سرفی : لنڈ اباازاروں میں بھی ہر چیز ’’وی آئی پی ‘‘ غریب ریٹ سن کر واپس

سرفی : لنڈ اباازاروں میں بھی ہر چیز ’’وی آئی پی ‘‘ غریب ریٹ سن کر واپس

بہاولنگر(ڈسٹرکٹ رپورٹر) سردی میں اضافہ ہو تے ہی گرم کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ، متوسط طبقہ او غریب افراد کیلئے (بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

تن کو ڈھانپنا بھی چیلنج بن گیا، موسم سرد ہونیکی وجہ سے شہریوں نے گرم کپڑوں، جوتوں سمیت دیگر سامان کی سستے داموں خریداری کیلئے لُنڈا بازار کر رُخ کر لیا، جبکہ طلباء کے یونیفار م کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر نے لگیں۔ ملبوسات اور جوتوں کی قیمتوں میں دوکانداروں نے خود ساختہ اضافہ کر کے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا۔ مذکورہ اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوجانے کی وجہ سے موجودہ حالات میں متوسط اور غریب طبقہ کے افراد کیلئے خود کو سردی سے محفوظ رکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ لنڈا بازاروں میں خریداری کیلئے آنے والے شہریوں کہ مہنگائی نے جینا مشکل کر دیا ہے ۔ سردی کے موسم میں خود کو محفوظ رکھنا کسی چیلنج سے کم ترہر گز نہیں۔ شہریوں کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ آئے روز طلباء کے یونیفار م میں تبدیلی کیے جانے کی وجہ سے کم آمدنی والے والدین کیلئے بچوں کی نت نئی جر سیاں، سویٹر اور جوتے خرید کر نا کسی صورت بھی آسان دکھائی نہیں دیتا۔ جبکہ والدین پہلے ہی بھاری بھرکم فیسوں اور ٹرانسپورٹ کے کرایہ جات کی ادائیگی کی وجہ سے سخت اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں ۔ ملبوسات اور جوتوں کی قیمتوں کا درست انداز میں تعین نہ ہونے کی وجہ سے عوام کی پریشانیوں میں روز بروز اضافہ ہونے سے ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی نا ممکن ہو چکا ہے۔ جبکہ دکانداروں اور لُنڈا بازاروں میں سجے سٹالز کے مالکان سے مہنگائی پر بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ خریداری کافی مہنگی ہو چکی ہے ہمیں بھی سامان کی ترسیل مہنگے داموں ہوتی ہے ۔ مہنگا خرید کر سستا کیسے بیچ دیں؟۔ ہم بھی اسی معاشرہ کا حصہ ہیں اور ہمیں بھی بچوں کی روز ی کیلئے جتن کرنا پڑتے ہیں۔شہریوں نے مہنگائی کے اس ڈرون حملے کا مورود الزام حکومت کو ٹھہرایا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر