سورج مکھی اگاؤ ، منافع کماؤ

سورج مکھی اگاؤ ، منافع کماؤ
 سورج مکھی اگاؤ ، منافع کماؤ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہمارے ملک میں خوردنی تیل خوراک کا اہم حصہ ہے۔

ہم اپنی ملکی ضروریات کا صرف 20فیصد خوردنی تیل پیداکررہے ہیں اور باقی 80فیصددرآمد کرنا پڑتا ہے۔

جس پر کثیر زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے۔آبادی میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے خوردنی تیل کی درآمد میں ہرسال بتدریج اضافہ ہورہاہے اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ تیلدار فصلات کی کاشت کو فروغ دیا جائے تاکہ درآمد پر انحصارکم سے کم ہو۔سورج مُکھی کا شمار اہم خوردنی تیلدار اجناس میں ہوتا ہے

اس فصل کا دورانیہ تقریباََ 100سے 110دن ہوتا ہے اور کم مدت کی فصل ہونے کی وجہ سے اسے بڑی فصلوں کے درمیانی عرصہ میں بآسانی کاشت کیا جاسکتا ہے۔ حکومت پنجاب رجسٹرڈ کاشتکاروں کو سور ج مکھی کی فصل پر 5ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی دے رہی ہے ۔

رجسٹرڈ کاشتکاروں کو سورج مکھی کی کاشت کے لیے 10ایکڑ تک سبسڈی فراہم کی جائیگی ۔ کاشتکار سورج مکھی کی بوری سے ملنے والے واؤچر کا نمبر اپنے شناختی کارڈ کے ہمراہ 8070پر بھیجیں گے اور تصدیقی SMSموصول ہونے پر قریبی موبائل شاپ سے فوری 1ہزار روپے حاصل کر سکیں گے ۔

بقایا رقم فصل کی کٹائی پر موصول ہونے والے SMSکی بنیاد پر حاصل کریں ۔ یہ اقدام اس لیے ہیں کہ اس طرح نہ صرف کسان خوشحال ہو گا بلکہ کثیر زر مبادلہ کے حصول سے ملکی معیشت بھی مستحکم ہو گی ۔حکومت سورج مکھی کی 2500/-روپے فی من فروخت میں کمی بیشی کو مد نظررکھتے ہوئے کاشتکار کی مالی معاونت بھی کرے گی ۔

کاشتکار حضرات اگر ربیع (خصوصاً گندم) یا خریف کی فصلیں کسی وجہ سے وقت پر کاشت نہ کر سکیں توایسی صورت میں سورج مکھی کاشت کرکے بھی خاطر خواہ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔بھاری میرا زمین سورج مکھی کی کاشت کے لئے بہت موزوں ہے۔

سیم زدہ اور بہت ریتلی زمین اس کے لئے موزوں نہیں ہے۔ زمین کی تیاری کے لئے راجہ ہل یا ڈسک ہل پوری گہرا ئی تک چلائیں تاکہ پودوں کی جڑیں گہرائی تک جا سکیں۔ دھان والے کھیتوں میں یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ ایسی زمینوں میں سخت تہہ پائی جاتی ہے جس کو گہرا ہل چلا کر ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

کھیت کا ہموار ہونا بھی ضروری ہے۔ سورج مکھی کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے صحیح وقت پر اس کی کاشت انتہائی ضروری ہے۔تاخیرسے کاشت کرنے کی صورت میں نہ صرف اِس کی پیداوار میں کمی آ جاتی ہے بلکہ اِس سے تیل بھی کم حاصل ہوتا ہے۔

بارانی علاقوں میں اس کی کاشت کا انحصار زیادہ تر بارشوں کے پھیلاؤ پر ہوتا ہے۔ سورج مکھی کی فصل سال میں دو مرتبہ کاشت کی جا سکتی ہے۔ ایک موسم بہار میں اور دوسری موسم خزاں میں۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں سورج مُکھی کا وقت کاشت برائے موسم بہار کچھ یوں ہے ۔

بہاولپور، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان، وہاڑی، بہاولنگریکم جنوری تا 31 جنوری،مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، لودھراں،راجن پور اور بھکر10جنوری تا 10فروری،میانوالی، سرگودھا،خوشاب، جھنگ، ساہیوال، اوکاڑہ ،فیصل آباد،سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، منڈی بہاؤ الدین،قصور ، شیخوپورہ ، ننکانہ صاحب اور نارووال،اٹک،راولپنڈی، گجرات اور چکوال 25جنوری تاآخرفروری ہے ۔سورج مکھی کی مختلف بیماریاں پیداوار میں نقصان کا باعث بنتی ہیں۔

اس لئے کاشتکاروں کو چاہیے کہ ان بیماریوں پر قابو پانے کے لئے بیج کو بوائی سے پہلے محکمہ زراعت توسیع کے مقامی عملہ کے مشورہ سے مناسب پھپھوند کش زہر لگانے کے بعد بوائی کی جائے۔

سورج مکھی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے فصل کا قطاروں میں کاشت کرنا بے حد ضروری ہے۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ سوا دو تا اڑھائی فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ آبپاش علاقوں میں 9 انچ اور بارانی علاقوں میں 12 انچ رکھیں۔

اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ بیج تروتر میں کاشت کیا جائے اور بیج کی گہرائی زیادہ سے زیادہ دو انچ ہو۔ اگر کھیلیوں پر کاشت کرنا ہو تو کھیلیاں آلو کاشت کرنے والے رجر سے شرقاً غرباً نکالیں۔ کھیلیوں میں پہلے پانی لگائیں اور جہاں تک وتر پہنچے اس سے تھوڑا اوپر خشک مٹی میں جنوب کی طرف بیج لگائیں۔

سورج مکھی کی کاشت (1) پلانٹر۔ (2) ٹریکٹر ڈرل یا سنگل رو کاٹن ڈرل۔ (3) پور یا کیرا (4) ڈِبلنگ(چوپا)کے طریقے سے کی جاسکتی ہے ۔ تاہم ان طریقوں میں ڈِبلنگ(چوپا) نہایت کارآمد ہے۔

اس طریقہ کاشت میں پہلے اڑھائی فٹ کے فاصلے پر وٹیں بنالی جاتی ہیں پھر پانی دے کر ہر 8 تا 9 انچ کے فاصلے پر سوراخ کرکے ایک ایک بیج ڈالا جاتا ہے۔ موجودہ سائنسی دور میں زمین کی بنیادی زرخیزی، زمین کا کیمیائی تجزیہ/کلراٹھاپن، اسکی قسم یا نوعیت، دستیاب ٹیوب ویل یا نہری پانی کی مقدار اورحالت، مختلف فصلوں کی کثرت اور فصلوں کی ترتیب جیسے حالات کے مطابق کھاد ڈالنا بہت ضروری ہے۔ ہماری زمینوں میں اجزائے صغیرہ (مثلاً زنک، بوران وغیرہ)کی کمی بھی ہو رہی ہے۔

اس کے لئے ان کا استعمال تجزیہ اراضی کی بنیاد پر کریں۔زنک اور بوران کی کمی کی صورت میں زنک سلفیٹ33 فیصد بحساب 6کلو گرام اور بوریکس 11.0فیصد بحساب 3کلو گرام فی ایکڑ بوائی کے وقت استعمال کریں۔

آبپاشی کا دارومدار موسمی حالات پر ہوتا ہے۔ اگر موسم گرم اور خشک ہو تو فصل کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر موسم سرد اور مرطوب ہو تو کم آبپاشی کی ضرورت ہوگی۔

اگاؤ کے بعد جب فصل چار پتے نکال لے تو کمزور اور فالتو پودے اس طرح نکال دیں کہ پودوں کا باہمی فاصلہ آبپاش علاقوں میں تقریباً 9 انچ اور بارانی علاقوں میں 12 انچ رہ جائے۔ڈرل سے کاشتہ فصل کو پہلا پانی لگانے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ گوڈی ضرور کریں۔

سورج مکھی کی فصل کو پہلے آٹھ ہفتے جڑی بوٹیوں سے بچانا ضروری ہوتا ہے ۔اس کے بعدفصل کاقدکاٹھ اتناہوجاتاہے کہ وہ خودبخودہی جڑی بوٹیوں پرحاوی ہوجاتی ہے۔سورج مکھی کی فصل پر سبز تیلہ، سفید مکھی ، سست تیلہ ،چو ر کیڑا، لشکری سنڈی ، امریکن سنڈی اورملی بگ کا حملہ ہوتا ہے ۔

مشاہدہ میںیہ بات آئی ہے کہ سورج مکھی کی فصل پر بہت سے ضرر رساں کیڑوں پردوست/شکاری کیڑے موجود ہوتے ہیں ۔مریکن سنڈی کے نر پروانوں کو جنسی پھندے لگا کر تلف کریں۔ اس لئے ضرر رساں کیڑوں کے خلاف سپرے کا فیصلہ کھیت میں موجود دوست کیڑوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اور پیسٹ سکاؤٹنگ کے بعد کریں۔

سورج مکھی کی فصل پر حملہ آور ہونے والی بیماریوں میں تنے کی سرانڈ ، پھول کی سڑن، پتوں کا مرجھاؤ ، بیج کو اُلی لگنا ، روئیں دار پھپھوندی اور سفوفی پھپھوندی شامل ہیں۔بیماریوں کے کیمیائی تدارک کے لئے پھپھوندکش زہرکا انتخاب اور استعمال محکمہ زراعت (توسیع) اور پیسٹ وارننگ و کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈ کے عملہ سے مشورہ کرکے کریں۔

مزید : کالم