محکمانہ کارکردگی اور سرکاری رقوم کا ضیاع

محکمانہ کارکردگی اور سرکاری رقوم کا ضیاع

پارلیمینٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین سردار عاشق گوپانگ نے سرکاری حکام کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رشوت لینا کرپشن ہے تو وقت پر کام نہ کرنا بھی بدعنوانی اور کرپشن ہے۔وقت پر کام سرکاری حکام نہیں کرتے اور عوام کی طرف سے انگلیاں منتخب نمائندوں پر اٹھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ ایک کروڑ 90لاکھ کا منصوبہ، چالیس کروڑ تک پہنچ جاتا ہے ایسی خراب کارکردگی قوم سے مذاق ہے،انہوں نے سول ایوی ایشن کے معاملات کی خرابی پر دردمندی سے ریمارکس دیئے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ سرکاری محکموں کی کارکردگی عام طور پر تسلی بخش قرار نہیں دی جا سکتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرکاری ملازمین پوری ذمے داری، دیانت داری اور لگن سے کام نہیں کرتے،نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محکمانہ کارکردگی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جہاں حالت یہ ہو کہ غیر ذمہ دارانہ رویے اور التوائے کار سے ایک منصوبے کا تخمینہ بیس گنا تک بڑھ جائے تو اس پر کیا کہا جا سکتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ اوپر سے نیچے تک قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا احساس نہیں کیا جاتا۔ جب خراب کارکردگی پر کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو ایسی ہی افسوسناک صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سردار عاشق گوپانگ نے یہ بات درست کہی ہے کہ سرکاری ملازمین میں سے کسی کی ذاتی کمپنی ہوتی تو منصوبے کی لاگت میں بیس گنا اضافہ نہیں ہو سکتا تھا۔

محکمانہ کارکردگی کی خرابی اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے پارلیمینٹ کی قائمہ اور ذیلی کمیٹیوں کے اجلاسوں پر بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔سرکاری حکام کی طرف سے مکمل ریکارڈ پیش نہ کرنے اور دیگر وجوہ سے کمیٹیوں کے اجلاس بار بار منعقد کرنا پڑتے ہیں۔ کمیٹیوں کے سربراہوں اور اراکین کے ساتھ ساتھ سرکاری حکام اور اہلکاروں کے ٹی اے ڈی اے کی مدات میں بھاری اخراجات سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اگر محکمانہ کارکردگی پر سمجھوتہ نہ کیا جائے توکسی بھی منصوبے کی لاگت میں بیس گنا اضافہ بھی نہیں ہو گا۔ضرورت اِس بات کی ہے کہ قومی خزانے پر بوجھ بننے والے معاملات کو پوری سنجیدگی سے بہتر بنانے کی کوشش کی جائے اور ذمے دار حکام کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے کہ محکمانہ کارکردگی پر دُکھ کا اظہار کیا جاتا رہے،بھاری رقوم ناقص کارکردگی اور غیر ذمے دارانہ رویے کی وجہ سے ضائع ہو جائیں تو اس صورتِ حال کو افسوسناک قرار دے کر معاملہ رفع دفع کردیا جائے۔ایسی صورتِ حال کا تمام حلقوں کوسنجیدگی سے نوٹس لے کر اصلاح احوال کی کوشش کرنی چاہئے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...