فلور ملز نے آٹاکی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیدیا

فلور ملز نے آٹاکی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیدیا

لاہور(اسد اقبال) صوبہ پنجاب میں پرا ئس کنٹرول اتھارٹی نے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے چپ سادھ لی ،فلو ر ملز مالکان نے من مرضی کر تے ہوئے آٹے کے تھیلا کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کے باعث دو وقت کی روٹی بھی غریب کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے ، جبکہ پنجاب بھر میں ایک ہفتے کے دوران 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 60روپے اضافے کا ملبہ فلور ملوں نے حکومت کی طرف سے گندم کی قیمتیں بڑھانے اور مہنگی ٹرانسپورٹیشن پر ڈال دیا ۔دوسری جانب نان بائی ایسو سی ایشن نے بھی سادہ روٹی اور نان کی قیمتیں بڑھا نے کا عندیہ دیدیا ہے۔ فلو ر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے اگر ضلعی انتظامیہ نے دن کے اوقات میں شہر میں مزدا ٹرکوں کے داخلے پر عائد پابندی ختم نہ کی تو آئندہ چند روز میں قیمتوں میں مزیداضافہ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔تفصیلات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران لا ہور سمیت پنجاب بھر میں 20کلو آٹے کا تھیلہ 60روپے جبکہ 10کلو کا تھیلہ 35روپے مہنگا کر دیا گیا ہے جس کے باعث 20کلو آ ٹے کے تھیلے کی ایکس مل قیمت 780اور 10کلو کے تھیلے کی ایکس مل قیمت 385روپے تک جا پہنچی ہے ۔مارکیٹ میں پرچون کی سطح پر 20کلو آٹے کا تھیلہ 785سے 790جبکہ 10کلو آٹے کا تھیلہ 390سے 395روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے ۔پاکستان فلو ر ملز ایسو سی ایشن کے سابق چیئرمین و گروپ لیڈر عاصم رضا نے ’’ پاکستان ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آٹے کی قیمتیں بڑھائی نہیں جا رہیں بلکہ چار سال پہلے وا لی قیمتوں کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔حکومت نے گندم کی امدادی قیمت اب1300روپے من مقر ر کی ہے جو حکومت 1300روپے فی من گندم خرید کر فلو ر ملوں کو 1330روپے میں دے رہی ہے ۔ مارکیٹ میں سرکاری سطح پر جب گندم کی امدادی قیمت 1250روپے مقر ر تھی اسوقت اوپن مارکیٹ میں گندم 1100سو سے 1150روپے فی من تک فلور ملوں مل رہی تھی اب جونہی حکومت نے گندم کی امدادی قیمت بڑھائی ہے اوپن مارکیٹ میں بھی اسی طرح ہی گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے باردانہ اور چارجز کی مد میں بھی وہ اب اضافی بوجھ بردا شت کر ر ہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا چار سال قبل 20کلو آٹے کے تھیلے کی ایکس مل قیمت 765روپے اور مارکیٹ قیمت 785روپے تھی ۔ جب گندم کی قیمتیں کم ہوئی اور اوپن مارکیٹ میں انہیں سستی گندم ملی تو فلور ملوں نے قیمت بھی کم کر دی تھی ۔ اگر حکومت سستے داموں شہریوں کو آٹا فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسے فلور ملوں کو دی جانیوالی گندم میں سبسڈی دے تو ہم آٹا سستے کر دیں گے ۔ صوبائی دارالحکومت میں دن کے اوقات میں ضلعی انتظامیہ مزدا ٹرکوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے ، شہر میں زیادہ تر آٹے کی سپلائی منی مزدا پر دی جاتی ہے اگر حکومت نے پابند ی ختم نہ کی تو ٹرانسپورٹیشن چارجزمزید 30روپے بڑھ جائیں گے جس سے 20کلو آٹے کی قیمت 810سے 820روپے تک چلی جائے گی ۔ سیکرٹری خوراک پنجاب کو منی مزدا ٹرکوں پر عائد پابندی ختم کروانے کیلئے خط بھی لکھ چکے ہیں مگر تاحال اس کا انہیں کوئی جواب نہیں ملا ۔دوسری جانب آٹے کی قیمت میں اضافے کے پیش نظر نان بائی ایسو سی ایشن نے اجلاس بلا لیا ہے جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ نان اور سادہ روٹی کی قیمت میں ایک روپیہ اضافہ کیا جائے۔

چکی مالکان آٹا 50روپے فی کلو فروخت کرنے میں محو

لاہور ( کامرس رپورٹر ) ضلعی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت میں چکی مالکان 1300روپے من گندم خرید کر آٹا 50روپے فی کلو فروخت کر رہے ہیں ۔ چکی سے آٹا خریدنے والے گاہکوں کاکہنا ہے یہاں پر آٹاتو خالص ملتا ہے ، فلور ملز کے آٹے سے سوجی اور میدہ پہلے ہی نکال دیا جاتا ہے ۔خالص ہونے کی وجہ سے وہ مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر