پارسل ویگنیں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے ‘ سامان کی ترسیل بند ‘ تاجروں میں تشویش

پارسل ویگنیں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے ‘ سامان کی ترسیل بند ‘ تاجروں میں تشویش

خانیوال (نما ئندہ پاکستان ،نامہ نگار) ریلوے حکام اور نجی شعبہ کی ملی بھگت کے باعث لاہور سے کوئٹہ تک لاکھوں روپے کی مال برداری کا کام ٹھپ ہوکر رہ گیا۔تفصیل کے مطابق لاہور (بقیہ نمبر42صفحہ12پر )

سے براستہ فیصل آباد کوئٹہ آنے اور جانے والی 23اپ اور24ڈاؤن اکبر ایکسپریس کے ساتھ سامان کی ترسیل کے لیے دو پارسل ریلوے ویگنیں(بریک وان)پر تاجروں اور دیگر لوگوں کا سامان لگ بھگ 30ریلوے اسٹیشنوں پربھیجا جاتا تھا ۔مگر بد قسمتی سے پہلے مبینہ طور پر ریلوے کے کرپٹ حکام نے ایک بریک وان نجی شعبہ کے حوالے کی اور اب دوسری بریک وان بھی سامان کی ترسیل کے لیے نجی شعبہ اے اے کمپنی کے حوالے کردی ہے۔جس سے پاکستان ریلو ے کو ماہا نہ کڑورو ں روپے کا نقصان کا ٹیکہ لگ رہا ہے ۔لاہور سے کوئٹہ تک ریلوے پارسل آ فسوں کے ذریعے اکبر ایکسپریس پر جن اہم ا سٹیشنوں پر سامان بھیجا جاتا تھا ان میں لاہور، شیخوپورہ ،سانگلاہل،فیصل آباد ، گوجرہ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ،شورکوٹ،خانیوال ،جہانیاں،بہاولپور ،ڈیرہ نواب ،لیاقت پور،خان پور،رحیمیارخان،صادق آباد ،میر پورمتھیلو،گھوٹکی،پنوں عاقل ،روہڑی سکھر،شکار پور ،جیکب آباد،ڈیرہ اللہ یار ڈیرہ مراد جمالی ،بختیار آباد ڈومکی،سبی، آب گم،مچھ ،کول پور ر اور کوئٹہ شامل ہیں۔ریلوے حکام کی جانب سے دوسری بریک بھی نجی شعبہ کو دےئے جانے کے باعث لاکھوں روپے کا سامان جو ان ا سٹیشنوں سے پاکستان ریلوے کے پارسل آفسوںے بک کیا تھا نجی شعبہ کی طرف سے بریک وان فراہم نہ کرنے کے باعث پاکستان ریلوے پارسل آفسوں میں پڑا خراب ہورہا ہے۔ جبکہ اے اے کمپنی جس نے مال برداری کا ٹھیکہ لیا ہے ڈھڑلے سے پرا ئیو یٹ طور پر سامان بک کر کے دونو ں پارسل وان میں سامان کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے اور لاکھو ں روپے روزانہ کما رہی ہے ۔جبکہ پاکستان ریلوے کے پارسل آ فس اکبر ایکسپریس کے ذریعے بھیجے جانے والے سامان کی بکنگ بھی نہیں کر رہے اور سابقہ بک کیا ہوا سامان بھی روانہ نہیں کر رہے ۔جس سے تاجروں اوردیگر افرادجو کہ پاکستان ریلوے کے ذریعے سامان منگواتے اور بھیجتے تھے ان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ان حلقوں نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد ،چئیرمین ریلوے بورڈ ، جنرل منیجرکمرشل ریلویز سے فوری نوٹس لے کر اکبر ایکسپریس سے پاکستان ریلوے کے پارسل آ فسوں کے ذریعے مال برداری تسلسل سے شروع کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر