2003ء کے جنگ بندی معاہدے پر موثر عملدرآمد

2003ء کے جنگ بندی معاہدے پر موثر عملدرآمد

پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف )کا تین روزہ اجلاس نئی دہلی میں ختم ہو گیا،اجلاس میں سرحد پر معمولی نوعیت کے معاملات مقامی کمانڈروں کی سطح پر حل کرنے پر اتفاق رائے ہوا ہے،اجلاس میں کہا گیا کہ بلا اشتعال فائرنگ روکنے کے لئے2003ء کے جنگ بندی معاہدے کا موثر نفاذ یقینی بنانا ہو گا،اجلاس میں فائرنگ کے ایسے واقعات میں انسانی جانوں کے ضیاع کا معاملہ بھی اُٹھایا گیا،فریقین میں اِس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ قیدیوں کی جلد رہائی کے لئے قانونی عمل کو تیز کیا جائے گا۔

کشمیر کی کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا معاہدہ2003ء میں ہوا تھا اور اُس وقت فریقین کی جانب سے اِس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس معاہدے کے بعد بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات کم سے کم ہو جائیں گے،کچھ عرصے تک تو ایسا ہوا بھی،لیکن اب توبھارت کی جانب سے فائرنگ تقریباً روز کا معمول ہے اور اِس کا نشانہ شہری آبادیاں بھی بنتی ہیں،قریبی سرحدی دیہات کے لوگ خوف کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،اپنے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کئی لوگ بھارتی فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں ان کے مال مویشی بھی جو اُن کی سادہ معیشت میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو جاتے ہیں،کھڑی فصلوں کا بھی نقصان ہوتا ہے اور بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ فصل پک کر تیار ہو چکی ہوتی ہے اور کسانوں کو اس کی برداشت کی مہلت تک نہیں ملتی اور یوں پکی ہوئی فصل کھیت میں ضائع ہو جاتی ہے۔کسان اپنی آنکھوں سے اپنی سال بھر کی محنت کو ضائع ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

کشمیر کی کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ بھارتی لوک سبھا کے2014ء کے انتخابات کی مہم کے دوران زیادہ تیز ہو گیا تھا،جنگ بندی لائن کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ انتخابی میدان میں موجودہ دونوں بڑی جماعتوں نے پاکستان کے خلاف شعلہ بار زبان استعمال کی، نریندر مودی نے جو انتخابی مہم چلا رہے تھے،پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پانی بند کرنے کے اعلانات بھی کئے، دونوں جماعتوں کا خیال تھا کہ جو جماعت پاکستان کے خلاف زیادہ اشتعال انگیز رویہ اختیار کرے گی وہ جیت جائے گی،مودی کا رویہ چونکہ پاکستان کے خلاف کانگرس کی نسبت زیادہ جارحانہ تھا کہا جاتا ہے اس فیکٹر نے بھی اُن کی کامیابی میں کردار ادا کیا،اگر ایسا تھا بھی تو الیکشن جیت کر تو اُنہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا،کیونکہ وہ وزیراعظم منتخب ہو گئے تھے اور اپنے مُلک کو بہتری اور ہمسایوں سے بہتر تعلقات کی طرف لے جانا اُن کی ذمے داری تھی، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے خلاف انتخابی مہم جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا، بھارتی فائرنگ کا پاکستان نے ہمیشہ صبرو تحمل سے جواب دیا ہے،ورنہ یہ سلسلہ زیادہ وسیع بھی ہو سکتا تھا،کیونکہ بھارت سرجیکل سٹرائیک کی ڈینگیں بھی مارتا رہتا ہے،حالانکہ آج تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ یہ عجوبہ کس جگہ وقوع پذیر ہوا تھا۔

کنٹرول لائن پر بھارت کی پیدا کردہ کشیدگی اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ کنٹرول لائن کے متعینہ راستوں سے کشمیریوں کی آمدورفت اور انٹرا کشمیر تجارت بھی کئی کئی ماہ بند ہو جاتی ہے،جو لوگ مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر میں آئے ہوتے ہیں یا یہاں سے وہاں گئے ہوتے ہیں، وہ پھنس کر رہ جاتے ہیں اور تازہ پھل سبزیاں اور دوسری تجارتی اشیا ء خراب ہو جاتی ہیں اِس تجارت کا بنیادی مقصد یہی بتایا گیا تھا کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں پیدا اور تیار ہونے والی اشیا کی تجارت ہو تاکہ کشمیریوں کا بھلا ہو سکے،لیکن جب ایسی تجارت رُک جاتی ہے تو فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے،اگر تو یہ سلسلہ واقعی کشمیریوں کے فائدے کے لئے شروع کیا گیا تھا تو پھر اس کا اہتمام تو ضروری ہے کہ ان کا نقصان نہ ہو، لیکن جب مشتعل ماحول کی وجہ سے تجارت کئی کئی ماہ بند ہونے کے بعد دوبارہ کھلتی ہے اورتاجر جرأت کر کے پھر کاروبار شروع کرتے ہیں تو چند ماہ بعد دوبارہ ایسی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے، بلا اشتعال فائرنگ کسی ایک سیکٹر میں ہوتی ہے،لیکن انسانی آمدورفت اور تجارت کا سلسلہ مکمل طور پر رک جاتا ہے،اِس جانب بھی توجہ دی جانے کی ضرورت ہے۔

اگر کسی غلط فہمی کی بنا پر فائرنگ ہو جائے تو ایسا میکنزم طے کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ سلسلہ جلد رُک جائے اور پھیلنے نہ پائے،خصوصاً سویلین آبادی کو تو محفوظ رکھنے کا ہر حالت میں اہتمام کرنے کی ضرورت ہے،لیکن بدقسمتی سے اب تک تو ایسا نہیں ہو سکا۔اب نئی دہلی میں بھارت اور پاکستان کے اجلاس میں اگر یہ طے کر لیا گیا ہے کہ2003ء کے معاہدے پر عملدرآمد کرایا جائے گا تو امید کرنی چاہئے کہ معاہدے پر سختی سے عملدرآمد ہو گا، لیکن محض اجلاس میں طے کر لینے سے ایسا نہیں ہو سکتا اس قسم کا اجلاس سالانہ بنیاد پر ہوتا ہے،اب بھارت میں ہوا ہے اس سے پہلے پاکستان میں ہوا تھا تو اس وقت بھی جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کا عزم ظاہر کیا گیا تھا،لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اگر عمل ہوتا تو کنٹرول لائن کی کشیدگی کم ہو سکتی تھی۔

دونوں ممالک میں معمول کے تعلقات کے لئے جامع مذاکرات کی بحالی بھی ضروری ہے، بھارتی وزیر خارجہ نے گزشتہ برس اسلام آباد میں ان مذاکرات کے احیا کا اعلان کیا تھا،لیکن یہ مذاکرات بھی اب تک شروع نہیں ہو سکے۔اگرچہ لندن میں دونوں ممالک کے خفیہ اداروں کے سابق سربراہوں کے اجلاس میں اس کی ضرورت و اہمیت تسلیم کی گئی تھی اور اجلاس کے اختتام پر خیر سگالی کے اظہار کے لئے ’’جپھّیاں‘‘ بھی ڈالی گئی تھیں،لیکن اگر دِلوں کے فاصلے کم نہ ہوں تو اس طرح کے روایتی تکلفات باہمی اختلافات کو کم کرنے میں کوئی مدد نہیں دے سکتے،اب بھی نئی دہلی کے اجلاس میں جو امور طے ہوئے ہیں اگر ان پر خلوصِ نیت سے عمل ہو تو کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ رک سکتا ہے،جس سے دونوں جانب سرحد کے قریب رہنے والی آبادی سُکھ کا سانس لے گی۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...