مقدس گائے یا آسیب!

مقدس گائے یا آسیب!
 مقدس گائے یا آسیب!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جسٹس عظمت سعید شیخ کا یہ جملہ بہت دل خوش کن ہے کہ کوئی بھی جج مقدس گائے نہیں، کرپشن پر سب کا احتساب ہونا چاہیے۔

ابھی کچھ دیر پہلے میری ملاقات لاہور ہائی کورٹ کے ایک ایسے سابق ایڈہاک جج سے ہوئی، جنہیں ایک سال کے آزمائشی عرصے کے بعد کنفرم نہ کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ میرے سارے فیصلے درست تھے اور فیصلوں کی رفتار بھی سب سے بہتر تھی، مگر مجھے اس لئے کنفرمیشن کے قابل نہ سمجھاگیا کہ میں نے فیصلوں کے سلسلے میں سینئرز کی سفارش نہیں مانی تھی۔

اب ایسی باتوں کو کس طرح ختم کیا جائے اور اس کا میکنزم کیا ہونا چاہیے؟ پاکستان میں مقدس گائے کالبادہ اوڑھے ہوئے افراد تو قدم قدم پر نظر آتے ہیں یہ جو ڈی ایم جی سروس ہے، یہ کوئی کم مقدس گائے ہے۔ ذراستر برس کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیں اور بتائیں کہ کتنے سی ایس پی افسران کو کرپشن کے الزام میں برخاست کیا گیا یا سزا دی گئی ہے، اگر یہ سروس بالکل صاف و شفاف اور بے داغ ہے تو پھر ملک میں کرپشن کا دور دورہ کیوں ہے، کس ڈپٹی کمشنر کی مرضی کے بغیر اس کے ماتحت ضلعی اداروں میں کرپشن ہوسکتی ہے۔

اُسی کے ناک کے نیچے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس میں ہر بل کے ریٹ مقرر ہوتے ہیں۔ اساتذہ اور غریب ملازمین کی تنخواہوں اور جی پی فنڈ سے کٹوتی کی جاتی ہے، مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا، کیونکہ اُس نے بھی تو اپنے ناجائز بل پاس کروانے ہوتے ہیں۔سب کی گھوم پھر کر نظر عدلیہ اور فوج کی طرف جاتی ہے کہ وہ مقدس گائے بنی ہوئی ہیں، حالانکہ یہاں تو آوے کا آوا ہی مقدس بنا ہوا ہے، کوئی کسی پر ہاتھ ہی نہیں ڈال سکتا۔

کہنے کو ملک میں احتساب کا جھکڑ چل چکا ہے، مگر عوام دیکھ رہے ہیں کہ سارا فوکس بھی صرف ایک خاندان پر ہے۔ یہ معاملہ اب آگے بھی بڑھنا چاہیے۔ خاص طور پر وہ کرپشن جس کا عام آدمی کی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور دفتری نظام میں قدم قدم پر ایسے شکنجے ایجاد کئے گئے ہیں کہ اُن سے بچنا محال ہے، اُن کے سدِباب کے لئے بھی تو کچھ ہونا چاہیے۔ یہاں تو نیا احتساب کمیشن بنانے کی باتیں ہورہی ہیں، مگر اس میں بھی کہیں یہ نظر نہیں آتا کہ کرپشن کو نچلی سطح پر ختم کرنے کے لئے کوئی ترجیح موجود ہے۔

ہمارے نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس سے جو چاہے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ایک کرپٹ افسر جب کسی محکمے پر مسلط ہوتا ہے تو پورے تالاب کو گندہ کردیتا ہے، اُس کے پاس اس قدر صوابدیدی اختیارات ہوتے ہیں کہ جس طرح چاہے عوام سے سلوک کرے۔ شہباز شریف آپ تو خادم اعلیٰ بن گئے، لیکن اپنی بیوروکریسی کو عوام کا خادم نہ بناسکے۔

یہ بیوروکریسی خلقِ خدا کو جس طرح ذلیل و خوار کرتی ہے، اس سے کوئی بھی بے خبر نہیں، مگر چونکہ درجہ بدرجہ سبھی عوام کو غلام سمجھتے ہیں، اس لئے یہ طبقہ ایک دوسرے کو نہیں پوچھتا۔ ضلع کا پولیس افسر کسی ایس ایچ او کو بدلتے ہوئے بھی سو بار سوچتا ہے، چونکہ وہ ایس ایچ او کسی نہ کسی مقدس گائے کا پروردہ ہوتا ہے۔

میں حالیہ دنوں میں ایک ایسے ہی سی پی او کا حشر دیکھ چکا ہوں۔ محمد احسن یونس جب سی پی او ملتان تعینات تھے توانہوں نے تمام ماتحت پولیس افسروں اور اہلکاروں کو تحریراً آگاہ کر دیا تھا کہ ان کی پوسٹنگ اور تبادلہ اُن کی کارکردگی کو دیکھ کر میرٹ کی بنیاد پر ہوگا اگر کسی نے ایم این اے یا ایم پی اے کی سفارش کرائی تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

کچھ کے خلاف کارروائی کی بھی گئی۔ یہ احسن یونس کا بہت اہم اقدام تو تھا ہی لیکن بہت بڑا جرم بھی تھا ان کی بدقسمتی کہ شجاع آباد میں ایک پنچائتی فیصلہ ہوا جس میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی منظوری دی گئی یہ واقعہ میڈیا میں رپورٹ ہوا تو ہاہا کار مچ گئی۔

تاہم میڈیا میں آنے سے پہلے ملزموں کے خلاف پولیس نے کارروائی کر کے مقدمہ درج کر لیا تھا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف میڈیا میں اس واقعہ کی سنسنی خیز رپورٹنگ کے بعد شجاع آباد آنے پر مجبور ہو گئے۔ ایسے موقع پر وہ کوئی ایسا حکم ضرور جاری کرتے ہیں جو ان کی گڈگورننس کا بھرم رکھ لے۔

انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے سی پی او محمد احسن یونس کو او ایس ڈی بنا دیا، آر پی او نے انہیں بتایا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کی اور گرفتاریاں بھی ہوئیں مگر وہاں موجود ارکانِ اسمبلی نے جو محمد احسن یونس کی سفارش پر ایس ایچ او نہ لگانے کی پالیسی سے تنگ تھے، وزیر اعلیٰ کو کہا کہ سارا قصور ہی پولیس کا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اس معاملے کی انکوائری کے لئے ایک کمیٹی قائم کی جس کی ایک ہفتے بعد رپورٹ آئی تو اس میں سی پی او کو بے گناہ قرار دیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ میڈیا میں آنے سے پہلے پولیس مقدمہ درج کر چکی تھی، مگر اس انکوائری رپورٹ کا ٹرانسفر ہونے والے پولیس افسر کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کیونکہ مقدس گائے کی صورت میں جو ارکان اسمبلی موجود تھے، وہ اپنا کام دکھا چکے تھے۔

میں کڑے احتساب کا حامی ہوں مگر میری سوچ کی سوئی اکثر اس نکتے پر اٹک جاتی ہے کہ احتساب نیچے تک کیسے آئے گا۔ بالفرض شریف خاندان نشانِ عبرت بن بھی جاتا ہے تو ضلعوں اور تحصیلوں میں جو عمالِ حکومت کی کرپشن ہے اور جس کا حجم اربوں روپے تک پھیلا ہوا ہے اس کا خاتمہ کیسے ہوگا۔

پوری قوم کے یہ سن سن کر کان پک گئے ہیں کہ ایف بی آر میں ہر سال کھربوں روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے۔

یہ ادارہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرتا ہے اور نہ ٹیکسوں کی وصولی اہداف کے مطابق کر سکتا ہے کیونکہ اس کے افسران و اہلکار مک مکا کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں سوال یہ ہے کہ اس کا کھوج کون لگائے گا اور اس سیلاب کے آگے بند کون باندھے گا۔

اس بارے میں تو نیب نے کبھی انکوائری نہیں کی اس کرپشن کو روکنے کا کوئی طریقہ ایجاد نہیں کیا گیا۔ اس محکمے کو اس قدر زیادہ صوابدیدی اختیارات کس لئے دیئے گئے ہیں۔ ہر افسر جسے چاہے چھوڑ دے، جسے چاہے پکڑ لے۔

لوگوں کو لاکھوں روپے کے ٹیکس نوٹس بھیجے جاتے ہیں اور چند ہزار ٹیکس لے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اتنے بڑے اور مستند کرپٹ محکمے کے افسران و اہلکار شاذو نادر ہی نیب یا ایف آئی اے کی گرفت میں آتے ہیں کیا یہ محکمہ بھی مقدس گائے نہیں ہے۔

یہ واحد ملک ہے کہ جہاں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے خلاف کرپشن کے الزام میں کیسز بن سکتے ہیں، مگر وہ محکمے جو کرپشن کے سہولت کار بنتے ہیں، ان کے افسران پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا ظفر حجازی تو ریکارڈ میں ٹمپرنگ کی وجہ سے گرفت میں آ گیا وگرنہ اس ے جو مالی کرپشن کی ہو گی اس کی طرف تو کسی کی توجہ ہی نہیں گئی۔

پاکستان میں مقدس گائے تو ایک آسیب ہے، جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہر اینٹ کے نیچے ایک مقدس گائے موجود ہے، کوئی طبقہ لے لیں، کوئی محکمہ دیکھیں، یہی لگے گا کہ جیسے اُسے کرپشن کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔

فوج اور عدلیہ نے تو پھر بھی اپنا کوئی نظام بنایا ہوا ہے۔ باقی محکمے تو مادرپدر آزاد ہیں۔ مثلاً کوئی بتائے کہ بیوروکریسی جو ملک کی اصل حکمران ہے، اُس کا کوئی داخلی احتسابی نظام ہے۔ پنجاب کی سطح پر آپ دیکھیں یہاں جو سی ایس پی افسران تعینات ہیں، وہ ہر صورت اپنے افسران کو تحفظ دیں گے۔

وہ پرونشنل سروس کے لوگوں کو اول تو آگے نہیں آنے دیتے آجائیں تو اُن کے لئے کام کرنا دشوار بنادیتے ہیں، حتیٰ کہ اُن کے خلاف کرپشن کی انکوائریاں اور مقدمات بھی درج کرادیتے ہیں۔

سول سیکرٹریٹ کی سطح پر ان دونوں گروپوں کے درمیان محاذ آرائی واضح نظر آئے گی، تاہم جیت ہمیشہ سی ایس پی افسران کی ہوتی ہے، کیونکہ صوبے کا چیف سیکرٹری اُن کے گروپ سے ہوتا ہے، کسی کے پاس کوئی مثال ہو تو مجھے بتائے کہ چیف سیکرٹری نے کسی سی ایس پی افسر کے خلاف کوئی کارروائی کی ہو، البتہ صوبائی سروس کے کئی افسران زیر عتاب نظر آئیں گے۔

ضلعوں اور تحصیلوں تک میں یہی وفاقی سروس کے افسران تعینات کئے جاتے ہیں، مگر ان کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اضلاع میں کرپشن سب سے زیادہ ہوتی ہے اور محکمہ مال، پولیس، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفسز اور دیگر عوامی مفاد کے محکمے میں کرپشن کی گنگا بہاتے ہیں اور ڈپٹی کمشنر آنکھیں بند کرکے اپنے مقدس گائے ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔

مقدس گائے کی اصطلاح ایک یا دوسرے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے ہمیں یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ یہاں مقدس گائیوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ خود نیب، ایف آئی اے اور انٹی کرپشن کے محکمے بھی مقدس گائے کے زمرے میں آتے ہیں کہ اُن کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھتا۔

جمعہ بازار میں کھڑے ہو کر اگر کوئی دوسرے کی طرف انگلی اُٹھاتا ہے، تو اُس سے بڑا جعلساز کوئی نہیں، نواز شریف کے خلاف کارروائی سے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ سیاستدان اب مقدس گائے نہیں رہے تو یہ اُس کی خام خیالی ہے یہ تو قرعہ فال نکلنے والی بات ہے کہ اُن کا نام نکل آیا ہے وگرنہ سیاست کی مقدس گائیں اب بھی محفوظ ہیں اور اُن کی طرف آج بھی کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

مزید : کالم