فارمولا فلموں کا دورلد گیا ، گھسے پٹے سیاسی فارمولے کب تک چلیں گے ؟

فارمولا فلموں کا دورلد گیا ، گھسے پٹے سیاسی فارمولے کب تک چلیں گے ؟
فارمولا فلموں کا دورلد گیا ، گھسے پٹے سیاسی فارمولے کب تک چلیں گے ؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

سیاسی اتحادوں کے اس موسم میں روزانہ کوئی نہ کوئی اتحاد بن رہا ہے اور پرانے اتحاد بحال بھی ہو رہے ہیں جو اتحاد ’’پری میچور‘‘ بن جاتا ہے وہ چند گھنٹوں کے اندر ٹوٹ بھی جاتا ہے اگلے انتخابات تک یہ کھیل یونہی جاری رہے گا، بعض اتحاد تو فارمولا فلموں کی طرح بن رہے ہیں ایک زمانہ تھا جب ایسی فلمیں باکس آفس پر ہٹ ہو جاتی تھیں اور فلم سازوں کے وارے نیارے ہو جاتے تھے، لیکن یہ دور کب کا لد چکا، اب فارمولے فلموں میں نہیں چلتے تو سیاست میں کیسے چلیں گے لیکن یار لوگوں کا اصرار ہے کہ وہ اپنی ’خو نہیں بدلیں گے‘ چلئے نہ سہی، نہ بدلیں لیکن بدلے ہوئے حالات میں ضروری نہیں نتیجہ پرانے فارمولوں کی طرح نکلے، جنرل پرویز مشرف نے 2002ء میں جو انتخاب کرائے تھے ان میں حصہ لینے والوں میں ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) چھ سیاسی جماعتوں کا ایک اتحاد بھی شریک تھا، کہنے کو تو یہ چھ جماعتیں تھیں لیکن دو ہی جماعتیں ایسی تھیں جن کے امیدوار منتخب ہو سکے، صوبہ سرحد (اس وقت یہی نام تھا) میں ایم ایم اے کی حکومت بنی تو وزارت علیا کا منصب جمعیت علمائے اسلام کے حصے میں آیا، دوسری بڑی جماعت یعنی جماعت اسلامی کو سینئر وزیر کا منصب ملا، باقی چار جماعتیں بھی شریک اتحاد تھیں لیکن انہیں اقتدار میں حصہ بقدر جثہ ہی ملنا تھا اس لئے ایک دو وزارتیں ان کے حصے میں بھی آ گئیں، یہ اتحاد اگر چلتا رہتا تو بعد میں ہونے والے انتخابات میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا تھا لیکن اگلے انتخابات کے آتے آتے یہ اتحاد اپنے ہی بوجھ تلے دب چکا تھا، چنانچہ جب اس میں شریک جماعتوں نے الگ الگ انتخاب لڑا تو کامیابی ان سے روٹھ گئی اور 2008ء کے انتخاب کے نتیجے میں صوبائی حکومت اے این پی اور پیپلزپارٹی نے مل کر بنا لی ۔2013ء کے انتخابات میں بھی ایم ایم اے کو بحال کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں لیکن اناؤں کی چٹانیں اتنی بلند تھیں کہ انہیں عبور نہ کیا جا سکا چنانچہ بعض جماعتوں کی خواہشات اور نیک نیتی کے باوجود ایم ایم اے کی بحالی ممکن نہ ہو سکی، اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اب ایسا کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے دوبارہ ایم ایم اے کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس کی کئی وجوہ ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں کچھ پیشرفتیں ایسی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا پڑا، آپ کو معلوم ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد لاہور کے حلقہ این اے 120 میں جو ضمنی انتخاب ہوا اس میں امیدواروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ 41 کے لگ بھگ امیدوار اس انتخاب میں میدان میں اتر آئے تھے ان میں کتنے سنجیدہ تھے اور کتنے غیر سنجیدہ، اس سوال کا جواب تو نتائج کی فہرست دیکھ کر بخوبی مل جاتا ہے، اس انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار بیگم کلثوم نواز جیت گئیں تو دوسرے نمبر پر تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد رہیں، ان دو کے سوا باقی تمام امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔ جو سوال ہم نے اوپر کیا ہے اس کا جواب ضمانتوں کی اس ضبطی میں بھی چھپا ہوا ہے لیکن اس ضمنی حلقے میں دو ایسی سیاسی جماعتیں بھی بہت زیادہ سرگرم رہیں جو اس سے پہلے وجود نہ رکھتی تھیں ایک تو لبیک یا رسول اللہ پارٹی ہے جس کی قیادت بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ جب ضمنی انتخاب ہو رہا تھا اس وقت اس کی قیادت مولانا خادم حسین رضوی کر رہے تھے لیکن انتخاب ہارنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد اس کے ایک نئے قائد ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کی شکل میں سامنے آئے، فی الحال اس بحث میں نہیں پڑتے کہ اتنے مختصر وقت میں ایک جماعت دو حصوں میں کیسے بٹ گئی کیونکہ ایسا محیر العقول واقعہ ماضی بعید و قریب میں کبھی نہیں ہوا، اب یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے انداز میں احتجاجی سیاست کر رہی ہیں پہلے ڈاکٹر آصف جلالی نے دھرنا دیا وہ ختم ہوا تو مولانا رضوی دھرنے پر چلے گئے جو ابھی تک ختم نہیں ہوا ان کا مطالبہ ہے کہ وزیر قانون زاہد حامد کو برطرف کیا جائے۔ دوسری سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ ہے جس کے امیدوار نے بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑا یہ جماعت الدعوۃ کا سیاسی اور انتخابی ونگ ہے۔ جو اہل حدیث مکتب فکر کی نمائندگی کرتا ہے آج تک حافظ محمد سعید انتخابی سیاست سے دور رہے اور اگر کسی نے انہیں انتخاب لڑنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے قبول نہیں کیا، لیکن حلقہ نمبر120میں کچھ ایسی کشش تھی کہ انتخابی سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھنے والے بھی اس کا پھل چکھنے پر خوشی خوشی تیار ہو گئے، اب آپ یہ نہ پوچھیں کہ اس پھل کا ذائقہ چکھنے کے بعد وہ جنت سے کیوں نہیں نکالے گئے، لاہور کے بعد ان دونوں جماعتوں نے پشاور کا ضمنی انتخاب بھی لڑا، ان دونوں جماعتوں کو جو ووٹ ملے ایم ایم اے کی بحالی میں ان کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ دونوں جماعتیں سیاست میں متحرک نہ ہوتیں تو ایم ایم اے کی بحالی بھی ممکن نہ ہوتی۔ اس لئے ان دونوں جماعتوں کو یہ کریڈٹ تو دیا جانا چاہئے کہ ان کے وجود کی برکت سے وہ کام ہو گیا جو 2008ء سے اب تک نو برسوں میں نہیں ہو پا رہا تھا۔ اب اگلا سوال یہ ہے کہ کیا ایم ایم اے 2002ء کی طرح کی کامیابی حاصل کر سکے گی یا نہیں؟ اس سوال کا جواب خاصا مشکل ہے، جہاں تک جمعیت علمائے اسلام کا تعلق ہے اس کی سیاست کا مرکز و محور دو صوبے یعنی کے پی کے اور بلوچستان ہی رہے ہیں اور دونوں میں اس کی حکومتیں بنی ہیں یا وہ شریک حکومت رہی ہے۔ جماعت اسلامی کو بھی دو بار کے پی کے کی صوبائی حکومت ملی ایک بار 2002ء کے انتخاب کے بعد (ایم ایم اے کی شکل میں) اور دوسری بار 2013ء کے انتخاب کے بعد ،اب تک جماعت اسلامی اس صوبے میں تحریک انصاف کی جونیئر پارٹنر ہے اور دونوں ایک دوسرے کے مقابل الیکشن بھی لڑتی ہیں،ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سر زمین پارٹی میں جو اتحاد وجود میں آیا تھا وہ تو نہ صرف چند گھنٹوں کے اندر اندر تحلیل ہو گیا بلکہ دونوں ’’اتحادی‘‘ جماعتوں کے سربراہ اب ایسے ایسے انکشافات کر رہے ہیں کہ اس سیاسی حمام کی بے لباسی میں اضافہ ہو رہا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار نے کچھ باتوں سے پردہ سرکایا تھا اور بعض خالی جگہیں چھوڑ دی تھیں جو تصورات سے پر کی جا سکتی تھیں ان کے بعض ’’ڈاٹ‘‘ مصطفےٰ کمال نے ملا دیئے ہیں، اب اس انداز سے جو اتحاد بنیں گے وہ کیا ڈلیور کریں گے اور ان کی ساکھ کیا ہو گی یہ بنانے اور بنوانے والوں کے لئے سوچنے کا مقام ہے۔ فارمولا فلموں کا دور تو عرصہ ہوالد گیا، کیا سیاسی اتحادوں کے وہ فارمولے اکیسویں صدی میں چل پائیں گے۔ جو بیسویں صدی میں آزمائے جا چکے، اور فلاپ ہو چکے۔

فارمولا فلمیں

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...