جنرل ضیاءالحق نے نواز شریف کو اپنی عمر لگ جانے کی دعا کیوں دی؟ اصل وجہ جان کر آپ ہنس ہنس کرلوٹ پوٹ ہوجائیں گے

جنرل ضیاءالحق نے نواز شریف کو اپنی عمر لگ جانے کی دعا کیوں دی؟ اصل وجہ جان کر ...
جنرل ضیاءالحق نے نواز شریف کو اپنی عمر لگ جانے کی دعا کیوں دی؟ اصل وجہ جان کر آپ ہنس ہنس کرلوٹ پوٹ ہوجائیں گے

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)آپ نے یہ مشہور بات تو سن رکھی ہوگی کہ جنرل ضیاءالحق نے میاں نواز شریف کو دعا دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان(ضیائ)کی عمر بھی نواز شریف کو لگ جائے لیکن یہ بات شائد ہی کسی کو معلوم ہوکہ یہ بات جنرل نے کیوں کہی تھی۔ حال ہی میں روئف کلاسرانے اپنے کامل میں اس دعا کے پیچھے چھپی کہانی بے نقاب کی ہے۔وہ لکھتے ہیں:

”یہ اگست 2007ءکا ایک خوبصورت دن تھا۔ یوسف رضا گیلانی جنرل مشرف کی قید بھگتنے کے بعد پہلی دفعہ لندن آئے ہوئے تھے۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے نواز لیگ کے جاوید ہاشمی نے جنرل مشرف کی جیل بہادری سے کاٹی تھی‘ تو پیپلز پارٹی کی طرف سے یہ اعزاز یوسف رضا گیلانی کے حصے میں آیا تھا۔ سرائیکیوں کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر سیاست کے طعنے دینے والے جدہ اور لندن بھاگ گئے تھے۔۔۔

پھر گیلانی صاحب نے ایک مزے دار کہانی سنائی۔

پیر پگاڑا کی مہربانی سے یوسف رضا گیلانی ان کے مرید محمد خان جونیجو کی کابینہ کے وزیر ریلوے بن چکے تھے۔ ایک دن ان دونوں نے گیلانی صاحب کو بلایا اور انہیں کہا گیا کہ آپ کے ذمے ایک مشن لگانا ہے۔ گیلانی صاحب نے اسے اپنے لیے اعزاز سمجھا کہ ایک وزیر اعظم اور اس سے بڑھ کر ان کا پیر‘ ان سے کوئی کام لینا چاہتا تھا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ لاہور جائیں اور وہاں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر کوئی نیا وزیر اعلیٰ لائیں۔ گیلانی حیران ہو کر بولے‘ لیکن نواز شریف کو تو جنرل ضیا نے وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔ گیلانی سے کہا گیا کہ جو کچھ انہیں بتایا جا رہا ہے‘ وہ وہی کریں۔

گیلانی خوشی خوشی تخت لاہور فتح کرنے چل پڑے۔ وہ اس خیال سے ہی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ ان کے ذمے ایک ایسا مشن لگایا گیا ہے‘ جو ملک کی تقدیر بدل دے گا۔ نواز شریف کا تختہ وہ الٹ دیں گے اور انہیں یہ پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ان پر وار کس نے کہاں سے کیا۔

گیلانی صاحب نے سرکٹ ہاﺅس جا کر ڈیرے ڈال دیے اور ایم پی ایز سے ملاقاتیں شروع کر دیں۔ دھیرے دھیرے یہ بات پھیل گئی کہ گیلانی کو وفاقی حکومت نے بھیجا ہے کہ وہ جا کر نواز شریف کا تختہ الٹ دیں۔ گیلانی بھی پورے اعتماد کے ساتھ سب کو یقین دلاتے رہے کہ نواز شریف کے ساتھ جنرل ضیا کا جاری رومانس ختم ہو چکا ہے۔ ایم پی ایز نے اپنے اپنے گروپس بنا کر گیلانی سے ملاقاتیں کیں‘ یہ سوال اٹھایا کہ انہیں کیا ملے گا؟ کون بنے گا وزیر اعلیٰ اور کون بنے گا ڈپٹی‘ اور کس کو ملے گا کتنا بڑا عہدہ اور کون بنے گا وزیر یا مشیر۔

ایک دن گیلانی نے پرویز الٰہی کو ہی کہانی ڈال دی۔ پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ کی سیٹ سے کم پر راضی ہونے والے نہیں تھے۔ اس پر پرویز الٰہی کو بھی سگنل دے دیا گیا کہ وہ تیاری پکڑیں۔

یہ خبر لاہور میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی کہ جنرل ضیا وزیر اعلیٰ نواز شریف سے ناراض ہیں اور اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔ یوں نواز شریف کے ایم پی ایز ایک ایک کرکے ان سے ٹوٹ کر گیلانی سے راتوں کو ملاقاتیں کرنے لگے۔ ایک دن منظور وٹو بھی خفیہ ملاقات کے لیے پہنچ گئے کہ انہیں کیا ملے گا؟ نصراللہ دریشک بھی اس ہجوم میں شامل تھے۔ گیلانی ایک روایتی سرائیکی پیر کی طرح سب کو بیٹے کی پیدائش کی خوش خبری سنا رہے تھے۔ جونہی گیلانی نے اتنے ایم پی ایز اکٹھے کر لیے‘ جن کی مدد سے نواز شریف کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی سکتی‘ تو انہوں نے پیر پگاڑا اور وزیر اعظم جونیجو کو پیغام بھیجا کہ جناب کام مکمل ہو گیا ہے‘ حکم کریں‘ کب نواز شریف کو ہٹانا ہے۔

اس پیغام کے اگلے روز گیلانی کو زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگا‘ جب انہوں نے پی ٹی وی کی نو بجے کی خبروں میں نواز شریف کو جنرل ضیاءسے اسلام آباد میں ملاقات کرتے دیکھا۔ جنرل ضیا ءنے دعا دی کہ ان کی زندگی بھی نواز شریف کو لگ جائے۔ پیر پگاڑا کا یہ بیان اگلے دن اخبار میں پڑھا کہ نواز شریف کی بوری میں کچھ سوراخ تھے‘ جو انہوں نے سی لیے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ ہم نے نواز شریف کے ان ایم پی ایز کو علیحدہ کر دیا تھا‘ جو اس کے خلاف کسی سازش کا حصہ بن سکتے تھے۔ اب نواز شریف اپنے ان ایم پی ایز کو سنبھال لیں۔ گیلانی ایک سخت صدمے کی حالت میں بیٹھے نواز شریف اور جنرل ضیاءکی ملاقات کے مناظر دیکھتے رہے۔

کہانی ختم ہو گئی تھی۔

انسان زندگی میں سب برداشت کر لیتا ہے‘ لیکن اسے اگر یہ احساس ہو کہ جائے کہ کسی نے اسے بیوقوف بنایا ہے تو وہ احساس لمبے عرصے تک ختم نہیں ہوتا۔ گیلانی ٹوٹے دل کے ساتھ پیر پگاڑا سے ملے‘ اور زخمی آواز میں پوچھا: آپ نے میرے ساتھ یہ کیا کیا؟ پیر پگاڑا مسکرائے‘ سگار سلگایا اور بولے: برخوردار! ہم نے آپ کو استعمال کیا ہے۔ گیلانی کے چہرے پر پھیلی حیرانی دیکھ کر پیر پگاڑا پھر گویا ہوئے: برخودار‘ دراصل نواز شریف کچھ عرصے یہ تاثر دے رہے تھے وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اپنی قابلیت اور سیاست کے زور پر بنے‘ جنرل ضیا کا انہیں وزیر اعلیٰ بنانے میں ہاتھ نہیں تھا۔ جنرل ضیا نے نواز شریف کا شکوہ کیا‘ تو میں نے کہا کہ یہ کون سی بڑی بات ہے‘ بچے کو درست کر دیتے ہیں۔ میری نظر تم پر پڑی۔ تم سرائیکی علاقے سے ہو۔ نوجوان ہو۔ پیر گھرانے سے بھی ہو۔ تمہاری ساکھ بھی اچھی ہے۔ لہٰذا تم اچھی طرح سرائیکی ایم پی ایز کو گھیر سکتے تھے۔

گیلانی حیرت کے ساتھ یہ سب کچھ سنتے رہے۔

پیر پگاڑا بات جاری رکھی: اور تم نے ہماری توقعات کے مطابق کام کیا۔ جب نواز شریف کو پتہ چلا اقتدار ہاتھوں سے نکل رہا ہے‘ تو وہ دوڑا دوڑا جنرل ضیا کے پاس گیا‘ اور دوبارہ بیعت کر لی۔ نواز شریف اب جنرل ضیا کا تابعدار بچہ بن کر رہے گا‘ کیونکہ اسے پتہ چل گیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ اپنی وجہ سے نہیں‘ بلکہ جنرل ضیا کی وجہ سے ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -