کشمیر میں شدید خشک سالی ‘ دریائے جہلم کے پانی میں ریکارڈ کمی

کشمیر میں شدید خشک سالی ‘ دریائے جہلم کے پانی میں ریکارڈ کمی

سری نگر(کے پی آئی)وادی میں شدید خشک سالی کی وجہ سے دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں ریکارڈ کمی ہوگئی ہے اور گذشتہ 60برسوں میں پہلی بار جہلم کی کم ترین سطح ریکارڈ کی گئی ہے۔ماہرین ماحولیات نے کشمیر میں جاری خشک سالی کیلئے گلوبل وارمنگ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلیشروں کے سکڑنے سے وادی میں پانی کی سطح میں تشوناک حد تک کم ہو رہی ہے جس کا سیدھا اثر لوگوں کی روزمرہ کی زندگی پر پڑ رہا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشر گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دھیرے دھیرے پگل رہے ہیں اور ابھی تک گلیشروں کے پگلنے میں 23فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں پانی کے حوالے سے تباہ کن صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔وادی میں ایسا پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے کہ جب یہاں آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں ریکارڈ کمی واقعہ ہوئی ہو جبکہ اس سے قبل بھی وادی میں طویل مدت تک موسم خشک رہا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 2016میں وادی میں طویل مدت تک موسم خشک رہا اور اس دوران صرف 3ملی میٹر بارشیں ہی ہوئی تھیں، تاہم اس دوران آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں اس قدر کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق اس سے قبل 1981، 1988اور2005 میں بھی موسم خشک رہا تاہم اس دوران آبائی ذخائر خشک نہیں ہوئے نہ جہلم کی سطح آب میں زیادہ کمی ہوئی۔محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر محتار احمد نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ آج ہی نہیں بلکہ اس سے قبل بھی موسم خشک رہا ہے ۔ گذشتہ برس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر سال وادی میں اکتوبر ، نومبر اور دسمبر کے مہینے میں 100ملی میٹر بارشیں ہوتی رہی ہیں لیکن اس سال ابھی تک صرف 3.6ایم ایم بارش ہی ہوئیہیں ۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے مہینے میں ایک بوند بارش نہیں پڑی ۔ محکمہ فلڈ کنٹرول کا کہنا ہے کہ ولر 60برسوں بعد اس طرح سوکھ رہا ہے ۔محکمہ کے مطابق ولر میں پانی کی سطح میں 20 فٹ کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ جہلم کے حوالے سے محکمہ نے بتایا کہ جہلم میں ایسا پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ پانی اتنا کم ہوا ہے ۔آبی ذخائر میں پانی کی سطح کم ہونے کو ماہرین نے گلوبل وارمنگ کو ذمہ دار قرار دیکر اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ گلیشروں کے وجود کے لئے شدید خطرہ ہے جو مستقبل میں پانی کے حوالے سے تباہ کن صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے بارشیں اور برف کم ہونے کے سبب گلیشر پگل رہے ہیں ۔سرکردہ جیالوجسٹ شکیل رامشو کے مطابق وادی میں غیر متوقع طور پر درجہ حرارت میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایسا گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہے ۔ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافہ گلیشروں کے وجود کیلئے شدید خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گلیشر پچھلے 60سے 70برسوں سے دھیرے دھیرے پگل رہے ہیں اور ابھی تک ان میں 23فیصد کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر، نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں پانی کافی کم ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال بھی موسم کافی وقت تک خشک رہا اور لگاتار دو برسوں تک موسم کے خشک رہنے کا اثر یہاں پانی پر پڑا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وادی میں پانی کی کمی واقعہ ہوئی ہے ۔ماحول میں آلودگی اور آبادی بڑھنے کی وجہ سے بھی ماحول پر اثر پڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے گھریلو سطح پر لوگ پانی کا کم استعمال کرتے تھے لیکن اب اس کا استعمال بھی کافی زیادہ ہو گیا ہے کیونکہ ہر گھر میں تین سے چار نل اور تین سے چار واشروم ہیں جہاں پانی کا بے تحاشا استعمال کیا جاتا ہے ۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...