ممتاز شاعرو ادیب مشکور حسین یاد92سال کی عمر میں انتقال کر گئے

ممتاز شاعرو ادیب مشکور حسین یاد92سال کی عمر میں انتقال کر گئے

لاہور(خصوصی رپورٹ)ممتاز ادیب ،شاعر، مزاح نگار اور صاحبِ طرز انشائیہ نویس مشکور حسین یاد 92 برس کی عمر میں گزشتہ روز لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ بروز پیر مورخہ 13نومبر کو ایک بجے دن محمدیہ مسجد حالی روڈ گلبرگ میں ادا کی جائے گی۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ آزادی کے چراغ ان کی ایک مشہور کتاب ہے جس میں انہوں نے قیامِ پاکستان کے موقع پر مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان بیان کی ہے۔ وہ طویل عرصے تک گورنمنٹ کالج لاہور میں اردو ادب کے پروفیسر رہے۔جہاں نواز شریف سمیت نامور شخصیات نے ان سے فیض حاصل کیا، ان کے انشائیے اور مضا مین ملک کے مشہور جرائد و رسائل میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے۔ انہوں نے مزاحیہ ادب پر اپنا ایک رسالہ بھی جاری کیا تھا۔ روزنامہ پاکستان میں ان کے کالم اور حالاتِ حاضرہ پر منظوم کلام طویل عرصے تک شائع ہوتا رہا۔مرحوم مشکور حسین یاد، حصار( مشرقی پنجاب) میں 11 ستمبر 1925 ء کو پیدا ہوئے۔ لکھنے پڑھنے سے دلچسپی تھی چنانچہ پہلے ایک ہفتہ وار اخبار (پکار)کی ادارت سنبھالی پھر راشننگ کے محکمہ میں انکوائری افسر ہوگئے لیکن جلد ہی اس محکمہ کو چھوڑ کر مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیے ڈسٹرکٹ بورڈ ہائی اسکول میں انگریزی کے استاد بن گئے۔ ابھی ایک ماہ بھی نہ پڑھایا تھا کہ اگست 1947ء میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیا۔جس میں والد کے علاوہ ان کی ماں، بیوی، بیٹی اور بھائی اور دوسرے قریبی عزیز شہید ہوئے۔ آزادی کی راہ میں اتنی بڑی قربانی دے کر نومبر 1947ء میں مشکور حسین یاد لاہور پہنچے۔ 1955ء میں اردو میں ایم اے کیا اور 1960ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ مشکور حسین یاد کی نثری تصانیف میں آزادی کے چراغ، جوہر اندیشہ، دشنام کے آئینے میں، بات کی اونچی ذات، اپنی صورت آپ، لاحول ولا قوۃ، ستارے چہچہاتے ہیں، مطالعہ انیس کے نازک مراحل ، میں آردو ہوں، غالب نکتہ جو، وقت کا استخارہ، ستم ظریف اور ممکنات انشائیہ اور شعری مجموعوں میں پرسش، پرداخت، برداشت، عرضداشت اور نگہداشت شامل ہیں جبکہ ان کی شہرہ آفاق تصنیف’’ آزادی کے چراغ‘‘ ہے جس کے لاتعداد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اس کے علاوہ وہ چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ’’پکار‘‘ 1945ء ایڈیٹر ماہنامہ ’’زعفران‘‘ لاہور ایڈیٹر ماہنامہ ’’چشمک‘‘ لاہور بھی رہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا، سعودی عرب میں بھی وہ گذشتہ کئی سال جاتے رہے اور حلقہء فکروفن کی لاتعداد تقریبات کے علاوہ اردو شعر و ادب کی محافل میں بھرپور شرکت کرتے رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...