خوشبو، شانزے لیزے اور امجد اسلام امجد

خوشبو، شانزے لیزے اور امجد اسلام امجد
خوشبو، شانزے لیزے اور امجد اسلام امجد

صبح سویرے کی فلائٹ سے جناب امجد اسلام امجد اور خالد مسعود خان کی آمد سے خوشبوؤں کے شہر پیرس میں خوشبو کا مزیداضافہ ہو گیا۔ پیرس کا موسم گرچہ سرد تھا مگر امجد صاحب اور خالد مسعود کی دلچسپ اور خوبصورت باتوں نے سردی کا احساس کم کر دیا ، ایک کافی شاپ پہ رکے اور کافی کے ساتھ ناشتہ کیا، امجد صاحب کو ہوٹل چھوڑا وہ مسلسل سفر میں تھے ناروے، ڈنمارک، اور سپین کے بعد، پیرس انکا چوتھا پڑاؤ تھا ۔

امجد صاحب ایک لمبے عرصے کے بعد پیرس آ رہے تھے اب ان سے ملنے کا انتظار تھا کیونکہ شام کو غزالی ایجوکیشن کا چیرٹی ڈنر تھا جس کے بعد ہم امجد صاحب کو لے کے پیرس گھومنے کا اردہ رکھتے تھے۔ پاکستان کی طرح یہاں بھی حسبِ عادت پروگرام اپنے وقت سے کافی بعد میں شروع ہوا چونکہ سفر کی تھکان تھی اس لیے امجد، صاحب نے رات شانزے لیزے کا پروگرام اگلے دن پہ رکھ دیا ۔امجد صاحب کا ہمارے درمیان ہونا ہمارے لیے باعث برکت تھا اور ایسے لوگوں کی قربت قسمت سے نصیب ہوتی ہے۔

اگلے دن ہم نے یعنی بزمِ اہلِ سخن پیرس نے ان کے اعزاز میں ایک پروگرام رکھا ہوا تھا جس کا مقصد اقبال ڈے کے حوالے سے گفتگو ،امجد صاحب کی لوگوں سے ملاقات اور مقامی شاعروں اور ادیبوں سے تعارف تھا ۔سفارت خانہ پاکستان میں منعقدہ اس تقریب کی اہم بات یہ تھی کہ سفارت خانہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی کوئی ادبی تقریب منعقد نہیں ہو سکی جس کی وجہ یہاں پر موجود پاکستانی کمیونٹی اور سفارت خانہ پاکستان میں دوریاں تھی ۔سابق سفیر پاکستان غالب اقبال نے پاکستانی کمیونٹی اور سفارت خانے کے درمیان دوریاں ختم میں اہم کردار ادا کیا اور اسی طرح موجودہ سفیر پاکستان جناب معین الحق کا کردار بھی قابل تحسین ہے لہذا آج سفارت خانہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہا تھا۔ پروگرام شروع ہوا توسفیر پاکستان نے امجد اسلام امجد اور خالد مسعود خان کے لیے تعارفی کلمات کہے جس کے بعد، باقاعدہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے افکار پر امجد اسلام امجد نے روشنی ڈالی ساتھ ساتھ خالد مسعود خان کی مزاح سے بھرپور اردو پنجابی شاعری نے محفل کو کشت زعفران بنائے رکھا انہوں نے علامہ اقبال کی نظموں کی پیروڈی کرتے ہوئے کلام سنایا۔

امجد اسلام امجد سے بے شمار نظموں کی فرمائشیں کی گئی انہوں نے یہ نظم سنائی تو حال تالیوں سے گونج اٹھا

روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہے

زندگی کے رستے میں بچھنے والے کانٹوں کو

راہ سے ہٹانے میں

ایک ایک تنکے آشیاں بنانے میں

خوشبوئیں پکڑنے میں گلستاں سجانے میں

عمر کاٹ دیتے ہیں

اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں

کیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے جاتے ہیں

درگزر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ہیں

صبر کے سمندر میں کشتیاں چلاتے ہیں

یہ نہیں کہ انکو اس روزو شب کی خواہش کا

کچھ صلہ نہیں ملتا

مرنے والی آسوں کا خوں بہا نہیں ملتا

زندگی کے دامن میں جس قدر بھی خوشیاں ہیں

سب ہی ہاتھ آتی ہیں

سب ہی مل بھی جاتی ہیں

وقت پر نہیں آتیں وقت پر نہیں ملتی

فصل گل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ہیں

ان کے صحن میں سورج دیر سے نکلتے ہیں

پروگرام تاخیر سے شروع ہوا تھا اس لیے شام کو دیر سے ختم ہوا لوگوں نے امجد صاحب اور خالد مسعود کے ساتھ خوب سیلفیاں لی جس کے بعد ہم سب اکٹھے باہر نکلے ڈنر ساتھ کیا اور پاکستان کے موجودہ حالات پر بحث و مباحثہ ہوا

دوسرے دن کا سارا وقت امجد صاحب نے ہمیں عنایت کیا تھا لہذا میں اور عاکف غنی صبح صبح ہی ہوٹل پہنچ گئے اور امجد صاحب کو لے کے پیرس، کے وزٹ پہ روانہ ہوئے۔ وقت کی مناسبت سے ہم نے کہیں زیادہ دور جانا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ شام کو امجد صاحب کی پاکستان واپسی بھی تھی ہم پیرس، کے ایک معروف سیاحتی مقام پر گئے اور امجد صاحب سے انکی مشہور زمانہ نظم سنی

محبت ایسا دریا ہے

کہ بارش روٹھ بھی جائے

تو پانی کم نہیں ہوتا

اس کے بعد دنیا کے قدیم ترین چرچ کے اندر گئے جو فن وآرٹ سے اسقدر مزیں تھا عقل حیران تھی کہ آج سے صدیوں پہلے کاریگروں نے جب سہولت کی خاص چیزیں میسر نہیں تھیں تو یہ سب کچھ کیسے بنایا، پھر امجد صاحب نے بتایاکہ آج سے کوئی تینتیس سال پہلے وہ اسی جگہ ایک کافی بار میں جناب جمیل الدین عالی اور پروین شاکر کے ہمراہ آئے تھے اور یہ وہ کافی شاپ ہے جہاں آرٹسٹ بیٹھ کے کافی پیتے ہیں،جیسے لاہور میں پاک ٹی ہاؤس ہے ،لہذا ہم نے کافی گھومنے پھرنے کے بعد اس کافی شاپ کو ڈھونڈ لیا اور ہم یونس خان، عاکف غنی، خالد مسعود، عامر سید اور امجد صاحب کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ خالد مسعود خان سے گپ شپ کے بعد سب دوستوں نے امجد اسلام امجد صاحب سے تازہ کلام سننے کی فرمائش کی امجد صاحب نے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے تازہ نظم سنائی۔۔۔۔۔۔۔

رابطے.

ہاں ابھی سوچ لے

فیصلوں کا سفر

لفظ کی نرم چھاؤں میں کٹتا نہیں

اور سن

فیصلوں کی ندامت سے تکلیف دہ کوئی بھی دکھ نہیں

جتنے خدشے میرے ساتھ چلنے میں ہیں

اس دوراہے پہ رک اور انہیں اپنی آنکھوں میں ترتیب دے

جان لے وقت کے دشت بے برگ میں

واپسی کے لیے کوئی رستہ نہیں

منظروں کا نیا پن پرانی رتوں کے لئے موت ہے

جو ہوا میرے جملے کے آغاز میں تیرے بالوں کو چھوتے ہوئے چل رہی تھی

مر چکی ہے کہ اب اسکا ہونا نہ ہونا تیرے واسطے ایک ہے

اور تجھ کو پتا ہے

کسی چیز کی زندگی اس تعلق سے ہے

جو کسی ذات کے رابطے سے بنے

ہاں یہی وقت ہے

رابطے اور تعلق کے معنی سمجھ

جتنے خدشے میرے ساتھ چلنے میں ہیں

اس دوراہے پہ رک اور انہیں اپنی آنکھوں میں ترتیب دے

کہ ابھی تیرے ہاتھوں کا ہر رابطہ

تیرے ہاتھوں میں ہے

کمال خوبصورت نظم تھی دل یہی کہتا تھا کہ امجد صاحب سناتے جائیں اور ہم نظمیں سنتے رہیں مگر کافی دیر ہو چکی تھی اب ہم نے واپسی کا راستہ لیا اور اچانک ایک پاکستانی نے امجد صاحب سے سلام لیا اور کہا آپ امجد اسلام امجد ہیں جس پر امجد صاحب نے کہا جی ہاں تو اس شخص کی خوشی دیدنی تھی۔ امجد صاحب اس حبس زدہ ادبی ماحول میں رحمت اور برکت ہیں بلاشبہ وہ ایک بڑے شاعر اور ایک عظیم انسان ہیں ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...