قومی اسمبلی میں ضابطۂ اخلاق؟

قومی اسمبلی میں ضابطۂ اخلاق؟
قومی اسمبلی میں ضابطۂ اخلاق؟

  

آج کے سیاسی شور و ہنگامے میں یادِ ماضی عذاب نہیں،سبق کی حیثیت رکھتی ہے کہ جب کبھی اسمبلی کے اجلاس میں گرما گرمی ہوتی تو کرسئ صدارت (سپیکر) کا احترام کیا جاتا تھا،سپیکر کی طرف سے کسی رکن کو ٹوکا جاتا تو گفتگو قطع کر کے پہلے سپیکر کی سُن لیتے تھے اور اس کے بعد پھر سے اپنی بات کرتے تھے، پنجاب اسمبلی میں مخدوم زادہ حسن محمود لیڈر آف اپوزیشن تھے وہ نکتہ اعتراض پر بول رہے تھے تو سپیکر (غالباً منظور وٹو) نے ان کو ٹوکا اور بات ختم کرنے کو کہا۔ مخدوم زادہ رکے اور پھر جواب میں نیا نکتہ اٹھایا اور کہا جنابِ سپیکر! جب تک مَیں موضوع سے غیر متعلق نہ ہو جاؤں، اس وقت تک آپ مجھے بات کرنے سے نہیں روک سکتے، سپیکر نے اپنے اختیار کا حوالہ دیا اور کہا وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ ہاؤس (ایوان) کو انہوں نے چلانا ہوتا ہے، مخدوم زادہ نے کہا کہ وہ اس پر دلائل سے بات کر کے ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ (مخدوم زادہ) درست کہتے ہیں۔ مختصر سی گفتگو کے بعد طے پا گیا کہ اب اس نکتے پر بحث ہو گی۔ اگلے روز کا وقت مقرر ہو گیا، پھر اس پنجاب اسمبلی کے ایوان نے دیکھا اور اسمبلی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ مخدوم زادہ حسن محمود وقتِ مقررہ پر کتابوں سے لدے پھندے آئے اور انہوں نے بحث کا آغاز کیا۔ ڈھائی روز تک وہ دلائل دیتے اور تاریخی حوالوں اور رولنگز سے بات کرتے رہے۔ بالآخر سپیکر نے رولنگ محفوظ کی اور کئی روز بعد ان کا استدلال منظور کر لیا۔

اسی طرح ایوان(قومی) میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا،اگرچہ ہنگامہ آرائی بھی ہوتی رہی اور ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑی جاتی رہیں، دو محترم خواتین تہمینہ دولتانہ اور شیریں مزاری اس میں ماہر ہیں، اور قومی اسمبلی میں ان کی ’’بہادری‘‘ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، تاہم یہ سب ایک حد تک محدود رہتا۔آپس میں بھی فقرے بازی ہوتی تاہم نوبت گالی گلوچ اور مار کٹائی تک نہیں آتی تھی،پھر جوں جوں زمانے نے ترقی کی، محاذ آرائی کی اس شکل میں بھی عروج آتا چلا گیا،اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں فواد چودھری اور روحیل اصغر کے درمیان توتکار سے بھی بات آگے بڑھ گئی،

جبکہ اسی ایوان میں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے اراکین ایک دوسرے کی طرف مارنے کو لپکے اور گلی محلے والا سین بن گیا، جب کہیں دو لوگ آپس میں گالی گلوچ کے بعد گتھم گتھا ہونے لگتے تو محلے دار درمیان میں آ کر روک لیتے تھے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔

اس ہنگامہ آرائی کے بعد ہی وزیر دفاع پرویز خٹک نے سپیکر کی اجازت سے اس صورتِ حال پر افسوس کا اظہار کیا اور ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی تجویز دی،قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف نے بھی تائید کی اور پھر پیپلزپارٹی کے نوید قمر بھی اقرار میں بولے اور اس پر اتفاق رائے پایا گیا کہ ایوان کے لئے ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا جائے کہ جمہوری ادارہ جمہوری انداز سے چلایا جائے۔

یہ اتفاق رائے صائب ہے تاہم ہماری عقل شاید سکڑ گئی ہے کہ ہمیں اس تجویز کی روح تو اچھی لگی،لیکن عملی شکل عجیب نظر آئی،افسوس ہوا کہ ہمارے منتخب نمائندے شاید لاعلم ہیں اور پڑھتے نہیں،اگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے قواعد و ضوابط کار اچھی طرح پڑھے ہوں اور ان پر عمل کیا جائے تو جھگڑے کی نوبت نہ آئے، پارلیمینٹ اور اسمبلیوں کے منظور کردہ قواعد و ضوابط میں سب مندرج ہے کہ سپیکر کے فرائض کیا ہیں۔ قائد ایوان اور قائد حزبِ اختلاف کا استحقاق کیا ہے۔ اراکین محترم کب اور کس نوعیت کی بات کر سکتے ہیں۔ یہ تک درج ہے کہ متعلقہ اور غیر متعلقہ بات کیا ہوتی ہے، اور کب بات کی اور کب نہیں کی جا سکتی۔اس کے علاوہ روایت ہے کہ ایک ہاؤس بزنس کمیٹی ہوتی ہے،اس میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی نمائندگی طریقہ کار کے مطابق طے ہوتی ہے۔یہ کمیٹی سپیکر اسمبلی کی صدارت میں اجلاس کرتی اور طے کرتی ہے کہ ایوان کی کارروائی کیا ہو گی اور کس ترتیب سے چلائی جائے گی۔

