ستلج، راوی کے بعد چناب پر بھی بھارتی قبضہ

ستلج، راوی کے بعد چناب پر بھی بھارتی قبضہ
 ستلج، راوی کے بعد چناب پر بھی بھارتی قبضہ

بھارت نے پاکستان کی طرف بہنے والے اہم دریاؤں کے پانی پر عملاً قبضہ کر لیا ہے۔ دریائے چناب میں پانی کی کمی سے دنیا کی سب سے بڑی نہر میں مرالہ راوی لنک جسکا بہاؤ 22ہزار کیوسک،اپر چناب کینال 16850 کیوسک، بیدیاں بمبانوالہ نہر 7260کیوسک ہے، آج مکمل خشک ہو چکی ہیں۔ دریائے جہلم پر چشمہ جہلم لنک 21700 کیوسک، رسول قادر آباد لنک 19 ہزار کیوسک،لوئر جہلم کینال 6ہزار کیوسک، اپر جہلم کینال 2ہزار کیوسک تھا وہ بھی مسلسل خشک ہیں۔

دریائے چناب کا بہاؤ ہیڈ مرالہ کے مقام پر 5ہزار کیوسک سے زائد نہیں رہا اور دریائے جہلم کا بہاؤ 63سو کیوسک سے زیادہ نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے دریائے سندھ خطرناک حد تک اپنی بہاؤ کی نچلی سطح پر گذشتہ 10برس کے کم ترین بہاؤ 14400کیوسک پر بہہ رہا ہے اور پاکستان کا 65فی صد رقبہ متاثر ہو رہا ہے۔

اس بارے میں ماہرین نے بتایا ہے کہ بھارت پہاڑوں میں 3کلو میٹر کی سرنگ بناکر چناب کا پانی دریائے راوی جوکہ بھارت کی زمینوں کو سیراب کر رہا ہے میں ڈال رہا ہے،اس کی ناپاک کوشش ہے کہ دریائے چناب کا تمام پانی روک سکے۔ اس سے قبل کشن گنگا ڈیم کے لئے 31کلو میٹر لمبی سرنگ نکال کر دریائے جہلم کے پانی کو روکا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کو دریائی پانیوں سے 2020ء تک مکمل محروم کر دینا چاہتا ہے۔ حکومت پاکستان زرخیز زمینوں کو بنجر ہونے سے بچانے کے لئے فوری ٹھوس اور سنجیدہ حکمت عملی اپنائے۔

نئی دہلی میں مودی سرکار نے پاکستان کو بنجر بنانے کی ناپاک سازش تیار رکھلی ہے۔ بھارت نے خشک سالی ، قحط اور پیاس بجھانے کے لئے پاکستان سے آبی جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے دریائے چناب کا رخ موڑ کر پانی دریائے بیاس میں ڈالنے کا حکم دے دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے ہماچل پردیش میں دریائے چناب پر زیر تعمیر متنازعہ ڈیم (جسپا) کی تعمیر جنگی بنیادوں پر مکمل کی جارہی ہے ۔

یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ بھارت پاکستان دشمنی میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ گورنر ہماچل پردیش کے خط کو بھی نظر انداز کردیا ، جس میں کہا گیا تھا، جسپا ڈیم زلزلے کی انتہائی خطرناک فالٹ لائن پر تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ بی بی سی نے اس خبر کو عالمی سطح پر اٹھایا۔

نہ صرف عالمی میڈیا، بلکہ پاکستان ٹیلی ویژن نے بھی آبی جارحیت اور پاکستان کو بنجر بنانے کی بھارت کی مکروہ سازش پر ایک گھنٹے کا ٹی وی پروگرام بھی کیا۔

بھارت ایک ایک کرکے ہمارے دریاؤں کے پانی پر قبضہ جمارہاہے، بدقسمتی سے کسی کو پرواہی نہیں۔ایک سازش کے تحت بھارت آبی جارحیت کامرتکب ہورہا ہے۔

اگر اسے نہ روکاگیا تو2020ء تک کسانوں کواپنی فصلوں کو سیراب کرنے کے لئے ایک بوند پانی بھی میسرنہیں ہوگا۔ بھارت1960ء کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے دریائے چناب پر 850 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے حامل ہائیڈروپاورڈیم پراجیکٹ کی تعمیر شروع کرچکا ہے، جس سے پاکستان کے حصے کا2لاکھ ایکڑفٹ پانی چوری ہوگا۔اسی ڈیم سے پیداہونے والی بجلی بھارت پاکستان کو فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

یہ ڈیم بگلیہار کے مقابلے میں تین گنا بڑا ہوگا۔سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین اور عالمی پانی اسمبلی کے چیف کوآرڈی نیٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارتی آبی جارحیت ان دنوں خطرناک مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

دریائے چناب اور جہلم کے بعد دریائے سندھ کا 83 فیصد پانی بھارت نے روک لیا ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کا زبردست بحران آئے دن ذخیرہ میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم ہے جن کے توسط سے دنیا میں پاکستان کا یہ مثالی نہری نظام قائم ہے۔بھارتی آبی دہشت گردی کے باعث اب دریائے سندھ میں بھی پانی کم رہا ہے ۔

ان کا پانی ہونے سے پاکستان کے 22کروڑ عوام کی روزی روٹی اور ذرائع آمدن کا نظام خطرے میں پڑ جائے گااوربہت بڑی تعداد میں حیوانات،جنگلی جانوروں،چرند پرند اور آبی حیات ختم ہو جائے گی۔ دریائے ستلج،بیاس،راوی سندھ طاس معاہدہ کی آڑ میں بھارت پہلے بند کر چکا ہے۔

دریائے چناب،جہلم اور سندھ کا پانی پن بجلی کی آڑ میں بند کر رہا ہے۔ جیسا کہ دریائے چناب بگلیہار ڈیم آپریشنل ہونے کے بعد بند ہے ۔ دریائے جہلم میں 13فیصد اور دریائے سندھ میں صرف 17فیصد پانی آرہا ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی توعنقریب دریائے جہلم اور دریائے چناب مکمل بند ہو جائیں گے۔

یہود ہنودمل کر پاکستان کے خلاف سازشیں کامیاب بنانے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں اور واحد مسلم ایٹمی پاور کو ختم کرنے کے لئے طرح طرح کی سازشیں تیار کی گئی ہیں۔

بھارت کی اس آبی دہشت گردی کے باعث ان دنوں پاکستان زرعی بحران کی لپیٹ میں ہے آگے چل کر 3کروڑ 80لاکھ ایکٹر اراضی کھنڈرات میں تبدیل ہو جائے گی۔

بعض علاقوں میں آج بھی پینے کے لئے پانی میسر نہیں پانی کی شدید قلت کے باعث بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وجہ سے 274میگا واٹ کا شارٹ فال ہوا۔

پاکستان کی حکومت نے اس آبی جنگ کو روکنے کے لئے تاحال کوئی موثر لائحہ عمل طے نہیں کیا۔ اگر یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جائے تو پوری دنیا میں بھارت کے خلاف ردعمل شروع ہو جائیگا یہ ہندوبنیا اور یہودی کی گھناؤنی سازش ہے۔

ملک بچانا ہے تو پوری قوم آگے آئے ورنہ ہم ایک اور کربلا کی طرف گامزن ہیں۔ حکمران بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کی بجائے ہندوبنیے کی مکاری کوسمجھیں۔

اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے باوجود سالانہ پاکستان کے حصے کا33ملین ایکڑفٹ پانی چوری کررہا ہے اور اس چوری میں آئے روز اضافہ ہوتاجارہا ہے۔

دریائے چناب پر ڈیم کی تعمیر کے ذریعے ملکی آبی مفادات کو دھچکا پہنچانے کی بھارتی کوششوں کے باوجود ہمارے حکمرانوں کی جانب سے آج بھی یہ مژدہ جاں فزاء سنایاجارہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تجارت کو فروغ کے لئے پرعزم ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور بھارت ہماری زراعت کو شدید نقصان پہنچارہا ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...