پنجاب میں کیا کھچڑی پک رہی ہے؟

پنجاب میں کیا کھچڑی پک رہی ہے؟
پنجاب میں کیا کھچڑی پک رہی ہے؟

  

اب تو ہر سمت سے آوازیں آ رہی ہیں،عثمان بزدار تگڑا ہے، عثمان بزدار مضبوط ہے، عثمان بزدار بااختیار ہے،وزیراعظم عمران خان سے لے کر وزراء تک سب اسی احسن کام میں لگے ہوئے ہیں، مجھے غلام حیدر وائیں یاد آ رہے ہیں۔وہ مردِ درویش بھی کئی سال تک پنجاب کا وزیراعلیٰ رہا۔ سب کو معلوم تھا کہ وہ وزارتِ اعلیٰ پر نواز شریف کے نمائندے کی حیثیت سے بیٹھے ہیں،مگر اُن کے بارے میں کبھی یہ سوال نہیں اُٹھا تھا کہ وہ مضبوط وزیراعلیٰ ہیں،بے اختیار ہیں یا بااختیار،انہوں نے اپنی شخصیت کا ڈنکا بجایا ہوا تھا اور ایسا کوئی خلا محسوس نہیں ہونے دیا تھا،جس سے یہ سوال جنم لے کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ کون ہے؟ مگر اب کچھ عجیب سی کھچڑی پک گئی ہے، اس کھچڑی میں کون کیا ہے،

کسی کو کچھ پتہ نہیں، قصے تو پہلے بھی چل رہے تھے، لیکن وہ ویڈیو کلب سامنے آنے کے بعد جس میں طارق بشیر چیمہ جہانگیر ترین سے شکایت کر رہے ہیں کہ گورنر پنجاب چودھری سرور کو روکیں،وہ عثمان بزدار کو چلنے نہیں دے رہے،ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ نزلہ ایک مرتبہ پھر پسماندہ علاقے کے شریف النفس وزیراعلیٰ پر گرا ہے،جن کی وزارتِ اعلیٰ گویا گڈی گڈے کا کھیل بن گئی ہے۔اگرچہ چودھری پرویز الٰہی اور خود چودھری محمد سرور نے فوراً ہی اپنے وضاحتی بیان جاری کر کے معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی،مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ ایک ایسا وزیراعلیٰ جسے پہلے ہی کریڈیبلٹی کے بحران کا سامنا ہے،جب ایسے واقعات کی زد میں آتا ہے تو اُس کی رہی سہی ساکھ بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ گورنر چودھری محمد سرور وزیراعلیٰ کے راستے میں رکاوٹ ہیں یا نہیں،سوال یہ ہے کہ آخر عثمان بزدار کو تین ماہ گزر جانے کے باوجود ایسی صورتِ حال کا سامنا کیوں ہے، بھلے عمران خان انہیں وسیم اکرم قرار دیتے رہیں،مگر فیصلہ تو میدان کرتا ہے، جہاں پرفارمنس دکھانا پڑتی ہے۔ وسیم اکرم صرف وسیم اکرم ہونے کی وجہ سے مشہور نہیں ہوا،اُس نے میدان میں کارکردگی دکھائی،وکٹیں لیں،بڑے بڑے کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، مشکل میچ جتوائے، تب جا کر اُن کا سکہ جما۔

عثمان بزدار کا تو ابھی تک پنجاب میں سکہ ہی نہیں چلا،سکہ جمانے کی بات تو دور کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ تجربہ کیوں کیا، ابھی تک یہ ایک راز ہے۔ تاہم اب چہ میگوئیاں ہونے لگی ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ایف آئی اے کی طرح عمران خان پنجاب کو بھی اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے، اِس لئے انہوں نے ایک گمنام اور ناتجربہ کار شخص کو وزیراعلیٰ بنایا۔ اب وہ ہر ممکن اُس کی سپورٹ کر رہے ہیں،لیکن گرفت ہے کہ ہو نہیں پا رہی۔اب عمران خان تو اپنے حساب سے بہتر فیصلے کر رہے ہیں،مگر مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ اُن کے فیصلوں سے مستفید ہو رہے ہیں،وہ کچھ اور بھی چاہتے ہیں۔

جھگڑا چونکہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی مداخلت سے شروع ہوا ہے، تو بقول چودھری پرویز الٰہی گورنر بھی عمران خان کا انتخاب ہیں، کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے کہ چودھری محمد سرور پنجاب میں حتمی طاقت کے خواہاں ہیں۔ اُن کی یہ خواہش اس قدر شدید ہے کہ انہوں نے شہباز شریف جیسے طاقتور وزیراعلیٰ کی موجودگی میں بھی اپنے آئینی اختیار سے بڑھ کر مداخلت شروع کر دی تھی، جس کی وجہ سے اُنہیں بالآخر استعفا دینا پڑا۔ اب تو ان کے نزدیک سب کچھ حلوہ ہے، عثمان بزدار جیسا کمزور وزیراعلیٰ اور چودھری محمد سرور کی طاقتور آرائیں لابی۔ وہ سینیٹر ہونے کی وجہ سے وزیراعلیٰ تو نہیں بن سکتے تھے،اِس لئے گورنر بنا دیئے گئے۔

عمران خان کا یہ فیصلہ اب اُنہیں خاصا پریشان کر رہا ہوگا۔ اگر وہ عثمان بزدار کے ذریعے پنجاب پر اپنا براہِ راست کنٹرول رکھنا چاہتے تھے تو پھر ضروری تھا کہ چودھری محمد سرور کو وفاق میں کوئی وزارت دے کر پنجاب سے دور کر دیتے، اُنہیں گورنر کا عہدہ دے کر گویا عثمان بزدار کے سر پر ایک تلوار لٹکا دی گئی ہے۔اب وہ دباؤ میں آکر لاکھ انکار کریں کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے امور میں مداخلت نہیں کر رہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بے اختیار رہ ہی نہیں سکتے۔ ان کی باڈی لینگوئج بتاتی ہے کہ انہیں اختیارات سے محبت ہے،پھر ان کے ذہن میں غالباً یہ بھی ہے کہ پنجاب میں برادری ازم کی سیاست ان سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا،اِس لئے کمزور بنیادوں پر کھڑی وفاق اور پنجاب کی حکومتیں ان کی محتاج رہیں گی۔ عمران خان اگر عثمان بزدار کو وسیم اکرم سمجھتے ہیں تو یہ بھی نہ بھولیں کہ چودھری محمد سرور شاہد آفریدی ہیں،جو کریز سے نکل کر چھکے مارنے کا عادی ہے۔

کوئی طاقتور وزیراعلیٰ ہوتا تو تحریک انصاف کے اتحادیوں کو حدود میں رہنے کی عادت پڑ جاتی۔ اب وزیراعلیٰ چونکہ ایک ایسا شخص ہے،جس کے بارے میں جان بوجھ کر منفی باتیں پھیلائی جاتی ہیں اور اُنہیں قبول بھی کر لیا جاتا ہے،اِس لئے مسلم لیگ(ق) نے موقع بہتر جان کر ایک شوشہ چھوڑ دیا، یہ ایک شعوری کوشش ہے،جس کے ذریعے عمران خان اور عثمان بزدار کو بیک وقت دباؤ میں لانا مقصود ہے، ساتھ ہی چودھری محمد سرور کو بھی یہ پیغام دینا ہے کہ پنجاب میں سیاست چودھری برادران کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ یہ ویڈیو کلپ چودھری پرویز الٰہی کے گھر میں بنا، کس نے بنایا اور صرف یہی کلب کیوں میڈیا کو فراہم کیا جس میں طارق بشیر چیمہ چودھری محمد سرور کی شکایت کر رہے ہیں۔

