پاکستان کرکٹ بورڈ اور شائقین کا جوش ’’ٹھنڈا ‘‘ پڑ گیا

پاکستان کرکٹ بورڈ اور شائقین کا جوش ’’ٹھنڈا ‘‘ پڑ گیا

رواں ماہ ویسٹ انڈین ٹیم کی لاہور میں میزبانی کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ سموگ کی وجہ سے 3ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔پی سی بی کے ایوانوں میں بدستور خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔بورڈ کا کوئی عہدیدار رسمی بیان جاری کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کر رہا۔فی الحال اس منصوبے پر کام کرنے کے بجائے فروری میں پی ایس ایل کے بعد موزوں وقت تلاش کئے جانے پر غور ہورہا ہے۔پی سی بی اور ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ نے نومبر میں دورے پر اتفاق کیا تھا لیکن سموگ اور دیگر وجوہات کے سبب دونوں بورڈ سیریز کے لئے معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کوشاں تھے تاہم پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن تک سیریز کا انعقاد ممکن نہ تھا جس کا اختتام مارچ 2018 ء میں ہو گا۔ ویسٹ انڈین نومبر کے آخر میں بھی آسکتی تھی، لیکن پی سی بی اس طرح کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا، کیونکہ سموگ کی وجہ سے ان کنڈیشنز میں آئی سی سی میچ ریفری میچز کے انعقاد کی اجازت نہیں دیتے اور محکمہ موسمیات نے بھی واضح نہیں کیا کہ آخر سموگ کب تک جاری رہے گی،لہٰذا باہمی مشاورت اور رضامندی سے فیصلہ کیا گیا کہ فی الحال سیریز کو ملتوی کردیا جائے اور اسے آئندہ سال قبل از وقت منعقد کرانے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈین بورڈ پاکستانی سیکیورٹی کی صورت حال کے سلسلے میں آئی سی سی اور اپنی پلیئرز ایسوسی ایشن کے ساتھ رابطے میں ہے۔ پی سی بی کو بتایا گیا ہے کہ ویسٹ انڈین ٹیم نومبر کے آخری ہفتے میں لاہور آئے گی۔ تاہم اس بارے میں تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ نجم سیٹھی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ویسٹ انڈین بورڈ سے سیریز کے سارے معاملات طے پاچکے ہیں صرف تاریخوں کو طے کیا جارہا ہے۔ جلد سیریز کے لئے تاریخوں کا اعلان کردیا جائے گا۔ اس بارے میں ابہام کو ختم کرکے میڈیا کو جلد بتائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت لاہور کا موسم سیریز کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پنجاب بھر میں شدید سموگ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا تھا۔ ویسٹ انڈین ٹیم کے سخت شیڈول اور رواں ماہ دورہ نیوزی لینڈ کے سبب پاکستان آمد پر پہلے ہی سوالیہ نشان لگا ہوا تھا لیکن حال ہی میں پنجاب بھر میں شدید سموگ کے سبب پی سی بی کے لئے ویسٹ انڈین ٹیم کی آمد کی صورت میں میچز کا انعقاد بھی ممکن ہوتا نظر نہیں آ رہا۔پاکستانی کرکٹرز کے شیڈول کو دیکھا جائے تو رواں ماہ قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے بعد دسمبر میں کوئی مصروفیت نہیں، جنوری میں دورۂ نیوزی لینڈ اور فروری میں پی ایس ایل کا انعقاد ہونا ہے، چھٹی ٹیم متعارف کرائے جانے کی وجہ سے اس بار ایونٹ طویل ہوسکتا ہے۔اپریل اور مئی میں آئرلینڈ اور انگلینڈ کے ٹورز سے قبل دسمبر اور مارچ میں ہی فارغ وقت موجود ہے،دوسری جانب ویسٹ انڈین ٹیم رواں ماہ نیوزی لینڈ کا دورہ شروع کرے گی جو دسمبر میں بھی جاری رہے گا،یوں گرین شرٹس فارغ ہونے کے باوجود کیری بیئنز کو نہیں بُلا سکیں گے،4مارچ سے 10اپریل تک بنگلہ دیش کی ٹیم ویسٹ انڈیز کا دورہ کررہی ہوگی، اس دوران بھی پاکستان فرصت میں کیری بیئنز کی میزبانی نہیں کر سکے گا،جبکہ سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے عالمی نمبر ایک پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ نیوزی لینڈ کی بھارت کے ہاتھوں تیسرے اورآخری ٹی 20 میچ میں شکست کے ساتھ ہی پاکستان ٹی20 رینکنگ میں دوبارہ عالمی نمبر ایک بن گیا۔ بھارت کے خلاف سیریز کے آغاز سے قبل نیوزی لینڈ عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر موجود تھا،جبکہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں فتح کی بدولت پاکستان عالمی نمبر دو تھا۔ مستقبل قریب میں کوئی ٹی20 میچ نہ ہونے کے سبب پاکستان کی ٹی20 رینکنگ کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ عالمی درجہ بندی میں پاکستان 124 پوائنٹس کے ساتھ پہلے، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز یکساں 120 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور تیسرے، انگلینڈ اور بھارت بھی 119 پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔ عالمی رینکنگ میں جنوبی افریقہ چھٹے، آسٹریلیا ساتویں، سری لنکا آٹھویں، افغانستان نویں اور بنگلہ دیش دسویں نمبر پر موجود ہے۔ آئی سی سی نے نئی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ جاری کر دی ہے جس کے مطابق بابر اعظم ایک درجہ تنزلی کیساتھ 10 ویں پوزیشن پرآ گئے ہیں۔ ٹاپ 20 میں اور کوئی پاکستانی بیٹسمین موجود نہیں ہے۔ شعیب ملک 25 ویں، احمد شہزاد 27 ویں نمبر پر ہیں۔ بھارتی کپتان ویرات کوہلی سرفہرست ہیں، ایرون فنچ، ایون لیوس، کین ولیمسن، گلین میکسویل، الیکس ہیلز، ہاشم آملہ،جوئے روٹ اور مارٹن گپٹل اپنی پوزیشنز پر موجود ہیں۔ بولرز میں عماد وسیم بدستور دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی پاکستانی ٹاپ 40 میں بھی شامل نہیں، شاداب خان 44 ویں، محمد عامر 48 ویں پوزیشن پر ہیں۔ جسپریت بمراہ ٹاپ پر موجود ہیں، راشد خان تیسرے، سیموئل بدری چوتھے، عمران طاہر پانچویں، سنیل نارائن چھٹے، مستفیض الرحمن ساتویں، شکیب الحسن آٹھویں، جیمز فالکنر نویں نمبر پر موجود ہیں، ایش سوڈھی پانچ درجہ ترقی کے ساتھ دسویں نمبرپرآ گئے ہیں۔دوسری جانب پاکستان سپر لیگ کے تیسرے سیزن کا پلیئرز ڈرافٹ آج ہوگا، 6 ٹیمیں مختلف کیٹیگریز میں 11،11 کھلاڑیوں کا انتخاب کریں گی۔پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کے افق پر کون سا ستارہ کس ٹیم کے لئے جگمگائے گا، اس کا فیصلہ آج لاہور میں ہوجائے گا۔ڈرافٹ سے قبل ملتان سلطانز کی ٹیم ریلیز پلیئرز پول میں سے 9 کھلاڑیوں کا انتخاب کرے گی، جبکہ ٹیمیں پلاٹینم، ڈائمنڈ اور گولڈ میں1، 1 کھلاڑی، سلور اور ایمرجنگ میں 2،2، جبکہ سپلیمنٹری کیٹیگری میں4،4 پلیئرز کا انتخاب کریں گی۔گولڈ کے علاوہ ہر کیٹیگری میں لاہور قلندرز کی پہلی پک ہوگی، گولڈ میں کراچی کی ٹیم پہلے کھلاڑی چنے گی۔ڈرافٹ میں کرس لین، جے پی ڈومنی، مچل جونسن، ڈیوائن براوو، عمران طاہر، اینجیلو میتھیوز، لیوک رونکی، کولن انگرام، وائن پارنیل اور جان ہیسٹنگ سمیت کئی غیر ملکی پلیئرز شامل ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1