پنجاب میں سیاسی اختلافات کی چنگاری

پنجاب میں سیاسی اختلافات کی چنگاری

پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار مکمل طور پر بااختیار ہیں،وہ وزیراعظم عمران خان کے وژن پر عمل پیرا ہیں اور ہم اُن کے ساتھ ہیں،عثمان بزدار پنجاب میں تبدیلی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار اپنے ایک ٹویٹ میں کیا ہے،جس کی ضرورت اس ویڈیو لیک کے بعد پیش آئی،جو سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین میں ہوئی،اِس موقع پر وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ بھی شریکِ گفتگو تھے، جنہوں نے یہ شکایت کی تھی کہ گورنر پنجاب اُن کے حلقے میں مداخلت کر رہے ہیں، سپیکر پرویز الٰہی نے اُنہی کی شکایت کے پیشِ نظر جہانگیر ترین سے بات کی، تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ اِس معاملے پر بات تو وزیراعظم عمران خان ہی سے ہونی چاہئے تھی،لیکن جہانگیر ترین سے پہلے ملاقات ہو گئی،اِس لئے اُن سے تبادلہ خیال کر لیا گیا۔

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کے حلقے میں کیا مداخلت کر رہے ہیں اور شکایت کی نوعیت کیا ہے اس کی تفصیل تو منظرِ عام پر نہیں آئی تاہم اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی ایسی شکایت تو ہو گی کہ وفاقی وزیر نے اِسے اپنے لیڈر چودھری پرویز الٰہی کے علم میں لانا ضروری سمجھا اور جسے سُن کر چودھری صاحب کا ردعمل یہ سامنے آیا کہ اگر چھوٹی چھوٹی شکایات کا ازالہ نہ کیا جائے تو بات بڑھ جاتی ہے اور پھر لوگ اپنا غصہ ’’خفیہ رائے شماری‘‘ میں نکالتے ہیں، سپیکر پنجاب اسمبلی کے اِن الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے اور انہوں نے اِس کی تصدیق بھی کی کہ جہانگیر ترین کے ساتھ اُن کی ملاقات میں15 نومبر کو ہونے والے سینیٹ کے ضمنی انتخابات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ،جو مسلم لیگ(ن) کے دو سینیٹروں کے سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کی وجہ سے خالی ہونے والی نشستوں پر ہورہے ہیں۔

چونکہ تحریک انصاف کو پنجاب اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن کے مقابلے میں معمولی اکثریت حاصل ہے اِس لئے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر کچھ ناراض ارکان غصہ اُتارنے پر تیار ہو گئے اور مسلم لیگ(ن) نے اُن کے اِس غصے کو تھوڑی سی مہمیز بھی لگا دی تو سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں اَپ سیٹ بھی ہو سکتا ہے،اگرچہ سپیکر پرویز الٰہی نے ویڈیو لیک کے نیوز چینلوں پر نشر ہونے کے بعد جلدی میں بلائی گئی اپنی کانفرنس میں اس گفتگو کی سنگینی کو کم کرنے کی پوری کوشش کی اور یہ بھی کہا کہ اُن کے گورنر پنجاب کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں، لیکن ’’چودھری سرور نوں روکو‘‘ کا ریکارڈ شدہ جملہ جو اثر دکھا چکا تھا اِس کے اثرات کم ہونے میں ابھی وقت لگے گا،بلکہ اختلاف کی یہ چنگاری اگر پوری طرح بُجھ گئی ہے تو بھی بعید نہیں آئندہ کسی وقت اِس بجھی ہوئی راکھ سے پھر دھواں اُٹھنے لگے،اِس لئے پنجاب کی دونوں حکمران جماعتوں کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ اُن کے درمیان معمولی نوعیت کے بھی کوئی اختلافات اگر ہیں تو اُن کا کوئی نہ کوئی حل نکال لیا جائے، اگرچہ گورنر اور سپیکر دونوں نے وضاحت تو کر دی ہے کہ اُن کے درمیان کوئی اختلاف نہیں،لیکن اگر واقعی ایسا تھا تو پھر جو ویڈیو لیک ہوئی ہے اس میں ادا کئے جانے والے جملے کِس جانب اشارہ کرتے ہیں؟

تحریک انصاف کو یہ بات ہمیشہ مدنظر رکھنی چاہئے25 جولائی کے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کو اکثریت نہیں ملی تھی، وہ اگر صوبے کی بڑی جماعت بنی تو اس کا کریڈٹ اُن آزاد ارکان کو جاتا ہے،جنہوں نے منتخب ہو کر تحریک انصاف کو جائن کیا،فی الحال ہم اِس بحث میں نہیں پڑتے کہ اگر وہ مسلم لیگ(ن) میں شامل ہو جاتے تو اس کی حکومت بن سکتی تھی، لیکن انہوں نے اگر ایسا نہیں کیا تو بھی کچھ دیکھ کر ہی کیا ہوگا، فوری طور پر بہت سے آزاد ارکان نے اس کا صِلہ وزارتوں کی شکل میں پایا، وزارتیں دوسری جانب سے بھی مل سکتی تھیں تاہم پنجاب میں حکومت سازی میں مسلم لیگ(ق) کا کردار زیادہ اہم ہے، اب بھی اگر اس کے ارکان کے گِلے شکوے دور نہیں ہوں گے تو ’’خفیہ بیلٹ‘‘ میں غصہ نکالنے کی بات پر عملدرآمد ہو سکتا ہے اور پنجاب کی حکومت لڑکھڑا سکتی ہے،اِس لئے سیاسی دانش تو اسی میں ہے کہ تحریک انصاف، پنجاب کی حکومت کو اپنی کسی کاریگری کا کرشمہ قرار نہ دے،بلکہ مسلم لیگ(ق) اور آزاد ارکان کو دُعائیں دے اور ان کو ساتھ لے کر چلے ،جنہوں نے اس کے اقتدار کو ممکن بنایا،یہ سیاسی حقیقت بھی مدِ نظر رکھنی چاہئے کہ مسلم لیگ (ق) نے اگر تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کیا ہے تو اس اتحاد کا خاتمہ بھی ایک سیاسی آپشن ہے اور اگر اس نے یہ آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا تو بھی نقصان تحریک انصاف کو ہی پہنچے گا،اِس لئے تحریک انصاف کے شعلہ بیان نوجوان ارکان کوئی بھی بات کرتے ہوئے اس نازک صورتِ حال کو پیشِ نظر رکھا کریں تو اُن کے اپنے حق میں ہی بہتر ہو گا۔

یہ فرض کر لیتے ہیں کہ گورنر پنجاب اور وزیراعلیٰ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہیں،لیکن اتنا تو معلوم و معروف ہے کہ چودھری محمد سرور پنجاب میں ’’کچھ کر دکھانے‘‘ کا جذبہ رکھتے ہیں وہ ایسے گورنر بن کر نہیں رہنا چاہتے، جس کا کردار آئینی حدود کی تنگ نائے میں محدود ہو،اِسی لئے انہوں نے اپنی پہلی گورنری سے بھی استعفا دے دیا تھا،لیکن مجبوری یہ ہے کہ گورنر کے عہدے کے جو اختیارات آئین کے اندر لکھے ہوئے ہیں چودھری سرور اگر ان سے باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش کریں گے تو وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو شکایت ہو نہ ہو، یہ بات کہیں نہ کہیں نوٹ تو ضرور کی جائے گی۔بھلے چودھری سرور یہ کام کتنی ہی نیک نیتی سے کر رہے ہوں اور اُن کے پیشِ نظر صوبے اور عوام کی محبت کا جذبہ ہی ٹھاٹیں مار رہا ہو،لیکن اُنہیں بہرحال اپنے آئینی کردار کے اندر رہنا ہو گا۔

آج اگر وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کو شکایت پیدا ہوئی ہے تو کل کو کسی دوسرے کو بھی ہو سکتی ہے،بہترین حل تو یہی ہے کہ کوئی بھی عہدیدار اپنے اختیارات کی باؤنڈری لائن سے باہر نہ جائے۔ اگر کسی کو یہ شوق ہے کہ کچھ کرنے کا جذبۂ فراواں اسے فارغ نہیں بیٹھنے دیتا تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ براہِ راست قومی یا صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا جائے اور پھر کوئی ایسا منصب حاصل کیا جائے، جس کے ذریعے ’’ عوام کی خدمت ‘‘زیادہ کھل کر کی جا سکے،ویسے تو چودھری پرویز الٰہی صوبے کے متحرک وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں،اب اگر انہوں نے بدلے ہوئے حالات میں سپیکر شپ کے محدود کردار پر اکتفا کر لیا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وزیراعلیٰ بننے کے لئے اُن کے پاس مطلوبہ ارکان موجود نہ تھے ورنہ وہ بھی وزیراعلیٰ بننے ہی کو ترجیح دیتے۔اگر آئندہ کسی سیاسی جادو گری کے نتیجے میں ایسا ہو سکا تو پھر وہ وزیراعلیٰ بننے ہی کو ترجیح دیں گے،لیکن جب تک موجودہ نمبر گیم ہے ہر کسی کو اپنے آئینی کردار کے اندر رہ کر ہی کام کرنا ہو گا، حدود سے باہر نکل کر اگر کردار پر اصرار کیا گیا تو نتیجہ منفی بھی نکل سکتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