بہاولنگر ‘ محکمہ تعلیم میں بھرتیاں ‘ گھپلوں کا انکشاف ‘ سی ای او سے رپورٹ طلب

بہاولنگر ‘ محکمہ تعلیم میں بھرتیاں ‘ گھپلوں کا انکشاف ‘ سی ای او سے رپورٹ ...

بہاولنگر(نمائندہ خصوصی)احتساب بیورو ملتان نے محکمہ تعلیم بہاولنگرمیں بھرتیوں میں گھپلوں پر سی ای اوسے رپورٹ مانگ لی، نیب انکوائری میں نان گزیٹڈ ( ٹیچرز اور نان ٹیچنگ سٹاف دونوں) کے بھرتیوں کا تفصیلی ریکارڈ طلب،سی ای او تعلیم نے پرنسپل گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول کنوئیرزاہد علی(بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر رانا کوثرخان سیکرٹری سمیت11رکنی اعلی سطحی کمیٹی قائم کردی گئی ،کمیٹی یہ کام 25 نومبر تک تمام ریکارڈ کا جائزہ لے گی جس میں اشتہار،کاغذات جمع کروانے، میرٹ لسٹ،سلیکشن لسٹ اور ڈسپیچ رجسٹر ، بین الاضلاعی تبادلوں کا ریکارڈ، جوائننگ ڈیٹ سے حاضری کا ریکارڈ، تنخواہ کے اجراء اور متعلقہ افسروں کے دستخط, تنخواہ جاری کرنے والے افسر نے اپوائنٹمنٹ لیٹر پر دستخط کئے ہیں، ملازم کی موجودہ پوسٹنگ کی جگہ اور اسکا دیگر ریکارڈ اگر متعلقہ ریکارڈ میں سے کچھ غائب ہے تو کیا ذمہ داران کے خلاف کوئی ڈسپلن کی کاروائی کی گئی ہے کمیٹی کی رپورٹ واضح ہو جس میں تجاویز اور کاروائی مستند ہو ریکارڈ کا جائزہ DDO وائز یعنی متعلقہ تنخواہ جاری کرنے والے افسر وں سے لیا جائے کمیٹی ہر ملازم کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لے گی کمیٹی واضح اور کلئیر نتائج بتائے گی اور ریکارڈ کی تصدیق کرے گی کمیٹی جہاں ضرورت پڑے اکاؤنٹس آفیسر سے مدد لے سکتی ہے۔ 8 نومبر 2018 کو نیب آفس ملتان میں میٹنگ کے دوران یہ ہدایت جاری کی گئی کہ تحصیل چشتیاں اور فورٹ عباس پر 25 نومبر 2018 تک جبکہ تحصیل بہاولنگر, منچن آباد اور ہارون آباد پر 15 دسمبر 2018 تک رپورٹ جمع کروائے گا جس میں اگر کوئی غیر قانونی بھرتی ہے تو اس کو بیان کریں۔جبکہ میگا کرپشن میں ملوث ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ دفتر کے سینئر ایڈیٹرزجاوید اختر ،مقصود احمد،محمد مختار،فیاض احمد ساجد،چوہدری محمد اسلم،ساجد محمود،اسسٹنٹ اکاؤنٹ آفیسرعبد الستار فاروقی،ندیم احمد ،محمد رفیق،ساجد محمود،حسن محمود،غلام یٰسین بھٹی،کین آپریٹر،،نصراللہ،محمد یٰسین اور محکمہ ایجوکیشن تحصیل چشتیاں کی ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر زنانہ شمیہ اکرم، شمیہ اختر ،اظہر بتول،ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر(مردانہ)محمد نصراللہ، جونیئر کلرک محمد طاہر شہزاد،محمد جاوید اقبال سمیت166افسران وملازمین کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس بھجوایا دیاگیا ہے ۔

رپورٹ طلب

مزید : ملتان صفحہ آخر