امید ہے حکومت دھرنے کے شرکا کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے گی،ختم نبوت ﷺ کو ماننے والے لوگوں کے بنیادی حقوق کا خیال بھی رکھیں :احسن اقبال

امید ہے حکومت دھرنے کے شرکا کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے گی،ختم نبوت ﷺ کو ...
امید ہے حکومت دھرنے کے شرکا کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے گی،ختم نبوت ﷺ کو ماننے والے لوگوں کے بنیادی حقوق کا خیال بھی رکھیں :احسن اقبال

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت تحریک لبیک  اور دیگر مذہبی جماعتوں کی جانب سے راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی شاہراہ پر موجود دھرنے کے شرکا کو بات چیت کے بعد ہٹانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’’بی بی سی ‘‘ سے گفتگو میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے بتایا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے نواسے امام حسینؓ کے چہلم کے جلوس کی وجہ سے حکومت نہیں چاہتی تھی کہ کسی بھی قسم کی کوئی بدمزگی پیدا ہو کیونکہ اگر کوئی کارروائی ہوتی تو تنازعہ بن جاتا۔ انھوں نے کہا کہ دھرنے والوں کو ہم نے سمجھایا ہے، ان کے مطالبات پر بات چیت کی ہےجس پر امید ہے کہ آج رات تک انھیں وہاں سے ہٹانے کامیاب ہو جائیں گے۔ کیا وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہو جائیں گے کیونکہ دھرنے کے شرکا کا مطالبہ یہی ہے؟اس سوال کے جواب میں وفاقی  وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ مطالبہ کرنا ان کا حق ہے، اپنے مطالبے کے لیے احتجاج کرنا بھی ان کا حق ہے لیکن رکاوٹ ڈالنا جس سے شہریوں کی زندگی میں خلل پیدا ہو یہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ایک بچے کی ہلاکت ہو چکی ہے،بچے سکول نہیں جا سکتے، لوگ دفتر نہیں پہنچ پاتے، اگر مظاہرہ کرنا ہے تو سائڈ پر بیٹھ کر کریں۔ 'ان کا کہنا تھا کہ سب جماعتوں نے مل کر ایک قانون بنایا تھا، سب نے مل کر ڈرافٹ بنایا جبکہ  قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے مطلب پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا لیکن اس کے باوجود  سب جماعتوں نے اسے  واپس کیا اور کہا کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس پر سوال بھی اٹھے جس کے بعد  حلف نامہ اصل حالت میں بحال ہو چکا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ابتدا میں انھوں نے تحریک لبیک کے اکابرین سے بات چیت کا ایک دور خود بھی کیا تھا اور اب دونوں جانب کے کچھ لوگ اس پر بات چیت کر رہے ہیں ،ہم کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں سمجھائیں کہ جو حتم نبوت ﷺ  کو ماننے والے لوگ ہیں وہ لوگوں کے بنیادی حقوق کا خیال بھی رکھیں، حکومت پرامید ہے کہ وہ حکومتی وضاحت سے مطمئن ہوں گے اور پرامن رہیں گے،حکام کا کہنا ہے کہ اس دھرنے میں 1500 سے 2000 کے قریب لوگ موجود ہیں تاہم حکومت کے پاس کسی بھی پرتشدد صورتحال سے نمٹنے کے لیئے تمام سکیورٹی انتظامات موجود ہیں،  یہ ریلی اسلام آباد جانے کے لیے کوشاں تھی تاہم انتظامیہ نے اسے فیض آباد پر روک لیا۔

 واضح  رہے کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ سمیت دیگر  مذہبی وسیاسی جماعتوں کے دھرنے کی وجہ سے گذشتہ چار روز سے ایکسپریس وے پر موجود فیض آباد پل ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے، انتظامیہ نے ٹریفک کے لیے متبادل روٹس تو فراہم کیے ہیں تاہم اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملحقہ علاقوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا موقف ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی وہ ختم نبوت کے منافی تھی اس لیے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگرچہ حکومت نے اس ترمیم میں ہونے والی غلطی کو درست کرتے ہوئے حلف نامے کو اس کی پرانی حالت میں بحال کردیا ہے تاہم مظاہرین وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے مستعفی ہونے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

مزید : قومی