پنجاب کا وسیم اکرم یا منصور اختر

پنجاب کا وسیم اکرم یا منصور اختر
پنجاب کا وسیم اکرم یا منصور اختر

  

ہنسنا منع ہے ،کیونکہ لاہور میں شیلٹر ہوم کی تقریب میں عمران خان نے ایک بار پھر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو وسیم اکرم کی طرح اپنی ’’دریافت‘‘ قرار دیا اور کہا ہے کہ وہ پنجاب کے وسیم اکرم بنیں گے۔سب لوگ جانتے ہیں کہ( کرکٹ سمیت) تاریخ بیان کرتے ہوئے عمران خان اکثر ڈنڈی مار جاتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وسیم اکرم جیسے ٹیلنٹڈ کھلاڑی صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، اس لئے عثمان بزدار کو وسیم اکرم سے تشبیہہ دینا سخت زیادتی ہے اور دوسری بات یہ کہ وسیم اکرم کو پاکستانی ٹیم میں ظہیر عباس لائے تھے۔ جب عمران خان دوبارہ ٹیم کے کپتان بنے تو وسیم اکرم ڈنیڈن ٹیسٹ میں دس کھلاڑی آؤٹ کر چکے تھے۔یہ درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان کرکٹ کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کے گنے چنے چند بڑے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔

کرکٹ کے میدان میں ان کے کارناموں سے انکار ممکن نہیں ، نہ صرف وہ واحد کپتان ہیں، جن کی قیادت میں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا ،بلکہ 21 برس کے انٹرنیشنل کیرئیر میں وہ دُنیائے کرکٹ کے اُفق پر چھائے رہے، جس میں دس سال وہ کپتان رہے اور پاکستان کے لئے بہت سی فتوحات سمیٹیں۔ بطور کرکٹ کپتان عمران خان کا ایک خاص مقام ہے، لیکن اِس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کرکٹ انفرادی نہیں،بلکہ ٹیم ورک ہے اور فتح اُسی وقت حاصل ہوتی ہے، جب پوری ٹیم کلک کرتی ہے۔ عمران خان کی فتوحات میں بہت سے کھلاڑیوں کا حصہ ہے،جو اچھی قیادت کے نتیجے میں اچھے نتائج دیتے رہے۔

ان کھلاڑیوں میں سب سے اہم نام وسیم اکرم کا ہے، جن کی خداداد صلاحیتوں نے پاکستانی ٹیم کو بہت سی فتوحات سے ہمکنار کیا۔ عمران خان اکثر اپنے انٹرویوز میں وسیم اکرم کی دریافت کا کریڈٹ لیتے ہیں، لیکن یہ بات حقائق کے منافی ہے۔ عمران خان 1983ء میں بھارت کے خلاف سیریز کے بعد ٹانگ میں سٹریس فریکچر کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہو گئے، جس کے بعد وہ ایک سال تک کوئی میچ نہ کھیل سکے۔اِس دوران پاکستان کی انگلینڈ، بھارت اور نیوزی لینڈ سے جو سیریز ہوئیں، ان میں پہلے ظہیر عباس اور بعد میں جاوید میاں داد پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے۔

نومبر 1984ء میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان آئی تو ظہیر عباس پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک نئے باؤلر وسیم اکرم کو راولپنڈی کے سائڈ میچ میں چانس دیا تو اُس نے اِس میچ میں نو کھلاڑی آؤٹ کر کے سنسنی پھیلا دی۔

کپتان ظہیر عباس نئے باؤلر سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے فیصل آباد کے ایک روزہ میچ میں وسیم اکرم کو شامل کیا اور کہا کہ یہ نوجوان پاکستان میں باؤلنگ کے تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔ وسیم اکرم کو دریافت کرنے والے کپتان ظہیر عباس کی بات حرف بحرف درست ثابت ہوئی اور اُس نے اپنے بیس سالہ کیرئیرمیں تقریباً سارے ریکارڈ توڑے۔اس سیریز کے فوراً بعد پاکستان نے نیوزی لینڈ کا دورہ کیا،جس میں جاوید میاں داد کپتان تھے۔ جاوید میاں داد نے نیوزی لینڈ پہنچنے پر کہا کہ وہ ایک نئے کھلاڑی کو ٹیسٹ میچ کھلانے جا رہے ہیں،جو آنے والے برسوں میں دُنیا کا نمبر ون باؤلر ہو گا۔

اپنے دوسرے ہی ٹیسٹ میچ میں، جو ڈنیڈن میں کھیلا گیا، وسیم اکرم نے دس کھلاڑی آؤٹ کر کے کرکٹ کی دُنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ اس وقت سٹریس فریکچر کی وجہ سے عمران خان کو ٹیم سے باہر ہوئے دو سال ہونے والے تھے اور جب ڈھائی سالہ وقفے کے بعد عمران خان نے دوبارہ کھیلنا شروع کیا اور کپتانی واپس لی، اس وقت تک وسیم اکرم کرکٹ کی دُنیا میں ایک سٹار بن چکا تھا۔ ظاہر ہے اس کے بعد وسیم اکرم نے کھیلنا ہی کھیلنا تھا، کیونکہ ظہیر عباس اور جاوید میاں داد اس عرصے میں وسیم اکرم کو ٹیم میں سیٹ کرچکے تھے۔ اِس لئے مَیں جب بھی عمران خان کے منہ سے وسیم اکرم کو دریافت کرنے کا سہرا اپنے سر باندھتے سنتا ہوں، تو مسکرانے لگتا ہوں۔ ہاں، عمران خان اپنی دس سالہ کپتانی کے دوران منصور اختر کو لگاتار کھلاتے رہے کہ یہ ایک دن بڑا سٹار بنے گا۔ عمران خان کی اِس دس سالہ ڈھٹائی کے باوجود منصور اخترنے نہ بڑا سٹار بننا تھا اور نہ بنا۔عثمان بزدار بھی عمران خان کا منصور اختر ہے اور جیسے منصور اختر کے معاملے میں قوم نے دس سال تک عمران خان کی ڈھٹائی برداشت کی تھی، کیا عثمان بزدار کے معاملے میں بھی اسے یہی کرنا ہو گا؟ لیکن سیاست میں دس سال کا وقت نہیں ملتا اور نہ عمران خان کو ملے گا۔

جس وقت عمران خان اپنے منصور اختر کو وسیم اکرم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، عین اُسی وقت پورے مُلک کے میڈیا میں ایک ویڈیو وائرل ہو رہی تھی، جس میں وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ سپریم کورٹ سے نا اہل شخص جہانگیر ترین کے ترلے کرتے پائے گئے : ’’سر! سرورکو کنٹرول کریں، ورنہ اس نے وزیراعلیٰ (عثمان بزدار) کو نہیں چلنے دینا‘‘۔ ساتھ میں بیٹھے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی بھی اپنے ساتھی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’’ہاں، سرور کو کنٹرول کریں‘‘۔بھان متی کے کنبے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر محلے کے مختلف لوگوں کو پکڑ پکڑ کر ایک گھر میں بند کرکے کہا جائے کہ تم ایک خاندان ہو تو وہ سب کے سب ایک دوسرے کی ٹانگ تو کھینچیں گے ہی، ہو سکتا ہے نوبت مار کٹائی اور سر پھٹول تک پہنچ جائے۔

وفاق کی طرح پنجاب میں بھی حکومت ’’کشش ثقل ‘‘کی طاقت سے وجود میں آئی ہے ۔ پتہ نہیں کس کس لوہے، ہیرے اور کوئلے کو زمینی طاقت کے مرکز نے اپنی طرف کھینچ کر ایک جگہ جمع کردیا۔ بے سر پیر کی شراکت داریوں میں بھی ایسی بدگمانیاں عام ہوتی ہیں، جیسی اس وقت حکومتی اتحاد میں دیکھنے میں آ رہی ہیں،یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اتحادیوں کی کمزور بیساکھیوں پر کھڑی ہے، کیونکہ نہ تو مرکز میں اور نہ ہی پنجاب میں پی ٹی آئی کو مخلوط حکومت میں فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

آٹھ دس بندے اِدھر اُدھر ہونے سے حکومت دھڑام سے گر سکتی ہے۔۔۔ (اگر اپوزیشن گرانے میں دلچسپی رکھتی ہو تو)۔ مسلم لیگ (ق) کی تجربہ کار قیادت پی ٹی آئی کی اس کمزوری سے بخوبی واقف ہے،اِس لئے جب چاہے اور جیسے چاہے عمران خان کو بلیک میل کر سکتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ طارق بشیر چیمہ اور چودھری پرویز الٰہی والی ویڈیو مسلم لیگ(ق)نے خود لیک کی تاکہ عمران خان کو انڈر پریشر لا کر مرکز اور پنجاب دونوں جگہوں پر مزید وزارتیں لی جا سکیں۔ ویسے بھی سینیٹ کے الیکشن کی وجہ سے اس کی ٹائمنگ اہم ہے۔

مَیں سمجھتا ہوں کہ ایسی ویڈیو لیک کرنے میں عموماً ان سے بھی زیادہ سمجھ دار لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے لگ رہا ہے کہ طاقتور لوگ پہلے حکومتوں کے بارے میں جس نتیجے میں تیسرے یا چوتھے سال تک پہنچتے تھے،موجودہ حکومت کے بارے میں تیسرے مہینے ہی میں پہنچ گئے ہیں ۔ اگر میرا یہ خدشہ درست ہے تو نئے پاکستان کا سہانا خواب دیکھنے والوں کے لئے یہ ڈراؤنا خواب بھی بن سکتا ہے۔بیورو کریسی اور پولیس پہلے ہی پی ٹی آئی حکومت سے نالاں نظر آتی ہے کہ حکومت کی ناتجربہ کاریوں نے انہیں دو تین ماہ میں ہی کئی کچوکے لگا دئیے ہیں۔ اب اگر سمجھدار اور طاقتور لوگ کچھ ایسا ہی محسوس کرنے لگ جائیں تو نئے پاکستان کا خواب چکناچور ہو سکتا ہے۔

ویسے بھی 100 دن کوئی زیادہ دور نہیں رہ گئے اور اس کے بعد حکومتی کارکردگی پر تجزیوں کا جو سونامی آئے گا اسے روکنا کسی کے بس میں نہیں ہو گا۔جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے،تو جب عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنایا گیا، مَیں نے پہلے ہی دن پورا کالم لکھا تھا کہ بارہ کروڑ آبادی کا صوبہ ڈمی یا پراکسی وزیراعلیٰ کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا اور یہ تجربہ لازمی طور پر نہ صرف ناکام ہو گا،بلکہ پنجاب ہی پی ٹی آئی کا واٹرلو ثابت ہو گا۔ اسی طرح ایک کالم میں لکھا کہ پنجاب کی موجودہ حکومت کی کارکردگی کا میاں شہباز شریف سے موازنہ تو ہو گا۔ ان پر 100 دن گزرنے پر تفصیلی بات ہو گی، فی الحال تو اتنا تبصرہ ہی کافی ہے کہ پنجاب میں ’’وزرائے اعلیٰ‘‘ کی تعداد گننے کے لئے ایک ہاتھ کی انگلیاں کافی نہیں ہوں گی،بلکہ شائد دوسرا ہاتھ بھی استعمال کرنا پڑ جائے۔

عثمان بزدار ایک،چودھری سرور دو، چودھری پرویز الٰہی تین، علیم خان چار، جہانگیر ترین پانچ اور عون چودھری چھ ۔۔۔ بیوروکریسی اور انتظامیہ پہلے ہی پی ٹی آئی سے نالاں ہے، پولیس بھی سخت اذیت میں ہے، کسی ایم پی اے یا ایم این اے کے کام نہیں ہو رہے۔ ویسے بھی ان بے چاروں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ان چھ وزراء اعلیٰ میں سے وہ کس کے پاس جائیں اور بیوروکریسی کو بھی پتہ نہیں لگ رہا کہ کس کی بات سنیں اور کس کی نہ سنیں۔ اتحادیوں کی بلیک میلنگ سونے پر سہاگہ ہے، کچھ ہی دِنوں میں سینیٹ انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے اور خفیہ رائے شماری میں کچھ بھی ممکن ہے۔ جیسے کرکٹ کپتانی کے دور میں عمران خان ہر بار منصور اختر کو کھلانے کی لازمی ضد کیا کرتے تھے، اسی طرح ملکی کپتانی کے دور میں وہ ہر مہینے عثمان بزدار کی ضد دہراتے ہیں، لیکن یہ کرکٹ نہیں ہے، بلکہ سیاست ہے اور اس میدان میں اختیارات کے لئے آپس کی جنگ اقتدار کا سورج غروب کر دیتی ہے۔

مزید : رائے /کالم