ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی یادگار شہدا پر حاضری ، فاروق ستار کی خواہش پر اسٹیبلشمنٹ نے ملاقات کرائی ، مصطفی کمال ، الزامات پر عدالتی کمیشن بنایا جائے ، پیپلز پارٹی

ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی یادگار شہدا پر حاضری ، فاروق ستار کی خواہش پر ...
ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی یادگار شہدا پر حاضری ، فاروق ستار کی خواہش پر اسٹیبلشمنٹ نے ملاقات کرائی ، مصطفی کمال ، الزامات پر عدالتی کمیشن بنایا جائے ، پیپلز پارٹی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) سربراہ پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی)مصطفی کمال نے کہا ہے فاروق ستا ر کیساتھ ہماری ملا قا ت اور پریس کانفرنس انکی خواہش پر اسٹیبلشمنٹ نے کرائی ، میں اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ نہیں ،ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے بلوا کر فاروق ستار سے ملو ا یا، ہمارے پہنچے سے پہلے ہی فاروق ستار وہاں موجود تھے،تاثر دیا جارہا ہے فاروق ستار کو اغوا کرکے پریس کانفرنس کرائی گئی، اگر ہم نے بلو ا یا ہوتا تو پہلے ہم وہاں موجود ہوتے فاروق ستار نہیں ،فاروق ستار اور انکی 11رکنی ٹیم گزشتہ 8ماہ سے ہم سے ملاقاتیں کر رہی تھی،ہرگھنٹے بعد قلابازیاں اورکامیڈی شوہورہا تھا، ہم نے فیصلہ کیا ملکر جماعت کا نیا نام رکھا جائے گا،ہم ڈان لیکس اور ایم کیو ایم لیکس کرنیوالے لوگ نہیں ، ہمیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے،کہا تھا جھوٹ اتنا بولیں کہ سچ نہ بولنے پڑ یں، الٹا فاروق ستار نے ہم پر الزام لگایا کہ پی ایس پی کو اسٹیبلشمنٹ چلارہی ہے، الطاف حسین ’’را‘‘ کیلئے کھل کے کام کر رہا ہے ،فاروق ستار چاہتے تھے پی ایس پی، ایم کیو ایم میں ضم ہو، لیکن میں نے ان کو بتایا میں ایم کیو ایم میں شامل نہیں ہوسکتا،ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتل الطاف حسین ہیں ، جو لوگ آج مہاجر مہاجر کر رہے ہیں ، ان سے بڑا مہاجروں کا دشمن اور کوئی نہیں ،ہم نے 35سال تک مہاجر کارڈ پر سیاست کرلی، مہاجروں نے ہمیں ووٹ دیئے، ہمیں 25 ہزار مہاجروں کی لاشیں ملیں، لیکن مہاجروں کو کیا ملا؟ گزشتہ روز مصطفی کمال کا مزید کہنا تھا میری یہ پریس کانفرنس پچھلے 24گھنٹے سے والے کامیڈی شو کا جواب ہے، اہم مسائل اورچند اہم حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں، ہم لوگ چیزیں لیک کرنیو الے نہیں، ہم سامنے بات کرتے ہیں،پچھلے48گھنٹوں سے ایک شوہورہا ہے، ہم نے فاروق ستار کیساتھ پریس کانفرنس کی، اس کے چار گھنٹے کے بعد؂ باتیں شروع ہوگئیں، میڈیا یہ تاثر دے رہا ہے میری فاروق ستار سے پریس کانفرنس اسٹیبلشمنٹ نے کر ائی ہے، فاروق ستار نے آرمی چیف کو خط لکھا۔ سبز واری نے میڈیا کو تمام چیزیں لیک کیں کہ پریس کانفرنس سے ایک دن پہلے فاروق ستار کس حال سے گزرے، عشرت العباد نے بیان دیا فا ر وق ستار نے انہیں بتایا کہ ان سے مجبوراً یہ کام کرایا گیا، سعد رفیق کا بیان بھی چل رہا ہے ، ملاقات کے بارے میں تاثر دیا گیا اسٹیبلشمنٹ پی ایس پی کیلئے کام کررہی ہے، فاروق ستار کو پی ایس پی کیساتھ ملنے کیلئے زور لگایا جارہاہے،میں مارچ2016سے جدوجہد کررہا ہوں، اور فا ر وق ستار تب سے الزام لگا رہے ہیں، میں بتانا چاہتا ہوں ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے بلا کر فاروق ستار سے ملوایا، فاروق ستار کی فرمائش پر ہمیں بلوایا گیا، پچھلے آٹھ مہینے سے فاروق ستار اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہمیں بلارہے ہیں، میرے پاس روز تین سو مائیں آتی ہیں، جن کے بچے لا پتہ ہیں،میں ایجنٹ ہوتا تو سینیٹر شپ نہ چھوڑتا، فاروق ستار نے آدھا جھوٹ بولا میں پورا سچ بولتا ہوں،فاروق ستار نے ہی ہمیں بلوایا اور آٹھ ماہ سے ہم سے میٹنگ کررہے ہیں کہ پی ایس پی ایم کیو ایم میں ضم ہوجائے، میں لڑائی نہیں کرسکتا اور نہ لڑوں گا، میں نے یہ بات کی ا گر آپ مجھے ایم کیو ایم میں شامل ہونے کا کہتے ہو، تو میں پی ایس پی بند کرتا ہوں،لیکن ایم کیو ایم میں شامل نہیں ہونگا، ایم کیو ایم صرف الطاف حسین کی ہے، ہمارے کارکن جذبے کے تحت کام کررہے ہیں،اگر پی ایس پی سے ملک کو نقصان پہنچا ہے تو ہم یہ پارٹی بند کردیتے ہیں، آپ جتوائیں ایم کیو ایم کو ،انکا کہنا تھا فاروق ستار نے کہا ہم پی ایس پی بند نہیں کرنا چاہتے، یہ طے پایا کہ ایک نئی چیز پر بات کی جا ئے جس پر طے پایا کہ ایک تیسری جماعت بن جائے اور اس کے تحت جدوجہد ہو، میں نے ساتھیوں سے مشورہ کیا ہم نے کہا ہم اپنی پارٹی سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں،یہ سب کچھ فاروق ستار کی بتائی میٹنگ میں ہوا،اب میڈیا میں خود سچے بن رہے ہیں، پچھلے ڈیڑھ سال سے ان کے ہر بیا ن میں ہم اسٹبیلشمنٹ والے ہیں۔ اخبارات بھرے ہیں ،فاروق ستا ر کے بیانات سے مجھے کوئی شرم نہیں ، اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ ’’ را‘‘ کے ایجنڈ الطاف حسین کے نام پر کراچی میں کام نہیں ہونا چاہیے۔جو بات میں کررہاہوں یہ آئی ایس پی آر کو کرنی چاہیے تھی ،ایم کیو ایم آج تک الطاف حسین سے رابطے میں ہے، ایک لفاظ الطاف حسین کیخلاف نہیں بولتے۔فاروق ستار کو کیا نہیں پتہ کہ ڈاکٹر عمران کو کس نے مر و ا یا،فاروق ستار کو سب پتہ ہے اور بھارت ملوث ہے تو ڈاکٹر عمران کی قبر پر کھڑے ہوکر فاروق ستارالطاف حسین کیخلاف بددعا کر د یں ، شا ید قبر پر کھڑے ہوکر وہ سچ بول دیں، کامران ٹیسوری کا آٹھ مہینے کا سفر ہے،اس سے پہلے وہ ایم کیو ایم میں تھے،درجنوں میٹنگز کی ہیں ، عمران فاروق ستار کا میرے پاس خو ا جہ اظہار کا ہاتھ سے لکھا ہوا خط موجود ہے، جس میں جو باتیں طے ہوئی وہ لکھی گئیں۔میں ایم کیو ایم کو مانتا نہیں تو الائنس کیسے کر و ں گا ۔ ہم نے ملک کے مفاد میں ایم کیو ایم سے اتحاد کیا، میں دو سال سے محنت کررہا ہوں کیا یہ سب ایجنسی کررہی ہے؟ جو کہتے ہیں پی ایس پی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ہے، میں خود کہتا ہوں میں اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ہوں،ہم نے تین سو میں سے ستر مہاجرین کو بازیاب کرایا ہے، وہ ستر مہا جرمیرے نہیں ایم کیو ایم کے کارکن تھے، ہمارا تو کوئی کارکن غائب نہیں ۔22اگست 2016ء کو جو کچھ ہوا پوری قوم اس سے آگاہ ہے ۔ ا س کے بعد بھی ہم اسٹیبلشمنٹ کے ہیں جبکہ ملزم گرفتار ہوئے اور ایم کیو ایم سربراہ بن کرنکلے۔گورنر عشرت العباد نے آرمی چیف ،ڈی جی رینجرز، وزیراعظم سے بات کی اور فاروق ستار کو چھڑوایا۔سارا کام ملک میں تو اسٹیبلشمنٹ کررہی ہے، کراچی ’’را ‘‘کے ایجنٹ کے پاس تھا تو اسٹیبلشمنٹ نہیں اپنا کام کرے گی؟جو لوگ تاثر دے رہے ہیں مہاجر سیاست شروع ہورہی ہے، کیا سندھ کے شہری علاقوں کا مینڈیٹ ایم کیو ایم کے پاس نہیں ، مہاجروں کا سو فیصد مینڈیٹ ایم کیو ایم پاکستان کے پاس ہے۔ یہ جو لوگ مہاجر نام بن کر سیاست کررہے ہیں، انہوں نے کوئی کام مہاجروں کیلئے نہیں ان سے بڑا مہاجروں کادشمن کوئی نہیں ہے،میں مہاجروں کا نہیں بلکہ پنجابیوں اور پختونوں کا بھی لیڈر ہوں۔مجھے ووٹ نہ بھی ملیں، تو میری زندگی نہ کم ہوگی۔میں سیاست کرنا جانتا ہوں۔میں نے ایک لمحے کیلئے بھی مہاجروں سے غداری نہیں کی ۔

کراچی،لاہور(نمائندہ خصوصی ،مانیٹرنگ ڈیسک) ایم کیوایم پاکستان کا سربراہ بننے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے قافلے کی صورت میں یادگار شہدا ء پر گزشتہ روزحاضری دی جہاں انہوں نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ فاتحہ خوانی کی۔22 اگست 2016 ء کو بانی ایم کیوایم کی اشتعال انگیز تقریر اور پھر ایم کیوایم میں آنیوالی تبدیلیوں کے نتیجے میں ایم کیو ایم پاکستان کا سربراہ بننے کے بعد فاروق ستار نے پہلی بار یادگار شہدا پر حاضری سے دو روز قبل سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا جسے تھوڑی ہی دیر بعد واپس لے لیااور میڈیا سے گفتگو میں یادگار شہدا پر حاضری کا اعلان کیا تھا۔سربراہ ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار نے ہفتہ کو عائشہ منزل سے یادگار شہدا تک مارچ کا اعلان کیا تھا جسے منسوخ کردیا گیا ۔ فا ر و ق ستار کے اعلان کے بعد پولیس نے یادگار شہداکوجانیوالے راستوں کو لیاقت علی خان چوک، مدنی مسجد اور اللہ والی چورنگی سے یادگار شہدا جانیوالے راستوں کو بند دیا تھا، جبکہ رینجرز نے علاقے میں گشت بھی بڑھا دیاجس پر ایم کیوایم نے پروگرام میں تبدیلی کی ۔گزشتہ روزفاروق ستار کا قافلہ جب لیاقت علی خان چوک پہنچا تو پولیس نے آگے جانے سے روک دیا تاہم امین الحق کی پولیس حکام سے بات چیت کے بعد قافلے کو آگے جانے کی اجازت مل گئی۔فاروق ستار کی یادگار شہدا پر حاضری سے قبل ایم کیوایم کارکنان نے شہدا قبرستان کے دروازے پر لگا تالہ توڑ دیا اور اندر گھس گئے۔فاروق ستار نے میئر کراچی وسیم اختر، فیصل سبزواری، امین الحق، کامران ٹیسوری اور دیگر کے ہمراہ یادگار شہدا پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔یادگار شہدا پر حاضری سے قبل فاروق ستار کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’میرا ایک بیٹا ہے، پارٹی میں جانے سے منع کیا تھا لیکن وہ نہیں مانا، میرے بیٹے نے بہت قربانیاں دی ہیں۔اس موقع پر فاروق ستار نے میڈیا سے انتہائی مختصر گفتگو میں بتایا وہ پہلے بہادر آباد جارہے ہیں، وہاں رابطہ کمیٹی کے ارکان موجود ہیں جنہیں ساتھ لے کر قافلے کی صورت میں یادگار شہدا اور جناح گراؤنڈ جائیں گے۔فاروق ستار نے کہا اس حوالے سے انہیں اجازت ملنے پر جو مسائل پیش آئے اس کی تفصیل بتائیں گے۔ایم کیوایم کے عارضی مرکز بہادر آباد پہنچنے پر فاروق ستار کا کہنا تھا ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے، ہمارے کارکنوں کو یادگار شہدا جانے کی اجازت نہیں ملی، بڑی مشکل سے رابطہ کمیٹی کو اجازت دی گئی ہے جو میرے لیے ناقابل فہم ہے۔ اگر کارکنان خود آرہے ہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں، اگر رابطہ کمیٹی کو اجازت دی جارہی ہے تو کارکنوں کو بھی اجازت دی جائے۔ پانچ نومبر کے جلسے کی کامیابی کے بعد ایک نیا حوصلہ ملا ہے جس میں ژابت کیا ہم صاف ستھری ایم کیوایم قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ایم کیوایم پاکستان لوگوں کے دلوں میں گھر کرچکی ہے۔ 2018 میں ایم کیوایم پاکستان اور مہاجروں کو ان کی کھوئی ہوئی عظمت لوٹائیں گے۔ ہم تاریخ رقم کررہے ہیں لیکن افسوس ہے ہمارے کارکنان کی سرگرمیوں کو روکا جارہا ہے۔دریں اثناء ایم کیوایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا تھا ایم کیوایم پاکستان کسی کیساتھ ضم نہیں ہوگی۔ ہم نے پاک سرزمین پارٹی کیساتھ مستقبل میں سیاسی اتحاد کیلئے کوششیں کیں لیکن پی ایس پی کے سربراہ نے غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر کے سیاسی اتحاد کا قیمتی موقع گنوا دیا۔پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم پاکستان کے قیام سے متعلق مصطفی کمال کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔پنجاب کے صدر قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے رینجرز ہیڈ کواٹر میں ایم کیو ایم پاکستان کے قیام کا الزام انتہائی سنجیدہ ہے جبکہ ترجمان چو د ھر ی منظور نے الزامات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کردیاہے۔انکا کہنا ہے ایم کیو ایم اپنی عمر پوری کر چکی اب اسے کو ئی نہیں بچا سکتا۔ ایم کیو ایم کو زندہ کرنے کی ساری کوششیں بیکار ہو جائیں گی۔شریف خاندان کی منی لانڈرنگ اور کرپشن کے مزید ثبوت سا منے آ چکے ہیں اب یہ بھی نہیں بچیں گے۔میڈیا سے گفتگو میں چو دھری منظورنے کہاحبیب بنک کو امریکہ میں منی لانڈرنگ میں 62 ارب کا جرمانہ ہوا ہے۔منی لانڈرنگ کے ڈانڈے حبیب بنک جاتی امرا سے ملتے ہیں۔شریف خاندان کی سب سے بڑی منی لانڈرنگ کامقدمہ حدیبیہ مل کی صورت میں کھل رہا ہے اب ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ بھی کھلنا چاہئے۔ قمر زمان کائرہ نے کہاپیپلز پارٹی کیخلاف بننے والے 21 جماعتی اتحاد کی صفر جمع صفر سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں ۔ ماضی میں بھی اتحاد بنتے رہے مشرف کا اتحاد بھی زیرو ہو گا۔ پیپلز پارٹی کو روکنے کیلئے دو دن پہلے بننے والا اتحاد بھی ٹوٹ چکا ہے۔ یہ اتحادوں کا زمانہ ہے بنتے ٹوٹتے رہیں گے۔نواز شریف کو مجھے کیوں نکالا کا جواب مل گیا عدالت نے تو راہزن کے لوٹنے کی بات کی نواز شریف کیوں برا منا گئے؟ نواز شریف کو نظر آرہا ہے کہ اس کا پورا ٹبر نا اہل ہونے جا رہا ہے، نواز شریف کو اب یہ نظام وارے میں نہیں اس لئے پٹری سے اتارنا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی

مزید : صفحہ اول