حقیقت وہی ہے،جو اس جمہوری تجربے کے آغاز پر بھی آشکار ہوئی تھی، جب یہ کہا جا رہا تھا کہ چودھری پرویز الٰہی پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ چاہتے ہیں، لیکن عمران خان نہیں مان رہے۔ بالآخر چودھری پرویز الٰہی سپیکر شپ کے لئے راضی ہو گئے، لیکن ان کے دِل میں ابھی تک وزارتِ اعلیٰ کا کانٹا چبھ رہا ہے۔ وہ پنجاب کے حالات پر اندر ہی اندر خوش ہوتے ہیں کہ جب حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے تو عمران خان ان کی طرف ضرور دیکھیں گے، اس ایکشن کے بعد چودھری پرویز الٰہی نے یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ پنجاب میں طاقت کا دوسرا مرکز ظہور پیلس ہے، گورنر ہاؤس نہیں، کہنے کو مسلم لیگ (ق) کے رہنما یہ کہتے رہے کہ وہ بلیک میلنگ پر یقین نہیں رکھتے،

جس کے ساتھ ہیں، پھر اس کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں، مگر جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے تو صاف لگ رہا ہے کہ چودھری برادران سپیکر شپ پر اکتفا نہیں کرنا چاہتے، ان کی نظریں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر ہیں۔ وہ لاکھ کہتے رہیں کہ عثمان بزدار کو با اختیار وزیراعلیٰ سمجھتے ہیں، لیکن عملاً وہ انہیں کمزور رکھنا چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ اور گورنر میں کوئی ایسی انڈر سٹینڈنگ قائم نہ ہو جائے،جو چودھری برادران کے پنجاب میں کردار کو کم کر دے۔ یہ الزام لگایا گیا کہ چودھری محمد سرور وزیراعلیٰ کو کمزور کر رہے ہیں، اُن کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان بھی غالباً ایسی باتوں سے بے خبر نہیں،انہوں نے اس واقعہ کے فوراً بعد گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے لاہور میں ملاقات کی، تاکہ یہ تاثر دور کیا جائے کہ گورنر اور وزیراعلیٰ میں اختیارات کی کوئی کشمکش ہے۔اس کے بعد عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس اعتماد کا اعادہ کیا کہ عثمان بزدار پنجاب کے لئے بہترین وزیراعلیٰ ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا جس طرح کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو منتخب کرتے ہوئے اُن سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوئی،اُسی طرح عثمان بزدار بھی وسیم اکرم کی طرح بہترین کھلاڑی ثابت ہوں گے۔مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے جس طرح مسلم لیگ(ق) کی طرف سے شکایت سامنے آنے پر خوشی کا اظہار کیا اور یہ تک کہہ دیا کہ اب اتحاد ٹوٹنے والا ہے اور پنجاب حکومت بھی مسلم لیگ (ن) کو مل جائے گی،

اُس پر اُن کے ساتھ اظہارِ ہمدردی ہی کیا جا سکتا ہے، جو پنجاب میں حکومت نہ بننے کی وجہ سے مچھلی کی طرح تڑپ رہے ہیں۔ زمینی حقائق سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔مسلم لیگ (ق) کو دس سال بعد اقتدار سے مستفید ہونے کا موقع ملا ہے۔تحریک انصاف کی وجہ سے چودھری فیملی کو نشستیں بھی توقع سے زیادہ مل گئیں۔ اب اُن کے لئے اس کے سوا کوئی آپشن نہیں کہ وہ موجودہ سیٹ اَپ میں شامل رہیں۔ اگر وہ اسے چھوڑتے ہیں تو انہیں اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے گا، جو انہیں ایک بار پھر عوام سے دور کر دے گا۔ اِس لئے مرکز یا پنجاب میں حکومتوں کو کوئی خطرہ نہیں۔البتہ پنجاب میں وزیراعلیٰ کو دام میں لانے کے لئے جس طرح مختلف شخصیات داؤ پیج آزما رہی ہیں، اُس سے پنجاب حکومت کی کارکردگی ضرور متاثر ہو رہی ہے۔ عمران خان تو عثمان بزدار کو طاقتور بنانے کی بہترین کوشش کر چکے ہیں، اب عثمان بزدار کو بھی چاہئے کہ اپنی حکومت کی دھاک بٹھائیں تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ رکاوٹوں میں گھرے ہوئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم