اللہ انسان کی توبہ کا شدت سے منتظر ، دنیا کیساتھ آخرت کی فکر بھی ضروری ،مولانا ابراہیم

اللہ انسان کی توبہ کا شدت سے منتظر ، دنیا کیساتھ آخرت کی فکر بھی ضروری ...

رائے ونڈ ( این این آئی) رائیونڈ تبلیغی اجتماع کا دوسرا مرحلہ بھی رقت آمیز دعا کے بعد اختتام پذیر ہوگیا، اسلام کی سربلندی اورملک کی ترقی وسلامتی کے لیے خصوصی دعا کرائی گئی،لاہور سمیت پنجاب، فاٹا اور بلوچستان کے علاوہ مختلف ممالک سے آئے لاکھوں فرزندان اسلام شریک ہوئے، اجتماع میں علما کرام نے شرکا کو قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کی تلقین کی اوراچھی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے منع کرنے کا فلسفہ بیان کیا،اجتماع کے شرکا کو دین اسلام کی اہمیت اور نبی آخرالزماں کی زندگی کے بارے میں بتایا گیا۔ فرزندان اسلام نے بھی آئندہ زندگی دین سیکھنے اور سکھانے کے عزم کا اعادہ کیا،اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے، دعا کے دوران شرکا اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہے، اجتماع میں پاکستان اور امت مسلمہ کی نصرت و کامرانی کی دعائیں کی گئیں۔ اختتامی دعامولانا محمد ابراہیم آف انڈیانے کروائی ۔اجتماع کی مختلف نشستوں سے خطا ب کرتے ہو ئے مولانا خورشید احمد ،مولانا محمد اسماعیل اورمولانا محمد ابراہیم آف انڈیا نے کہا کہ ہر کلمہ گو دنیا کیساتھ ساتھ آخرت کی فکر بھی کرئے ہر انسان کو جنت میں لیجانے کی تڑپ اور فکر سینوں میں پیدا کرنا ہوگی تبلیغی جماعت کی ترتیب پہلے سہ روزہ ،پھر عشرہ پھر چلہ لگا کر دین کو سیکھا جائے ہمیں زندگی کے دیگر معاملات کی طرح تبلیغ کے لئے وقت نکالنا چاہیے اس سے ایک تو دین کی سوجھ بوجھ آئیگی دوسرا زندگی کا اصل مقصد واضح ہوگا۔انہوں نے کہا کہ انسان کے پیدا ہونے سے لیکر مرنے تک کے ہر عمل کی دعا موجود ہے ،اگر ہم دعائیں مانگنے کے عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں گے تو شیطان ہم سے کوسوں دور بھاگ جائے گا ،آج ہم جن مصائب اور مسائل کا شکار ہیں یہ سب دین سے دوری کے نتائج ہیں جو ابھی ہمیں مزید بھگتنے ہیں ،اللہ انسان کی توبہ کا شدت سے منتظر ہے ،انسان کی تقدیر دعاؤں میں پوشیدہ ہے ،آج بھی توبہ کرلیں تو تقدیر بدل سکتی ہے تبلیغ دین کا مشن ایک عظیم فریضہ ہے جسے ادا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے آپ کا انتخاب کیا ہے ،تبلیغ دین کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے گئے اور سب سے آخر میں خاتم النبین پیغمبر امام کائنات حضرت محمد ؐدنیا کی رہنمائی کیلئے مبعوث فرمایاگیا ،پیارے آقاؐ نے بھی دین الٰہی کی دعوت دینے کے دوران بے پناہ مشکلات اور مصائب کا سامنا کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کا پیغام بنی نوع انسان تک پہنچانے والوں کو مصائب جھیلنا پڑ تے ہیں ،افضل ہیں وہ انسان جو انسانیت تک اللہ کا پیغام پہنچا نے کیلئے اپنا گھر بار چھوڑ کر اور کاروبار کو ترک کرکے اپنے آپ کو مصیبتوں میں ڈال کر دعوت و تبلیغ کا عظیم مشن انجام دیتے ہیں انہوں نے مندوبین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اللہ کے راستے میں جان،مال اور وقت لگانے والوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں اور اس کے عوض دنیا اور آخرت کی کامیابیاں انہیں نصیب کردیتے ہیں اس لئے دل شکستہ ہونے کی بجائے دعوت کے کام کو اپنائے رکھیں اللہ غیبی طاقت سے آپ کی مدد کرے گا ۔

رائیونڈاجتماع

مزید : صفحہ آخر