ماڈل ٹاؤن کچہری میں اہم ریکارڈ سمیت عدالتی فیصلے ضائع ہونیکا خطرہ

ماڈل ٹاؤن کچہری میں اہم ریکارڈ سمیت عدالتی فیصلے ضائع ہونیکا خطرہ

لاہور(نامہ نگار )ماڈل ٹاؤن کچہری پولیس اہلکاروں کی عدم دلچسپی کے باعث عدالتی فیصلہ ہونے کے بعد پولیس ریکاڈ کو تھانوں میں منتقل کرنے کے بجائے کھلے آسمان کے نیچے رکھنے کے باعث بیشتر ریکارڈ ضائع ہونے لگا ہے ۔پولیس ریکارڈ کو متعلقہ تھانوں میں نہ بھیجنے کے باعث کچہری میں جگہ کم پر گئی ہے، ماڈل ٹاؤن ڈویژن کے 24تھانوں کے عملے کی جانب سے ریکارڈ کو بر وقت تھانوں میں نہ منتقل نہ کیا جا سکااور ریکارڈ کو بے یارو مددگار کھلے آسمان کے نیچے پھینک دیا گیا ،ریکارڈ کو باہر پھینکنے کے باعث متعدد کیسوں کی فائلیں ضائع ہو گئی ہیں،ریکارڈ میں پسند کی شادی کرنے والی خواتین کے بیان اور ان کے فیصلے کی کاپیاں بھی شامل ہیں جس کو عدالتی فیصلہ ہونے کے بعد متعلقہ تھانے میں بھجوایا جاتا ہے ،اس کے علاوہ بیشتر ملزمان کاریکارڈ بھی ردی کے ڈھیر کا منظر پیش کرنے لگا ہے ،ریکارڈ میں 2013ء سے لے کر2017ء تک کے فیصلے شامل ہیں ،بارش ہونے کے باعث ریکارڈ مکمل ضائع ہو سکتا ہے،وکلاء کا کہنا ہے کہ ریکارڈ ضائع ہونے کے باعث سائلین کو بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور ریکارڈ دوبارہ نکلوانے کی صورت میں سائلین عدالتوں اور تھانوں کے چکر کاٹ سکتے ہیں جبکہ یہ ریکارڈ کمپیوٹررائز بھی نہیں کیا گیا ہے ۔

مزید : علاقائی