حتیٰ کہ اہم امور کے بارے میں وقت تک طے ہو جاتا ہے، اس صورت میں تو تلخی یا شور شرابے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن پھر بھی ایسا ہوتا ہے اور کارروائی معطل ہو جاتی ہے،حالانکہ اجلاس ضروری ہوتا ہے کہ عوام نے نمائندے اسی لئے چُنے اور جب ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اجلاس ہی ملتوی کرنا پڑتا ہے، تو یقیناًعوام (ووٹرز) کو مایوسی ہوتی ہے،اِسی لئے ہم نے مخدوم زادہ حسن محمود والی بات دہرائی کہ قواعد اور اچھی روایات پر خلوص سے عمل کیا جائے تو یہ سب کچھ نہ ہو،چلیں اب اگر فریقین(حزبِ اقتدار+حزبِ اختلاف) نے ضابطہ اخلاق بنانے پر اتفاق کر لیا ہے تو اس عہد کے ساتھ تیار کر لیں کہ قومی وقت اور پیسے کا ضیاع نہیں ہونے دیں گے اور پارلیمینٹ اپنے فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائے گی۔

اتوار کو ڈاکٹر جہانگیر بدر کی دوسری برسی منائی گئی،ان کی رہائش گاہ پر دُعا کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یادوں ہی کے جھروکے سے یہ بھی یاد آ گیا کہ وقت کس رفتار سے گزر جاتا ہے ابھی یہ کل کی بات لگتی ہے جب ہم اس کی عیادت کے لئے گئے تو پرانی باتیں یاد کرتے رہے، اس سلسلے میں خاص طور پر یہ ذکر کر رہا ہوں کہ جب جولائی1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگایا تو ساتھ ہی ساتھ عام انتخابات کا بھی اعلان کر دیا تھا،جس کے مطابق یہ انتخابات اکتوبر77ء میں ہونا تھے، تاریخ کا بھی اعلان ہوا اور کاغذات بھی طلب کر لئے گئے،اندرون شہر کے حلقہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار جہانگیر بدر تھے اور قومی اتحاد نے مولانا عبید اللہ انور کو ٹکٹ دیا تھا،بڑا تگڑا مقابلہ تھا،جہانگیر بدر جیل میں تھے ان کے بعد انتخابی مہم سب دوست مل کر چلا رہے تھے،

ایسے میں مولانا عبید اللہ انور کا ایک بیان چھپا، جس میں سوال کیا گیا تھا کہ ایک پکوڑے بیچنے والے کے صاحبزادے کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آ گئے (بعدازاں مولانا نے خود تردید کر دی تھی) جواب میں جہانگیر بدر کی طرف سے کہا گیا کہ ان کو ایک محنت کش باپ کا بیٹا ہونے پر فخر ہے،جنہوں نے اپنی حلال کمائی سے اپنے بیٹوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا اور آج وہ سب اچھے روزگار پر ہیں،یہ ہمیں یوں یاد آیا کہ گزشتہ دِنوں اسلام آباد میں پی ایف یو جے کے ایک دھڑے کی طرف سے علامتی طور پر پارلیمینٹ کے باہر پکوڑے بیچنے کا میدان لگایا گیا،اس پر ایک دوست نعیم قریشی نے بدر کے لئے طنز کر دی،ہم نے واضح کیا کہ جہانگیر بدر کو یہ طعنہ حالات جانے بغیر نہیں جچتا کہ چوک وزیر خان میں ان کے والد کی یہ دکان ضرور تھی تاہم یہ صرف پکوڑے نہیں مچھلی سمیت اور بھی بہت کچھ فروخت کرتے اور شہر میں بہت مشہور تھی اور پھر وہ مچھلی کا کاروبار بھی کرتے تھے۔ ہم نے یہ بھی یاد دِلایا کہ دورِ ایوب میں جب ملک قاسم مرحوم مسلم لیگ (کنونشن) کے سیکرٹری جنرل تھے اور مسلم لیگ نے روزنامہ ’’کوہستان‘‘ کے کارکنوں کے واجبات دینا تھے تو ہم نے پی یو جے کے پلیٹ فارم سے میکلوڈ روڈ پر اخبار کے دفتر کے سامنے پکوڑوں کا ٹھیلا لگایا اور کئی روز تک باقاعدہ پکوڑے بیچے گئے۔ پی یو جے کی تحریک کے نتیجے میں ملک قاسم نے تعاون کیا اور سب واجبات مل گئے تھے۔

عرض یہ مقصود ہے کہ اخلاق اور ضابطہ اخلاق کسی سے ادھار نہیں لینا۔یہ خود اختیاری اور دینی ہے کہ دین کی تعلیم ہی اخلاق ہے۔ اس لئے اجتناب ہی بہتر ہے، دُعا ہے اللہ جہانگیر بدر سمیت سب مرحومین کی مغفرت فرمائے، سب دُعا فرمائیں۔

مزید : رائے /کالم