی کو بڑا دھچکا ،سرکاری بجٹ میں خرد برد ،افغان پارلیمنٹ نے وزیر خارجہ سمیت 3وزراء کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ،تینوں وزراء کے لئے ’’کرسیاں ‘‘ بچانا مشکل ہو گیا

اشرف غنی کو بڑا دھچکا ،سرکاری بجٹ میں خرد برد ،افغان پارلیمنٹ نے وزیر خارجہ ...
اشرف غنی کو بڑا دھچکا ،سرکاری بجٹ میں خرد برد ،افغان پارلیمنٹ نے وزیر خارجہ سمیت 3وزراء کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ،تینوں وزراء کے لئے ’’کرسیاں ‘‘ بچانا مشکل ہو گیا

  

کابل ( مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کی پارلیمنٹ نے وزیر خارجہ سمیت تین وزرا کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جس کے بعد یہ تینوں اپنے عہدوں پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ ہفتے کے دن جن وزرا کو’’ وولسی جرگہ‘‘ یعنی پارلیمان کے ایوان زیریں میں اعتماد کا ووٹ نہیں ملا ان میں وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی، پبلک ورکس کے وزیر محمود بلیغ ، اور محنت، سماجی امور، شہدا اور معذوروں کی وزارت کی وزیر نسرین اوریاخیل شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:’ایران کے خلاف یہ کام نہ کرنا‘ سعودی عرب نے سب کو حیران کردیا، ایران کیلئے نئے امریکی صدر ٹرمپ سے ایسا مطالبہ کردیا کہ کسی کو یقین نہ آئے

غیر ملکی میڈیا کے مطابق رائے شماری کے نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے ایوان زیریں کے اسپیکر عبدالرف ابراہیمی نے صدر اشرف غنی سے کہا کہ وہ قانون سازوں سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے تین نئے وزرا کے نام پیش کریں،صلاح الدین ربانی نے ایک سو 40، محمود بلیغ نے 1سو64 اور اوریا خیل نے 1 سو 44 ووٹ حاصل کئے ہیں,پارلیمنٹ کی طرف سے 3 وزرا پر عدم اعتماد کا اظہار پہلے ہی مختلف اختلافات سے دوچار افغانستان کی متحدہ قومی حکومت کے لیے ایک اور دھچکا ہے۔صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان مختلف اعلی عہدوں پر تعیناتی سے متعلق اختلافات پائے جاتے رہے ہیں۔یاد رہے کہ صلاح الدین ربانی نے گزشتہ سال فروری میں وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالا تھا جس کے چند ماہ بعد محمود بلیغ اور نسرین اوریاخیل کی کابینہ میں شمولیت ہوئی تھی۔ان وزرا کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کی وجہ سرکاری بجٹ میں خردبرد بتائی گئی ہے۔ عدم اعتماد کی یہ تحریک ایک ایسے وقت میں انجام پائی ہے کہ افغانستان کو مالی بحران اور اسی طرح طالبان اور داعش کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا سامنا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -