پاکستان بیس بال کو عروج پر لے کر جانا میرا مشن ہے ، افراز ہاشمی

پاکستان بیس بال کو عروج پر لے کر جانا میرا مشن ہے ، افراز ہاشمی

 کھیلوں کے میدان میں پاکستان ایک نمایاں مقام رکھتا ہے کرکٹ ہو یا ہاکی دونوں کھیلوں میں ملکی ٹیموں نے ملک کا نام کئی مرتبہ روشن کیا لیکن اب بیس بال کے میدان میں بھی پاکستان کے کھلاڑی ملک کا نام روشن کرنے کے لئے پر عزم ہیں ۔قومی انڈر 15بیس بال ٹیم چیمپئن شوزوکاجاپان کا دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ گئی ایئر پورٹ پر کم عمر قومی ہیروز کا والہانہ استقبال کیا گیا۔کھلاڑیوں کے رشتہ داروں کے علاوہ سپورٹس کے شائقین نے بھی کھلاڑیوں کی خوب حوصلہ افزائی کی ۔قومی بیس بال ٹیم نے ہانگ کو 10گول شکست دے کر بیس بال کے میدان میں اپنی موجودگی کا پوری دنیا کو احساس دلا دیا۔جاپان کے خلاف کسی بھی ٹیم نے کوئی گول نہ کیا لیکن قومی ٹیم نے جاپان کے خلاف2گول کر کے بیس بال کے میدان میں خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ شاہدرہ سے تعلق رکھنے والے کم عمر افراز ہاشمی کا شاہدرہ ان کی رہائشگاہ پر پہنچنے پر والہانہ استقبال کیا گیا اہل علاقہ ان کے رشتے داروں اور مقامی سپورٹس ایسو سی ایشن کے نمائندوں نے افراز ہاشمی کااستقبال کیا۔افراز ہاشمی کم عمر ترین کھلاڑی ہیں جو محض13سال کی عمر میں آدھی دنیا میں قوم کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ انہوں نے پہلا دورہ تائیوان کیا جہاں بیس کے بال کے میدان میں اپنا مقام پیدا کیا اور سخت محنت سے ثابت کیا کہ اگر لگن سچی ہو تو کامیابی کا حصول ممکن ہے ۔افراز ہاشمی نے دوسرا دورہ چائنہ کیا جہاں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا،تیسرادورہ کینیڈا چوتھا یورپ اور اٹلی اور پانچواں حالیہ دورہ جاپان کر کے کم عمر ی میں بیرون ملک کے زیادہ دورے کرنے والے کھلاڑیوں میں بھی شامل ہوگئے ۔روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے نمائندے نے افراز ہاشمی سے ان کی رہائش گاہ شاہدرہ میں ملاقات کی تو انکشاف ہوا کہ افراز ہاشمی کرکٹر عبدالرزاق کے محلے دار ہیں اور دونوں کے گھروں میں صرف 2تین گلیوں کا فاصلہ ہے۔اس موقع پر افراز ہاشمی نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک جا کر پاکستان کی نمائندگی کرنا کسی اعزاز سے کم نہیں غیر ملکی ٹیموں کے ساتھ صرف اسی جذبے کے ساتھ کھیلتا ہوں کہ ملک کی عزت کے لئے فتح حاصل کرنی ہے ۔افراز نے کہا کہ میں نے دی ایجوکیٹرز سکول حسن کیمپس کا طالب علم ہوں اور مجھے بیس بال کا جنون ہے اور اس جنون کو سپورٹ کرنے میں میرے والداعجاز ہاشمی کا بہت کردار ہے انہوں نے کبھی بھی مجھے کھیلنے سے منع نہیں کیا، لیکن تعلیم کے حصول پر بھی کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔افراز نے مزید کہا کہ پاکستان میں بیس بال پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اسی وجہ سے ہم دوسرے یورپی ممالک سے بہت پیچھے ہیں، لیکن اگر حکومت اس کھیل پر ذرا سی توجہ دے اور فنڈز رکھے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی بیس بال ٹیم ساری دنیا کو ہرا سکتی ہے،افراز ہاشمی نے تجویز دی جہ مقامی سطح پر بیس بال کو فروہ دینے کے لئے کلب قائم کئے جائیں۔ کرکٹ ،ہاکی اور فٹ بال کی طرح بیس بال کے مقامی سطح پر ٹورنامنٹ کرائے جائیں تو لڑکوں میں اس کھیل کے حوالے سے شعور بھی اجاگر ہو گا اور دُنیا میں پاکستان کا نام مزید روشن ہو گا۔اس موقع پر افراز ہاشمی کے دوستوں نے افراز ہاشمی کو گلدستے پیش کئے اور پاکستان کو بتایا کہ ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ بیس بال کے فرو غ کے لئے بھرپو ر اقدامات کئے جائیں۔اس موقع پر افراز ہاشمی کے والد افتخار ہاشمی نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ کرکٹ کی طرح بیس بال پر بھی توجہ دی جائے، کیونکہ کم عمر کھلاڑیوں میں اس کھیل کا بہت ٹیلنٹ موجود ہے اگر اس ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچانا ہے تو ہمیں ان بچوں کو بیس بال کے لئے بہترین ماحول دینا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی بہت مشکل کا م نہیں بس مقامی سطح پر سپورٹس تنظیموں میں بیس بال کے میچ کرائے جائیں سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر بیس بال کو فروغ دیا جائے تاکہ ہمارے نوجوان دنیا سے پیچھے نہ رہ سکیں۔اس موقع پر افراز ہاشمی کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ افراز ہاشمی جیسے دوسرے بچوں کو بیس بال سے محبت ہے، لہٰذا ہم سب حکومت سے اپیل کرتے ہیں بیس بال کو کرکٹ او ر ہاکی کی طرح نمایاں اہمیت دے کر اس کھیل کے لئے بھی بھرپور فنڈز مختص کئے جائیں۔آخر میں افراز ہاشمی نے دورہ جاپان کے دوران مختلف واقعات سے آگاہ کیا ۔

مزید : ایڈیشن 1